BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Tuesday, 10 February, 2004, 17:18 GMT 22:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حدود آرڈیننس کے پچیس سال
حدود آرڈیننس متنازعہ رہا ہے
حدود آرڈیننس متنازعہ رہا ہے
صدر پرویز مشرف نے ملک میں حدود آرڈینینس اور دیگر اسلامی قوانین پر بحث کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے قوانین پر بھی بات کی جانی چاہئیے جوجنسی زیادتی جیسے جرئم سے متعلق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی مردوں کو خواتین سے متعلق اپنا رویہ بدلنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ کارو کاری یا غیرت کے نام پر قتل کی لعنت کو جلد از جلد ختم ہونا چاہیئے اورحکومت خاندان کی عزت کے نام پر ہونے والے جرائم سے سختی سے نمٹے گی۔ پاکستان کے ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق ملک میں غیرت کے نام پر قتل کی وارداتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور صرف سن دو ہزار دو میں چار سو اکسٹھ عورتوں کو ان کے خاندان والوں نے قتل کیا اور تقریباً اتنی ہی تعداد میں عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔

آپ کے خیال میں حدود آرڈیننس سےگزشتہ پچیس برسوں میں خواتین کو کیا فائدہ پہنچا ہے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں


عاصم رضا مرزا، گجرات، پاکستان: حدود آرڈیننس میں اگر کوئی کمی رہ گئی ہے تو اسے ضرور دور کیا جانا چاہئے، اس میں علماء، خواتین اور معاشرے کے بزرگوں کی رائے شامل ہونی چاہئے اور اس قانون کو اسلام اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق بنانا چاہئے۔

سید حسن، کینیڈا: حدود آرڈیننس جنرل ضیاء الحق کے بنائے ہوئے قوانین میں سے ایک ہے جس کی انتہا پسند لوگوں نے مذہب کے نام پر حمایت کی ہے۔ اس طرح کے لوگ اپنے مقاصد کے لئے مذہب کا استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح کا قانون شرمندگی کا باعث ہے، اور پولیس اور عدلیہ میں کرپشن کا ذریعہ بھی۔ اس قانون کی وجہ سے پاکستان کا نام بدنام ہوا ہے۔

شیرین گل، نیوزی لینڈ: میرے خیال میں اس سے عورتوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے۔ ویسے ہی ہمارا سِسٹم چلا آرہا ہے! شرم آنی چاہئے ان کو جو عورتوں سے اس طرح سلوک کرتے ہیں۔ اسلام میں عورتوں کے ساتھ عزت سے ہمیشہ انصاف ہوتا ہے۔

خانم سمرو، کراچی: یہ حقیقت ہے کہ حدود آرڈیننس نے ایک عام پاکستانی عورت کو کوئی فائدہ نہیں دیا ہے بلکہ نقصان ہی دیا ہے۔ لیکن یہ کوئی اتنا بڑا ایشو نہیں ہے کہ اسے جس طرح ایکسپوز کیا جارہا ہے اور دنیا کو یہ بتایا جارہا ہے کہ پاکستان میں عورتوں کو حدود آرڈیننس کے نام پر قتل کیا جارہا ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ عورتوں کو جتنی آزادی اور عزت ایک اسلامی معاشرے میں حاصل ہے وہ کسی ویسٹرن معاشرے میں حاصل نہیں۔

پرویز لِلگار، دوبئی: یہ ایک غلط قانون ہے۔ اس کے ذریعے اسلام جیسے دین کی غلط تشریح کی جاتی ہے اور یہ قانون صرف اور صرف عورتوں کو ہراساں کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسا کس طرح ہوسکتا ہے کہ بدکاری کرتے ہوئے کوئی گواہوں اپنے سامنے بٹھائے؟ اصل میں اسلام کو سب سے زیادہ نقصان اس کی غلط تشریح نے پہنچایا ہے۔ ہمارے سامنے جو مذہب ہے وہ جمود کا شکار ہے۔ آج ہم قرآن کریم کی پیروری کرنے کے بجائے روایت پر بھروسہ کرتے ہیں جو کہ اصل فساد کی جڑ ہے۔

ہارون رشید، سیالکوٹ: کیا اس سے پہلے اس ملک میں خواتین کے لئے کوئی قانون نہیں تھا؟ بات صرف کانفرنس کرلینے سے ختم نہیں ہوجاتی، اسے لاگو کرنا بھی حکومت کا کام ہے اور جب تک کوئی قانون سختی سے لاگو نہیں ہوگا ایسے کسی قانون کا کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

محمد عامر خان، کراچی: اچھا معاشرہ بنانے کے لئے اچھے کردار کے انسانوں کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ قانون یا آرڈیننس کی۔ حدود آرڈیننس بھی رجعت پسند ملاؤں کی ایجاد ہے جنہوں نے اس آرڈیننس کو منظور کروا کر ظلم و ستم کے نئے قانونی راستے فراہم کر دیے۔

مقصود قریشی، میرپور، کشمیر: حدود آرڈیننس کا مسئلہ بھی امریکہ کے اشارے پر کھڑا کیا گیا ہے۔

ظفر حسین، فیصل آباد: حدود آرڈیننس کے غلط استعمال کا یہ مطلب نہیں کہ اس کو ختم کر دیا جائے۔ اس کا درست استعمال ہونا ضروری ہے، حدود آرڈیننس میں تبدیلی محض غیرسرکاری تنظیموں کی خواہیش پر نہیں ہونی چاہئے۔

محمد اقبال، کوٹلی، کشمیر: حدود کا اطلاقت ایک اسلامی معاشرے سے ہے۔ پاکستان میں تو ہر پاکستانی قانون پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ قانون سے آج تک کسی کو فائدہ نہیں ہوا ہے۔ البتہ مسلم ہونے کی حیثیت سے اللہ کا نافذ کردہ قانون چاہے کوئی مسلم مانے یہ نہ مانے اس پر نافذ ہے، ان قوانین سے چھٹکارا مسلم ہوتے ہوئے ناممکن ہے۔

عصمت اللہ، کراچی: حدود آرڈینسن ہویا نہ ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ فرق اسی وقت پڑے گا جب ہماری پولیس اور عدلیہ کو اسلام کے قوانین کو صحیح طرح استعمال کرنے کا طریقہ آئے گا۔

شیریار خان، سِنگاپور: حدود آرڈیننس کے فوائد نہ ہونے کے برابر ہیں۔ عورتوں کے ساتھ زیادتی روکنے میں یہ قانون ناکام رہا ہے۔ اس قانون کا مقصد یہ تھا کہ عورتوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کو ختم کیا جائے۔

مسعود تیوانہ، ٹورانٹو: پاکستان تبدیلی کے ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جو فرانسیسی انقلاب کی طرح ہے۔ یہ مباحثہ اہم نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان مذہب پسندی کے معاشرے سے سیکولر اور اعتدال پسند معاشرے کی جانب تبدیلی کے لئے تیار ہے یا نہیں۔

عمران اقبال، برمِنگھم، برطانیہ: اس قانون سے پاکستانی عوام کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ہے۔ اس کا اطلاق صرف غریب لوگوں پر ہوتا ہے جن کی اعلی سطح تک رسائی نہیں ہے۔

سعید خٹک، نوسہرہ، پاکستان: بی بی سی کو کیا ضرورت پیش آئی ہے اس پر بحث کرانے کی، جس بات کو قرآن اور احادیثت نے واضح کیا ہے۔

ڈاکٹر عبدالمجید، فیصل آباد: حدود آرڈیننس کی وجہ سے عورت کا جینا حرام ہوگیا ہے۔

سونیا چودھری، کینیڈا: ایٹمی تنازعے سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے یہ کلاسیکل میڈیا اسپِن ہے، صدر مشرف جارج بش کو آنکھ بند کرکے پیروی کررہے ہیں۔۔۔

ارتضا فاروقی، کراچی: پچیس سال میں حدود آرڈیننس سے صرف جرائم پیشہ افراد کو فائدہ ہوا ہے، عورتوں کو صرف اس کے ذریعے قتل کیا گیا اور غلط کاموں پر لگایا گیا۔ ان کو بلیک میل کرکے کوٹھوں پر پہنچایا گیا جو کوئی بھی اس قانون کی حمایت کرتا ہے اس کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ ہمارا معاشرہ کیا اس قابل ہے کہ اس قانون کے ذریعے کسی کو انصاف مل سکے؟ جاگیر داری نظام ختم کرو، اپنی پولیس کو انسان بناؤ، پھر اسے قانون کی حمایت کرو ورنہ یہی سوچنے پر مجبور ہیں کہ مذہبی رہنما اس سے بھی صرف اپنی دکان چمکانا چاہتے ہیں۔۔۔

کاشف اسلام، لاہور: خواتین کا استحصال ہوتا آیا ہے، اسے روکنا چاہئے، ہم لوگ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ عورت ماں، بہن اور بیٹی بھی ہے اور ان رشتوں کے تقدس کا خیال کیا جانا چاہئے۔ جو رویہ یہاں اپنا لیا گیا ہے وہ نامناسب نہیں، انتہائی گھنونا ہے، حدود آرڈیننس ہو یا کاروکاری کا معاملہ، عورت کو کبھی ڈھال، کبھی جائداد اور کبھی استعمال کی بے جان چیز سمجھا جاتا ہے۔ ہمیں اپنی سوچ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

عبیدالرحمان مغل، بریڈفورڈ، برطانیہ: آپ صرف حدود آرڈیننس کی بات کرتے ہیں۔ کیا کسی عام آدمی یا عورت کو آج تک پاکستان میں فائدہ پہنچا ہے؟ یا ان کو انصاف ملا ہے؟ اگر انصاف ہوگا تو سب کو فائدہ ہوگا، بات قانون کے غلط یا صحیح کی نہیں اس کے اطلاقت، نفاذ اور انصاف کی ہے۔ حدود آرڈیننس پر اعتراض نہیں ہونا چاہئے بلکہ عدم انصاف پر ہونا چاہئے۔

صدف عزیز، امریکہ: خواتین کو حدود آرڈیننس سے کبھی فائدہ پہنچ سکتا ہے کیا؟ جب وہ قانون ہی غلط ہے تو وہ کیسے خواتین کو فائدہ پہنچائے گا۔ مثال کے طور پر اگر کسی عورت کے ساتھ ریپ ہوا ہے تو اگر وہ اس کی شکایت کرے تو پہلے چار گواہ لائے ورنہ اسے خود جیل میں بند کردیا جاتا ہے، اب اگر کسی عورت کے پاس ریپ کے وقت چار گواہ ہوں تو وہ لوگ اس کی عزت نا بچا لیں، بجائے اس کے کہ وہ کھڑے ہو کر تماشہ دیکھیں؟ اس وقت ہزاروں کی تعداد میں بے گناہ خواتین جیلوں میں بند ہیں بلکہ بہت سی خواتین کے تو بچے جیلوں میں پیدا ہوئے ہیں۔ اس وقت حدود آرڈینسن میں تبدیلی کی بہت ضرورت ہے تاکہ بے گناہ خواتین کو ظلم سے چھٹکارا ملے۔

عمار بھٹہ، امریکہ: کاروکاری اور غیرت کے قتل کے وحشیانہ اقدامات کا حدود آرڈیننس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ فرسودہ زمانے کے جاہلانہ رسوم ہیں اور ان سے نمٹنے کے لئے نئی سخت قانون سازی ہونی چاہئے۔ حدود آرڈیننس در اصل زنا، زنا بالجبر اور اس سے منسلک جرائم سے نمٹنے کے شرعی طریقے کی بنیاد ہے۔

شاہدہ خان، لندن: حدود آرڈیننس کو فوری طور پر ختم کردینا چاہئے۔ حدود نے بہت سارے خاندان برباد کردیے ہیں۔

احمد صدیقی، کراچی: حدود آرڈیننس کی سزائیس قرآن اور احادیث سے ثابت ہیں، مسلمان کے لئے ان کا انکار ناممکن ہے۔ ان قوانین میں انسانوں کے لئے خیر ہی خیر ہے، خرابی پولیس، عدلیہ اور دیگر انتظامیہ میں ہے جو قوانین نافذ کرتی ہیں۔ مثلا اگر کوئی غیر شادی شدہ عورت حاملہ ہو اور زنا کے کوئی گواہ نہ ہوں اور وہ کہے کہ میرے ساتھ زنا بالجبر ہوا تو دین میں اس کی بات ہی قابل قبول ہے، مگر ہماری عدلیہ، انتظامیہ، پولیس وغیر ایسے جاہل ہیں ان کے پاس ریڈ ٹیپ کی فکر زیادہ ہے، اس کی پرواہ نہیں کہ کسی معصوم پر ظلم ہورہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد