مشرف اتحاد بکھر رہا ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویزمشرف نے حکمرانی کے لیے جو سیاسی اتحاد ترتیب دیا تھا اس کے شگاف کُھل کر سامنے آنے لگے ہیں جس کا سب سے بڑا مظاہرہ تو سندھ میں دیکھنے میں آرہا ہے جس کے بارے میں فنکشنل لیگ کے سربراہ پیر پگاڑا کا کہنا ہے کہ سندھ سے سیاسی بحران کی ابتدا ہوچکی ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے حمایتی یہ کہتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ کے نام سے بنائے جانے والے اس حکمران اتحاد نے باوردی صدر کی زبانی کلامی حمایت کے سوا کچھ نہیں کیا۔ پانچ سال پہلے جنرل مشرف نے اقتدار میں آنے کے بعد مسلم لیگ(نواز) کے ایک بڑے دھڑے کو اپنے ساتھ ملا کر اور بعد میں مسلم لیگ کے نام سے قائم چھوٹے چھوٹے دھڑوں اور سابق صدر فاروق لغاری کی ملت پارٹی کو اس میں ضم کرواکے اور پیپلز پارٹی کے تقریبا بیس ارکان قومی اسمبلی کو توڑ کر جو چوں چوں کا مربہ بنایا تھا لگتا ہے اس افادیت ختم نہیں تو کم ضرور ہوگئی ہے۔ صدر جنرل مشرف اب اس سے مطمئن نہیں اور نئے سیاسی اتحادیوں کی تلاش میں ہیں۔ صدر مشرف کی موجودہ حکمران اتحاد کی کارکردگی سے بےاطمینانی کا عندیہ ایک تو ان کے عوام سے براہ راست رابطوں سے ملتا ہے۔ وہ اب ملک کے چاروں کونوں میں تواتر سے سیاسی جلسوں سے خطاب کررہے ہیں اور عوام کو اپنی سیاسی حکمت عملی اور فیصلوں پر قائل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ گجرات، اوکاڑہ ملتان اور نوشہرہ کے جلسے ان کی اسی رابطہ عوام مہم کی کڑیاں ہیں۔ دوسرے حکمران جماعت کے صدر اور تین ماہ وزیراعظم رہنے والے چودھری شجاعت حسین کے اہم معاملات سے دور کردیے جانے کے اشارے بھی کھل کر سامنے آرہے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ وہ اقتدار کے کھیل میں ان کی اہمیت پہلے جیسی نہیں رہی۔ سندھ میں وزیراعلی ارباب رحیم اور صوبائی وزیر امتیاز شیخ کی لڑائی شروع ہوئی اور وزیراعلی نے امتیاز شیخ کو بدعنوانی کے الزامات پر برطرف کیا تو چودھری شجاعت حسین نے اس پر اپے پہلے ردعمل میں وزیراعلی ارباب رحیم کی حمایت نہیں کی بلکہ کہا کہ یہ اقدام انہوں نے ان سے پوچھے بغیر اٹھایا ہے لیکن بعد میں یہ کہہ کر معنی خیز طور پر خاموشی اختیار کرلی کہ وہ دونوں فریقین کی بیان بازی سے ناخوش ہیں۔ سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ ارباب رحیم کوئی کام صدر جنرل پرویزمشرف کی مرضی کے بغیر نہیں کرتے تو امتیاز شیخ کے خلاف کارائی جیسا بڑا قدم وہ ان کی مرضی کے بغیر کیسے اٹھا سکتے ہیں۔ صدر مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز کی ارباب رحیم کی حمایت کے بعد چودھری شجاعت حسین کا اپنے پہلے موقف سے انحراف ان کے اختیارات کے بارے میں ایک سوالیہ نشان ہے۔ بلوچستان میں عسکریت اور قوم پرستوں کی کاروائیاں بڑھیں تو چودھری شجاعت حسین نے مذاکرات کا عمل شرو ع کیا لیکن وہ کراچی میں مقیم بلوچ قوم پرست رہنما عطا اللہ مینگل اور جنوبی پنجاب کے ریٹائرڈ بلوچ سیاستدان شیر باز مزاری سے آگے نہیں بڑھ سکے اور نواب اکبر بگتی اور نواب خیر بخش مری سے ملاقات نہیں کرسکے۔ چودھری شجاعت حسن نے بلوچستان کے معاملہ پر قوم پرستوں کے مطالبہ کے مطابق یہ بیان دیا کہ سوئی اور ڈیرہ بگتی سے چوکیاں ختم کردیں گے لیکن فوجی ترجمان کا بیان آگیا کہ سوئی میں فوجی چھاؤنی ضرور بنے گی اور اس کے لیے وہاں چار سو ایکڑ زمین حاصل کرلی گئی ہے۔ غرض بلوچستان کے معاملہ پر بھی اب کچھ دنوں سے چودھری شجاعت کی سرگرمیاں کم ہوگئی ہیں۔ اُدھر، فاروق لغاری بھی چودھری شجاعت حسین سے خوش دکھائی نہیں دیتے۔ سابق ملت پارٹی جو حکمران مسلم لیگ میں ضم ہوگئی تھی اس کے صدر فاروق لغاری کا اخباری بیان کہ مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین نے ان سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے اور ان کی ملت پارٹی کے لوگوں کو مسلم لیگ کی نئی تنظیم میں عہدے دے کر اچھا نہیں کیا۔ صدر جنرل پرویزمشرف کی موجودہ حکمران اتحاد پر عدم اطمینان کا پتا ان کے حزب اختلاف کے ان قائدین سے رابطوں سے بھی چلتا ہے جن کے بارے میں وہ اب سے چند سال پہلے اچھی رائے نہیں رکھتے تھے۔ صدر مشرف کے ایلچیوں ، جن میں نیشنل سیکیورٹی کونسل کے جنرل سیکرٹری طارق عزیز اور آئی ایس آئی کے سربراہ پرویز کیانی کے نام لیے جاتے ہیں، کی پیپلز پارٹی کی چئیر پرسن اور سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو سے مذاکرات اب ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ اسلام آباد میں چوبیس فروری کو صحافیوں سے طویل بات چیت میں صدر مشرف نے کہا کہ روشن خیال قیادت کے لیے اپوزیشن سے بات چیت ہورہی ہے اور ہم انتہا پسندوں کو آگے نہیں آنے دیں گے۔ اسی طرح ملتان میں جلسہ عام سے خطاب میں صدر جنرل مشرف نے اسی بات پر زور دیا کہ عوام انتخابات میں روشن خیال قیادت سامنے لائیں۔ وفاقی وزیر دفاع اور پیپلز پارٹی سے ٹوٹ کر صدرمشرف سے ملنے والے پیپلز پارٹی پیٹریاٹ کے چیئرمین راؤ سکندر اقبال نے ایک حالیہ اخباری انٹرویو میں کہا کہ بے نظیر بھٹو اور حکومت میں مفاہمت ہوجائے گی اور اس مفاہمت کو اعلی سطح پر ڈیل کہا جارہا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد، جو جنرل مشرف کے آدمی سمجھے جاتے ہیں، نے لاہور میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے اگلے روز یہ کہا کہ پیپلز پارٹی سے مذاکرات زیادہ جاندار ہیں، اسلام آباد میں خاکوں میں رنگ بھرا جارہا ہے اور امید ہے کہ اس کے نتائج جلد سامنے آجائیں گے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ سابق وزرائے اعظم بے نظیر بھٹو اور نواز شریف ملک واپس نہیں آرہے اور عام انتخابات سنہ دو ہزار سات میں ہی ہوں گے۔ بے نظیر بھٹو کا بھی یہی کہنا ہے کہ وہ ماضی کے مقابلہ میں فوجی حکومت کے معاملہ میں سب سے زیادہ لچک کا مظاہرہ کررہی ہیں تاہم وہ اس بات کی تردید کرتی ہیں کہ ان کی حکومت سے کوئی ڈیل ہورہی ہے۔ حکمران مسلم لیگ کے صدر شجاعت حیسن اور پنجاب کے وزیراعلی پرویز الٰہی ان رابطوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں۔ بے نظیر بھٹو تین مارچ کو واشنگٹن جارہی ہیں جہاں ان کی امریکی وزارت خارجہ کی جنوبی ایشیا کے لیے اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ کرسٹینا روکا سے ملاقات بھی متوقع بتائی جارہی ہے۔ بے نظیر کے شوہر آصف علی زرداری سولہ اپریل کو لندن سے لاہور پہنچ رہے ہیں جہاں ان کے استقبال کے لیے پارٹی بڑے پیمانے پر تیاریاں کررہی ہے۔ سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ جنرل مشرف کا بار بار روشن خیال قیادت کی ضرورت پر زور، پیپلز پارٹی سے ان کے بڑھتے ہوئے رابطے، آصف زرداری کی واپسی پر پارٹی کی سیاسی شو اور بے نظیر بھٹو کی امریکہ روانگی ایک ہی سلسلہ کی کڑیاں ہیں اور پاکستان کی سیاست میں جوڑ توڑ اور نئی صف بندیوں کے اشارے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سرکاری ترجمان اور وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد سے بار بار یہ اعلانات کرواکے کہ جنرل مشرف کی حکومت بے نظیر، آصف زرداری اور شہباز شریف سے رابطے میں ہے، ایک طرف تو حکومت سیاسی اتحاد کو خبردار کرنا مقصود ہوسکتا ہے کہ جنرل مشرف کے پاس ان کا بدل موجود ہے اور دوسری طرف ملک کے اندر اپوزیشن (خاص طور سے متحدہ مجلس عمل) کو یہ پیغام دینا ہوسکتا ہے کہ جنرل مشرف بیرون ملک بیٹھی قیادت سے معاملات طے کرسکتے ہیں۔ اسلام آباد کے سفارتی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں سننے میں آرہی ہیں صدر جنرل پرویز مشرف سے اُن کے مغربی ملکوں کے اتحادیوں اور دوستوں کا یہ مطالبہ ہے کہ وہ بڑی سیاسی جماعتوں کو اقتدار میں لائیں۔ صدر مشرف کا ان دنوں بار بار روشن خیال قیادت کی ضرورت پر زور دینا اور بے نظیر بھٹو سے بڑھتے ہوئے رابطوں کو اسی پس منظر میں دیکھا جارہا ہے۔ پاکستان وہ ملک ہے جہاں ماضی میں سیاست سے متعلق زیادہ تر خبریں جھوٹی اور افواہیں سچی ثابت ہوتی آئی ہیں۔ نوے کی دہائی میں صدور مملکت اسحاق خان اور فاروق لغاری اس بات کی تردید کرتے رہے کہ وہ اسمبلیاں توڑ رہے ہیں لیکن انہوں نے اسمبلیاں توڑیں۔ چند برس پہلے چودھری شجاعت حسین مسلم لیگ(ن) سے علیحدہ ہوکر نئی جماعت بنانے کی تردید کرتے رہے لیکن انہوں نے مسلم لیگ(ق) بنائی۔ انتخابات کے فورا بعد فیصل صالح حیات پیپلز پارٹی کا الگ دھڑا بنانے کی تردید کرتے رہے لیکن انہوں نے اپنے ساتھیوں سے مل کر ایسا کیا۔ اب قیاس آرائیاں ہیں کہ حکومت اور پیپلزپارٹی میں ڈیل مکمل ہونے والی ہے اور ایک سال کے لیے موجودہ پارلیمینٹ میں پیپلز پارٹی کے وزیراعظم کی سربراہی میں قومی حکومت بنائی جاسکتی ہے اور سندھ میں گورنر راج لگایا جاسکتا ہے اور شہباز شریف جنرل مشرف کا ساتھ دینے پر آمادہ ہوگئے ہیں اور جلد ہی پاکستان آجائیں گے۔ ان تمام قیاس آرائیوں کی تردیدیں سامنے آتی رہتی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس بار خبریں سچ ثابت ہوتی ہیں یا افواہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||