 |  سن دو ہزار دو میں 461 خواتین کا قتل |
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے ملک میں حدود آرڈینینس اور دیگر اسلامی قوانین پر بحث ہونے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے قوانین پر بھی بات کی جانی چاہئیے جوجنسی زیادتی جیسے جرئم سے متعلق ہیں۔ خواتین کے حقوق سے متعلق ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل مشرف نے کہا کہ پاکستانی مردوں کو خواتین سے متعلق اپنے رویے بدلنا ہوں گے اور زیادہ مہذب سلوک کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ جنرل مشرف کا کہنا تھا کہ کارو کاری یا غیرت کے نام پر قتل کی لعنت کو جلد از جلد ختم ہونا چاہئیے اور کہاہے کہ حکومت خاندان کی عزت کے نام پر ہونے والے جرائم کا سختی سے قلع قمع کرے گی۔ پاکستان کے ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق ملک میں غیرت کے نام پر قتل کی وارداتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور صرف سن دو ہزار دو میں چار سو اکسٹھ عورتوں کو ان کے خاندان والوں نے قتل کیا اور تقریباً اتنی ہی تعداد میں عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔ |