BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 15 December, 2003, 11:47 GMT 16:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افشین مسرت قتل کیس: مزید انکشافات

مقتولہ کے والدہ مسرت سہو
مقتولہ کے والد مسرت سہو

ملتان میں مقامی پولیس نے افشین مسرت کے والد مسرت سہو کا سات روز کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔ انہیں اتوار چودہ دسمبر کو ڈیوٹی میجسٹریٹ عرفان شیخ کی عدالت میں پیش کیا گیا ۔

پولیس کا موقف تھا کہ انہیں ملزم سے آلہ قتل برآمد کرنا ہے جبکہ ان کے ساتھ شریک جرم دوسرے افراد کے بارے میں معلومات حاصل کرنا بھی درکار ہے۔

ایڈوکیٹ مسرت حسین سہو کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ انہوں نے چھبیس نومبر عید کے روز خود کو پولیس کے حوالے کر دیا تھا اور اپنی بیٹی کے قتل کے جرم کا اعتراف بھی کیا تھا۔ تاہم پولیس نے ان کی باقاعدہ گرفتاری سات دسمبر کو ظاہر کی اور اسی روز عدالت سے ان کا سات روز کا جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کیا تھا۔

اعلیٰ تعلیم یافتہ افشین کی بارہ نومبر کو اپنے والد کے گھر واقع گلشن مہر کالونی ملتان میں ہلاکت ہوئی۔ ان کے اہل خانہ نے ان کی وفات کو طبعی قرار دیتے ہوئے انہیں اس روز آبائی قبرستان ماڑی سہو تحصیل کبیر والا میں سپرد خاک کر دیا تھا۔ تاہم دو روز بعد ہی انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے پولیس تھانہ گلگشت کو ایک درخواست میں اس خدشہ کا اظہار کیا کہ افشین کی موت طبعی نہیں بلکہ انہیں عزت کے نام پر قتل کیا گیا۔

پولیس اپنی روایتی سُستی کر رہی تھی کہ بیس نومبر کو صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف نے خواتین کے خلاف جرائم کی مذمت کرتے ہوئے افشین مسرت کی پر اسرار ہلاکت کی اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم دے دیا۔

افشین مسرت کا دادا اللہ دتہ
کیا قتل کا فیصلہ افشین کے دادا اللہ دتہ نے کیا تھا؟

اقرار جرم کرتے ہوئے افشین کے والد مسرت سہو نے یہ دعوی کیا کہ اس جرم میں اس کا کوئی شریک نہیں لیکن میڈیکل بورڈ کی رپورٹ اور پولیس تفتیش کی روشنی میں اب تک یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس قتل میں ایک نہیں بلکہ دو سے زیادہ افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے۔

پولیس حکام کے مطابق اپنے اقرار جرم میں مسرت سہو نے یہ بھی کہا تھا کہ افشین کا گلا دبانے سے پہلے انہوں نے اپنی بیٹی کو نشہ آور خوراک کے ذریعے بے ہوش کیا تھا تاکہ وہ مزاحمت نہ کر سکےلیکن کیمیکل ایگزامینر کی رپورٹ کے مطابق اس کی تصدیق نہیں ہو سکی اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق افشین کی طرف سے کی جانے والی مزاحمت کے نشان بھی اس کے جسم پر ملے ہیں۔

افشین مسرت کی شادی ان کی مرضی کے خلاف ان کے چجا زاد نعمان اظہر سے اس سال سترہ ستمبر کو کر دی گئی جبکہ وہ اپنے خالہ زاد حسن مصطفیٰ کو اپنا جیون ساتھی بنانا چاہتی تھیں۔

شادی کے چند روز بعد وہ اپنے میکے آگئی تھیں اور اپنے شوہر کے گھر جانے سے انکار کر دیا تھا۔ خاندانی دباؤ سے تنگ آکر یکم نومبر کو وہ اپنا میکہ چھوڑ کر حسن مصطفی کے ساتھ اسلام آباد پہنچ گئیں جہاں دونوں نے بھارہ کہو کے علاقے میں ایک مکان کرائے پر لیا اور طلاق کے لئے وکلاء سے صلاح مشورہ کیا ۔ دوسری طرف ان کے خاندان والے چار دن بعد ان کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو گئے تو دونوں نے ایک عزیز کرنل عالمگیر کے ہاں پناہ لے لی۔

کرنل عالمگیر نے افشین کو ان کے ایک عزیز کرنل خالد سہو کے حوالے اس شرط پر کیا کہ افشین کی مرضی کے مطابق معاملے کو طے کیا جائے گا اور اس کی زندگی کی حفاظت کی جائے گی جبکہ افشین دار الآمان جانا چاہتی تھی۔

مسرت سہو اور ان کے ساتھی آٹھ اور نو نومبر کی درمیانی شب افشین کو ملتان لے آئے جہاں تین روز بعد افشین کو قتل کر دیا گیا۔

پولیس اب تک صرف مسرت سہو اور افشین کے ماموں نوید اختر کو گرفتار کر سکی ہے جبکہ مشتبہ افراد جن میں مقتولہ کے دادا اللہ دتہ سہو، فضیل رضا، حماد کرامت، توفیق احمد، افشین کا بھائی ارسلان اور مسرت سہو کے دو وکیل دوست مظہر دھرالہ اور نعیم تھہیم بیس دسمبر تک صمانت قبل از گرفتاری پر ہیں۔

تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں پولیس تفتیش سے مطمئن نہیں ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد