BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 26 February, 2005, 14:17 GMT 19:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اصلی جمہوریت متعارف کرائی ہے‘

مشرف
’مقامی حکومتوں کے نظام کو دُنیا خاموش سماجی اِنقلاب سے تعبیر کررہی ہے‘
صدر جنرل پرویز مشرف نے ملتان میں ایک بڑے جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس سال ہونے والے بلدیاتی اِنتخابات اور آنے والے سالوں میں منعقد ہونے والے عام انتخابات میں انِتہا پسند عناصر کو مسترد کردیں اور روشن خیال قیادت سامنے لائیں ۔

وہاڑی روڈ پر واقع ملتان کرکٹ سٹیڈیم میں منعقدہ اس اجتماع میں خاصی بڑی تعداد مختلف سرکاری محکموں سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں کی تھی جِن میں مرد اور خواتین اساتذہ بھی شامل تھے۔

مُبصرین کا خیال ہے کہ صدر اپنی غیر اعلانیہ رابطہ عوام مہم کے سلسلے میں اجتماعات سے اُس وقت خطاب کر رہے ہیں جب مذہب کے نام پر سیاست کرنے والی چھ جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلسِ عمل کے رہنما آنے والے مہینے میں صدر کی وردی اور بیک وقت دو عہدے رکھنے کے خلاف ملین مارچ کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

جمہوریت بچوں کا کھیل نہیں
 جمہوریت کے معاملات شلوار قمیض، پتلون اور وردی کے مسائل سے کہیں زیادہ گہرے اور پیچیدہ ہوتے ہیں
صدر مشرف

اس سے قبل جنرل مشرف گجرات اور اوکاڑہ میں بھی عوامی اجتماعات سے خطاب کر چکے ہیں ۔

ملتان میں پنتالیس منٹ کے خطاب میں بھی مُبینہ انتہا پسند عناصرصدر مشرف کی تنقید کا ہدف رہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ انتہا پسند عناصر کو یہ سمجھنا چاہیے کہ دُنیا سے ٹکر لینے کے لیے اہلیت اور طاقت کی ضرورت ہے۔

صدر کا کہنا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ یہ کسی کو آنکھیں دکھائیں اور دوسرے اِن کی آنکھیں نکال لیں ۔

News image
صدر جلسہ گاہ سڑک کے راستے کی بجائے ہیلی کاپٹر پر بیٹھ کر آئے

جنرل مشرف کا کہنا تھا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ دلیری دکھانے کی بجائے عقل اور حکمتِ عملی سے فیصلے کیے جائیں ۔اُن کا کہنا تھا کہ عوام کو چاہیے کہ وہ مسجدوں اور مدرسوں کو نفرت اور فرقہ واریت پھیلانے کا ذریعہ بنانے والوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں ۔

صدر مشرف نے کہا کہ اُنہوں نے ملک میں اصلی جمہوریت متعارف کرائی ہے اور یہ کہ جمہوریت کے معاملات شلوار قمیض، پتلون اور وردی کے مسائل سے کہیں زیادہ گہرے اور پیچیدہ ہوتے ہیں ۔ اُن کا کہنا تھا کہ اُن کے متعارف کردہ مقامی حکومتوں کے نظام کو دُنیا خاموش سماجی اِنقلاب سے تعبیر کررہی ہے ۔

جنرل مشّرف نے دعویٰ کیا کہ پاکستان اقتصادی ترقی کی اُس منزل پر پہنچ چُکا ہے جہاں وہ اب کشکول اُٹھائے بھیک مانگنے کی بجائے دوسروں کی مدد کرنے کی پوزیشن میں ہے۔اُنہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے بعد اب اُن کی حکومت عوامی خوشحالی پر توجہ دے رہی ہے ۔

انتہا پسند عناصر کو یہ سمجھنا چاہیے کہ دُنیا سے ٹکر لینے کے لیے اہلیت اور طاقت کی ضرورت ہے۔
صدر مشرف

صدر نے ملتان کے لیے ایک ترقیاتی پیکج کا اعلان بھی کیا جس میں خواتین یونیورسٹی اور ٹی وی سٹیشن کا قیام شامل ہیں ۔ جلسے سے وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالہی اور ملتان سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیرِ زراعت حاجی سکندر حیات بوسن نے بھی خطاب کیا ۔

صدر کی آمد پر سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے ۔ جلسہ گاہ میں سگریٹ، ماچس، موبائل فون اور کیمرہ وغیرہ لے جانے پر مکمل پابندی تھی ۔ صدر کی آمد سے قبل ایک فوجی ہیلی کاپٹر مسلسل جلسہ گاہ کے اوپر پرواز کرتا رہا۔

جنرل مشّرف گذشتہ رات سے ملتان میں تھے اور عوامی اجتماع میں آنے سے پہلے اُنہوں نے ملتان چھاؤنی میں فوجی جوانوں سے بھی خطاب کیا ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد