BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غیرت کے نام پر قتل، بل مسترد

News image
یہ قانون سابق صدر جنرل ضیاءالحق کے دور میں نافذ کیا گیا تھا
قومی اسمبلی میں بدھ کو غیرت کے نام پر قتل کے قانون میں حکومت کی طرف سے ترامیم نامنظور کرنے کے خلاف حزب اختلاف کی جماعتیں آپس میں ہی لڑ پڑیں اور ایک دوسرے پر ملک کی مخالفت کرنےاور دین سے رو گردانی کے الزامات لگائے گئے۔

بدھ کو قومی اسمبلی میں اس مسئلہ پر بحت کے دوران جزب اقتدار میں شامل جماعتوں میں بھی اختلاف نظر آئے۔ حکومت میں شامل ایم کیو ایم نے اس بل کے نامنطور کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا۔

گزشتہ روز حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے ایک حکومتی رکن کشمالہ طارق کی طرف سے غیرت کے نام پر قانون میں ترامیم کے بل کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔

بدھ کو مجلس عمل کے رکن مولانا محمد خان شیرانی نے یہ مسئلہ ایوان میں پھر اٹھایا اور کہا کہ جب انہوں نے اس مسئلے پر قرانی آیات پڑھ دی تھیں تو پھی اسمبلی کے سپیکر کی طرف سے ان مجوزہ ترامیم کے بل کو ایوان میں پیش کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔

مولاناشیرانی نے قائداعظم محمد علی جناح کو صرف جناح کے نام سے پکارا تو سپیکر نے ان سے کہا کہ وہ قائد اعظم کہیں جس پر انہوں نے کہا کہ وہ سپیکر کی بات دہرا دیتے ہیں۔ ان کے ان ریمارکس پر اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کے ارکان نے احتجاج کیا اور الزام لگایا کہ دینی جماعتوں نے پاکستان بننے کی مخالفت کی تھی اور وہ اب بھی قائد اعظم کو صرف جناح کہ رہے ہیں۔

اس پر سپیکر چوہدری امیر حسین نے حزب اختلاف کے رہنما چوہدری اعتزاز احسن سے اس مسئلے پر روشنی ڈالنے کے لیے کہا۔

اعتزاز نے اپنی تقریر میں کہا کہ پارلیمنٹ کو اختیار حاصل ہے کہ وہ ان قوانین پر بات کرے جو عہد جدید کے تقاضوں پر پوری اترتی ہوں، انہوں نے مجلس عمل کے رہنماؤوں پر غیرت کے نام پر قتل کی مخالفت پر کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ ان کو مجلس عمل کے ارکان کو علمائے کرام کے نام سے مخاطب کرنے کا فیصلہ واپس لینا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ مولانا شیرانی چاہتے ہیں کہ وہ قرانی آیات پڑھیں اور سب خاموش ہو جائیں اور گھروں کو چلے جائیں۔ اعتزاز نے کہا کہ قانون سازی ایوان کا حق ہے۔انہوں نے کہا کہ قرانی آیات کو اگر نافذ کرنا ہے تو پالیمنٹ نے ہی کرنا ہے۔ اعتزاز نے الزام لگایا کہ دینی جماعتوں نے پاکستان بننے کی مخالفت کی تھی۔

وفاقی پارلیمانی وزیر شیر افگن نے کہا کہ ایسے حساس مسئلے ایوان میں نہیں لانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور اس کو سیکولر ریاست نہیں بننے دیا جائے گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن شیری رحمان نے کہا کہ اس بل کی مخالفت سے حکومت کا اصل چہرہ سامنے آگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان میں اسلام کے نام پر عورتوں کو چاردیواری میں ہی قید رکھنا ہےتو پھر حکومت نے پارلیمنٹ میں عورتوں کی نشستیں کیوں رکھی تھیں۔

شیری رحمان کی تقریر کے دوران مجلس عمل کے ارکان نے شدید احتجاج کیا جس پر شیری رحمان نے کہا کہ وہ ملک کو افغانستان بنانا چاہتے ہیں۔

شیری رحمان نے کہا کہ مجلس عمل کے ارکان اسلام کے ٹھیکیدار بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حضرت عائشہ کی گواہی پوری مانی جاتی ہے تو ان کی گواہی بھی پوری مانی جائے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ڈاکٹر شازیہ کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر پورا ملک احتجاج کر رہا ہے مگر مولوی چاہتے ہیں کہ وہ غیرت کے نام پر قتل ہونے والے خواتین کی لاشوں پر بھنگڑا ڈالیں۔

اسی دوران مسلم لیگ نواز کے ایک رکن اور سابق وزیر خواجہ آصف نے الزام لگایا کہ مجلس عمل کے ایک رکن مولانا غلام محمد صادق نے کہا ہے کہ الحمداللہ وہ اب بھی پاکستان کو تسلیم نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ دین کے دکانداروں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ پاکستان کی مخالفت کریں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مولانا نے ایوان کی خواتین ممبروں کے بارے میں رقیق جملے کہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بات کا جواب زبان کے علاوہ ہاتھ سے بھی دے سکتے ہیں۔

اسپر مولانا صادق نے کہا کہ عورتیں گھومتی پھرتی ہیں اور ان کو مکمل آزادی حاصل ہے۔

خلاف توقع حکومت کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے بھی اس مسئلے پر اپوزیشن سیاسی جماعتوں کا ساتھ دیا۔ ایم کیو ایم کے رکن کنور خالد یونس نے کہ پورر قوم آدھی مسلمان اور آدھی پاکستانی ہو کر رہ گئی ہے اور ملک کو ماضی میں دھکیلا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مولویوں نے انگریزوں کو برصغیر سے نکالنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ جنرل ضیا کے دور میں ایک نابینا لڑکی کو زنا کے الزام میں پکڑ لیا گیا تھا۔

غیرت کے نام پر قتل ہونے والی افشین مسرتغیرت کے نام پر قتل
نیا حکومتی بل اس کی سخت سزا تجویز کرتا ہے
امریتہ پرتماعزاز سے بے نیاز
امریتہ پریتم گوجرانوالہ کی بیٹی اعزاز سے بے نیاز
غیرت کے نام پر
برطانیہ میں غیرت کے نام پر سو سے زیادہ قتل ہوئے؟
غیرت کے نام پر قتل غیرت کے نام پر قتل
قصاص کے قانون پر نظرثانی ضروری: رفاقت علی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد