BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بیک وقت تحریک چلائیں گے‘

ملتان کے جلسے میں عوام کی تعداد زیادہ نہیں تھی۔
ملتان کے جلسے میں عوام کی تعداد زیادہ نہیں تھی۔
صدر جنرل پرویز مشّرف کے بہ یک وقت دو عہدے اپنے پاس رکھنے کے خلاف جاری متحدہ مجلسِ عمل کی مہم کا دُوسرا بڑا جلسہ اتوار کے روز ملتان کےقاسم باغ میں منعقد ہوا ۔

جلسہ لوگوں کی شرکت کے اعتبار سے تو اِتنا کامیاب قرار نہیں دیا جارہا لیکن اتحاد براۓ بحالی جمہوریت کے رہنماؤں مخدوم شاہ محمود قریشی اور خواجہ سعد رفیق نے شرکت اور خطاب کرکے اِسے اہم بنادیا ۔خواجہ سعد رفیق نے تو اپنی تقریر میں عِندیہ بھی دیا کہ اِس جلسہ کے توّسط سے حکومت مخالف جماعتوں کا ایک بڑا اتحاد بننے جارہا ہے ۔

جلسہ سےایم ایم اے کے قائدین قاضی حسین احمد، مولانا فضل الرحمان، لیاقت بلوچ، حافظ حسین احمد، حافظ ادریس، قاری گُل رحمان اور سید شبیر ہاشمی کے علاوہ شاہ محمود قریشی، خواجہ سعد رفیق اور سابق سپیکر قومی اسمبلی سید فخر امام نے بھی خطاب کیا ۔

قاضی حسین احمد نے اپنے صدارتی خطاب میں حکومت کو وارننگ دی کہ اگر اُنیس دسمبر تک صدر کے اکتیس دسمبر کو وردی اُتارنے کے حوالے سے ایم ایم اے کےساتھ کیے گئے معاہدے پر عمل درآمد کے بارے واضح اعلان نہ کیا گیا تو ایم ایم اے پورے مُلک میں بہ یک وقت احتجاجی تحریک چلائے گی ۔

قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایم ایم اے نے اے آر ڈی میں موجود اپنے دوستوں کو ناراض کرتے ہوئے حکومت کے ساتھ ایل ایف او پر صرف اس لیۓ معاہدہ کیا تا کہ ملک آئین کے راستے پر چل نکلے لیکن معاہدے پر عمل نہ کر کے فوجی حکمران ایک با پھر آئین سے رو گردانی کر رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف ملک کے سابق وزرائے اعظم رہے ہیں اور انہیں سر زمینِ پاکستان میں سیاست کرنے کی مکمل آزادی ہونی چاہیے۔ اُن کا کہنا تھا کہ فوج کو حکمرانی اور سیاست کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں ۔ اُنہوں نے کہا کے ایم ایم اے کی تحریک ملک میں آئین اور جمہوریت کی مکمل بحالی اور پارلیمان کی بالا دستی تک جارہی رہے گی ۔

لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ نئے ڈیم وقت کی ضرورت ہیں لیکن اگر یہ وردی کے زور پر بنائے گئے تو قومی وحدت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ۔اُن کا دعویٰ تھا کے آصف زرداری کی رہائی ایم ایم اے کی تحریک کے نتیجے میں ہوئی ہے ۔

فخر امام نے کہا کہ ملک جمہوری اصولوں کے بغیر نہیں چل سکتا اور اگر عدل و انصاف کے اصولوں کو سامنے رکھا جائے تو کوئی بھی بیرونی قوت ملک میں مداخلت کی ہمت نہیں کر سکتی ۔انہوں نے مزید کہا کہ سیاستدان جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو جمہوری اصولوں کی بات کرتے ہیں لیکن اقتدار میں آتے ہی وہ سب کچھ بھول جاتے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کے موجودہ پارلیمان نے وردی بِل کثرتِ رائے سے منظور کرتے ہی اپنا رہا سہا وقار بھی کھو دیا ہے ۔اُن کا کہنا تھا کہ معیشت کی بحالی کے سب حکومتی دعوے جھوٹ پر مبنی ہیں ۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ فوجی حکمرانوں کو واپسی کا کوئی محفوظ راستہ نہیں دیا جاۓ گا بلکہ اُن کا کڑا احتساب کیا جاۓ گا ۔ اُن کا کہنا تھا کہ شکر ہے اے آر ڈی اور ایم ایم اے اس بات پر اکٹھے ہورہے ہیں کے مشرف حکومت اور پاکستان اکٹھے نہیں چل سکتے ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد