BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 10 February, 2004, 14:53 GMT 19:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حدود آرڈینینس، بحث کی ضرورت‘
سن دو ہزار دو میں 461 خواتین کا قتل
سن دو ہزار دو میں 461 خواتین کا قتل
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے ملک میں حدود آرڈینینس اور دیگر اسلامی قوانین پر بحث ہونے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے قوانین پر بھی بات کی جانی چاہئیے جوجنسی زیادتی جیسے جرئم سے متعلق ہیں۔

خواتین کے حقوق سے متعلق ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل مشرف نے کہا کہ پاکستانی مردوں کو خواتین سے متعلق اپنے رویے بدلنا ہوں گے اور زیادہ مہذب سلوک کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

جنرل مشرف کا کہنا تھا کہ کارو کاری یا غیرت کے نام پر قتل کی لعنت کو جلد از جلد ختم ہونا چاہئیے اور کہاہے کہ حکومت خاندان کی عزت کے نام پر ہونے والے جرائم کا سختی سے قلع قمع کرے گی۔

پاکستان کے ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق ملک میں غیرت کے نام پر قتل کی وارداتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور صرف سن دو ہزار دو میں چار سو اکسٹھ عورتوں کو ان کے خاندان والوں نے قتل کیا اور تقریباً اتنی ہی تعداد میں عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔

بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد