BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 January, 2004, 20:08 GMT 01:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غیرت کے نام پر قتل میں سماج کا جبر؟

شائستہ عالمانی
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ حکومت شائستہ عالمانی کی ہر طرح سے حفاظت کرے گی۔

تقریباً بیس سال پہلے ہم چند دوست بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے کہ گفتگو کا رخ ’غیرت کے نام پر قتل‘ کی طرف مڑ گیا۔ ظاہر ہے کہ سب کی اپنی اپنی رائے تھی۔ انہی میں میرے ایک دوست جو میرے ہم قبیلہ ہیں اورگھاٹ گھاٹ کا پانی پیئے ہوئے ہیں، کہنے لگے کہ جب ان کی شادی ہوئی تو انہوں نے اپنی نئی نویلی دلہن کو جو نصیحت کی وہ کچھ اس طرح سے تھی:

’دیکھو! مجھے تمہارے ماضی سے کوئی مطلب نہیں، اور نہ تمہیں میرے ماضی سے کوئی سروکار ہونا چاہئے۔ اور ہاں، اگر تم سے نیت یا عمل کی کوئی خیانت سرزد ہوجائے تو میرے کانوں میں اس کی بھنک نہیں پڑنی چاہئے، ورنہ میں تمھارے ساتھ ’روایتی‘ سلوک کروں گا۔ اور ایسا میں اس لئے نہیں کروں گا کہ میں خود کو غیرتمند سمجھتا ہوں۔ بلکہ ایسا مجھے رشتہ داروں کے زہر بھرے طعنوں سے بچنے کے لئے کرنا پڑے گا۔‘

بسا اوقات انسان کو نہ چاہتے ہوئے بھی وہ کچھ کرنا پڑتا ہے جس کا عام حالات میں تصور بھی ممکن نہیں ہوتا۔ غیرت کے نام پر بیٹے کے ہاتھوں ماں کا قتل؛ طلاق کے مطالبہ پر بیٹی کے قتل میں ماں کی اعانت؛ باپ کا گلے میں پھندا لگا کر بیٹی کی جان لینا، بدنامی کا الزام لگنے پر باپ کا اپنے بیٹے کو اور بھائی کا بھائی کو گولی مارنا، اور بعض اوقات خاندانوں کے درمیان پشت ہا پشت تک چلنے والی دشمنیاں۔

اکثر اوقات تو معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لئے ضروری تحقیقات بھی نہیں کی جاتیں۔ بعض واقعات تو اس لئے رونما ہوتے ہیں کہ ایک فریق اپنے مخالف کو نیچا دکھانے یا پھر انتقام لینے کے لئے بدنامی کا جھوٹا الزام لگا دیتا ہے۔

جن واقعات کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے ان سے متعلق بعض لوگوں کو میں کسی حد تک جانتا ہوں (سوائے سمیہ سرور کے گھروالوں کے، جس کے قاتل کو، اخباری اطلاعات کے مطابق، اس کی ڈاکٹر ماں سہارے کے بہانے، لاہور میں حقوقِ انسانی کی وکیل حنا جیلانی کے دفتر لائی اور اپنے سامنے بیٹی کی کنپٹی میں سیسہ اترتے دیکھنے کے بعد اطمینان سے اپنی راہ لی)۔

یہ واقعات کسی مخصوص قبیلے یا قوم تک محدود نہیں ہیں بلکہ برصغیر میں بسنے والوں سے لے کر عرب دنیا، یہاں تک برطانیہ تک میں عرب اور پاکستانی تارکین وطن میں غیرت کے نام پر قتل کا معاشرتی رویہ موجود ہے۔

میاں بیوی کے تعلق میں خیانت پر طیش اور غصہ اور اس کے زیر اثر کسی انتہائی اقدام کا سرزد ہونا تو کسی حد تک سمجھ میں آتا ہے کہ رقابت کا جذبہ تو جانوروں اور پرندوں میں بھی دیکھنے میں آیا ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا عوامل ہیں جو انسان کو ماں، باپ، بیٹے، بیٹی، بھائی اور بہن جیسے خونی رشتوں کا خون کرنے پر اکساتے ہیں۔ آخر وہ لوگ جو اپنی عمر ایک دوسرے کو لگ جانے کی دعائیں دیتے ہیں کیوں جان کے درپے ہوجاتے ہیں؟

اس فعل کو انسانیت سوز، جہالت پر مبنی اور درندگی قرار دے کے اس کی مذمت کی جا سکتی ہے اور کی بھی جانی چاہئے۔

مگر میرے خیال میں انسان کو اس انتہائی اقدام پر سماج مجبور کرتا ہے۔ خاندان کی عزت، باپ دادا کا نام، جن لوگوں کے ساتھ بود وباش ہو ان کی چبھتی نظریں اور بعض اوقات سرعام طعنہ زنی اور حقہ پانی بند کر دیئے جانے کا خوف وہ عوامل ہیں جو انسان کو اپنی ’مجروح اور داغدار عزت‘ کو سماج کے متعین کردہ دستور کے مطابق بحال کرنے کی کوشش پر اکساتے ہیں۔ چاہے اس داغ کو اپنی عزیز ترین ہستی کے خون سے ہی کیون نہ دھونا پڑے۔ خاص کر جب ایسا کرنےکے بعد سماج انہیں ان کی ’کھوئی ہوئی عزت‘ لوٹا دینے کی ضمانت دیتا ہو۔

مجھے یاد ہے جب سن اٹھانوے میں کراچی میں ایک لڑکی رفعت آفریدی اور کنور احسن کی محبت کی شادی یا لڑکی کے والدین کے مطابق اس کے اغوا کی خبر کراچی کے اخبارات میں شائع ہوئی تو آفریدی ہونے کے ناطے مجھے دفتر میں عجیب تجربہ ہوا۔ جب میں اگلے روز صبح پہنچا تو دفتر کا چوکیدار، جو پختون تو تھا مگر آفریدی نہیں تھا، میرے پاس آکر کہنے لگا: ’صاب یہ کیا ہوگیا؟‘ اس کا انداز مجھ سے اظہار افسوس کرنے کا سا تھا۔

کراچی کے میرے ایک دوست نے مذاقاً کہا: ’یار اب تو ہم رشتہ دار ہوگئے ہیں۔‘ کراچی ہی کے ایک اور دوست کہنے لگے ’بھئی اب تو آپ ہمارے بھتیجوں کے ماموں بنیں گے‘۔ ظاہر ہے کہ یہ پڑھے لکھے اور انتہائی نستعلیق لوگ تھے۔ لیکن اس واقعہ پر انہوں نے اپنے ظرف اور ظرافت کے مظاہرے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ خیر یہ باتیں تو ان لوگوں نے کہیں جو اس وقت بھی میرے دوست تھے اور اب بھی میرے دوست ہیں اور ظاہر ہے کہ ان کی نیت میری دل آزاری کرنا نہیں تھی (میرا یہی خیال ہے)۔

لیکن اگر یہی باتیں کوئی شخص طنزاً کرتا تو مجھے نہیں معلوم میرا ردعمل کیا ہوتا۔

عزت اور غیرت کا تصور صدیوں سے ہر معاشرے میں کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے۔ بنیادی حقوقِ انسانی کے جدید تصور میں بھی جان، مال اور عزت کی حفاظت کا حوالہ ملتا ہے۔ ہمیشہ قوموں اور ملتوں کے لئے عزت کا باعث بننے والوں کے سینے پر تمغے سجائے گئے ہیں۔

عزت دینا، عزت افزائی کرنا، باعث عزت ہونا؛ عزت چھینا، عزت خاک میں ملنا، عزت لوٹنا اور زبان اور محاورہ کی ایسی ہی دوسری تراکیب اس بات کا ثبوت ہیں کہ عزت اور بے عزتی کا تصور خاصا قدیم اور اس کی جڑیں بہت گہری ہیں۔

مگر اس کی تشریح ہر معاشرے اور فرد کے نزدیک مختلف ہے۔

ایسے میں محض مذمت اور قانونی سازی اس کا حل نہیں ہے۔ اور نہ ہی صدر مملکت کے لئے ممکن ہے کہ وہ ہر متاثرہ فریق کی حفاظت کا حکم صادر کرتے رہیں جیسا کہ انہوں نے حالیہ دنوں میں صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والی شائستہ عالمانی کے معاملے میں کیا۔

غیرت کے نام پر قتل کو نہ تو آج کے کسی سماجی نظریہ کی رو سے جائز قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسلامی احکامات کی روشنی۔ بے شک قرآن میں زنا کو قابل حد جرم قرار دیا گیا ہے لیکن اس الزام کو ثابت کرنے اور پھر سزا پر عمل درآمد کا طریقہ بھی بہت ہی کڑا ہے۔ اور پھر جرم کا عدالت میں ثابت کرنا اور عدالت کی طرف سے سزا کا حکم صادر ہونا ہی کسی کو مجرم بناتا ہے۔ محض شک یا الزام کی بنیاد پر کسی بھی قانون کے تحت کسی شخص کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔

مگر اس سلسلے میں چاہے جتنے سخت قوانین بھی بنا لیے جائیں عزت اور غیرت کے نام پر قتل ناحق کو روکنے کے لئے فرد اور سماج کی سطح پر عزت کے تصور اور مفہوم کو صحیح تناظر میں پیش کرنے کی ضرورت بہرحال موجود ہے۔

اس وقت تو صورتحال یہ ہے کہ اگر کسی کی بہن، بیٹی یا بیوی پر بے وفائی کا جھوٹا الزام بھی لگ جائے تو وہ واقعتاً اپنے محلے، گاؤں اور جاننے والوں میں سر اٹھا کر نہیں چلتا۔ اور اس کی وجہ اجتماعی خاندانی نظام یا برادری سسٹم جس کی کئی افادیتیں اپنی جگہ مگر کچھ قباحتیں بھی ہیں۔ ایک قباحت یہ ہے کہ جس طرح ایک شخص کی انفرادی کامیابی پر پوری برادری یا قوم فخر کرتی ہے بالکل اسی طرح خاندان یا برادری کے کسی فرد کی انفرادی لغزش کو تمام لوگ اپنے لئے باعث شرم سمجھتے ہیں۔

کیونکہ اب وہ خود کو ’شرافت‘ کے مروجہ پیمانے پر ہلکا محسوس کرنے لگتے ہیں۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ ان معاملات میں ’عزت‘ کو عورت سے منسوب کر دیا گیا ہے۔ نیتجہ یہ ہے کہ ایک عاقل بالغ لڑکی جب اپنی مرضی سے، جس کی اجازت مذہب بھی دیتا ہے‘ شادی کرتی ہے تو اس کے گھروالے ہی اس کے جانی دشمن بن جاتے ہیں۔

سمجھنے اور سمجھانے کی بات یہ ہے کہ تمام انسان، مرد عورت، معاشرے کے یکساں شہری ہیں اور ان کو ایک جیسے حقوق حاصل ہیں۔ ایک عاقل، بالغ، تعلیم یافتہ لڑکی سے یہ حق کون چھین سکتا ہے کہ وہ اپنے شریک حیات کا انتخاب خود کرے۔

یہ کہنا کہ شادی دو افراد کا نہیں بلکہ دو خاندانوں کا ملن ہوتا ہے معاشرتی ہم آہنگی کے لئے اچھی بات ہے مگر اس ملن کی بنیاد جن ستونوں پر کھڑی ہوتی ہے وہ میاں بیوی ہی ہوتے ہیں۔ اور اگر ان دونوں میں موافقت پیدا نہ ہو تو پھر ہم آہنگی کی جگہ فساد پیدا ہو تا ہے۔ اگر میاں بیوی میں سے ایک بھی دوسرے سے خوش نہ ہو تو سب کی زندگی جہنم بن جاتی ہے جس کی آگ میں نہ صرف دونوں خاندان جلنے لگتے ہیں بلکہ اگر زور زبردستی سے اس رشتہ کو برقرار رکھا جائے تو اس کا اثر بچوں پر بھی پڑتا ہے۔

شادی کے کامیاب ہونے کی ضمانت نہ تو خاندان کی مرضی سے ہونے والی شادی کے بارے میں دی جا سکتی ہے اور نہ ہی اپنی مرضی سے۔ اس کا انحصار تو دونوں کے مزاج اور پسند ناپسند پر ہوتا ہے۔ اور زندگی بہرحال انہی دونوں کو گزارنا ہوتی ہے تو کیوں نے شریک حیات کا انتخاب انہیں ہی کرنے دیا جائے۔ خاندان اس رشتہ کو پائیدار بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

بہرحال اصل بات یہی ہے کہ غیرت یا عزت کے نام پر قتل ناحق کو روکنے کے لئے اجتماعی سوچ کو بدلنا ہوگا۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد