پیپلز پارٹی: جماعتِ اسلامی کا الزام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل سید منور حسن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی فوجیوں سے خفیہ مذاکرات کررہی ہے اس لیے ان حالات میں اسے حکومت کے خلاف تحریک میں شامل کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے مشرف مخالف تحریک چلانے کا اعلان کر رکھا ہے جس کے تحت عید کے بعد سے عوامی جلسے شروع ہوجائیں گے اور اٹھائیس نومبر کو کراچی میں پہلا جسلہ عام ہوگا۔ جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل نے کہاکہ اتحاد براۓ بحالی جمہوریت اگر حکومت کے خلاف تحریک میں شامل ہونا چاہتی ہے تو وہ پہلے جنرل مشرف سے اپنے خفیہ مذاکرات بند کرے۔ انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی کے حکومت کے ساتھ مذاکرات ایک ایسا کھلا راز ہے جو سب پر آشکار ہے اور اس مرحلے پر اگر انہیں تحریک میں شامل کیا گیا تو ان کی سودے بازی کی طاقت میں اضافہ ہوگا اور اس کا نقصان حکومت مخالف تحریک کو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے پرویز مشرف کے خلاف تحریک چلانے کے لیے کسی کی محتاج نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے نے حکومت کے خلاف عوامی جلسوں کا پورا ایک نقشہ دیا ہے جبکہ اے آر ڈی حکومت رمضان کے بعد مخالف تحریک چلانےکا اعلان تو کرتی ہے لیکن اس نے تاحال تحریک کا کوئی نقشہ پیش نہیں کیا ہے۔ انہوں نے اے آر ڈی کی قیادت پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ مشترکہ تحریک چلانے کے لیے متحدہ مجلس عمل سے مذاکرات میں بھی سنجیدہ نہیں ہے اور مخلتف عذر تلاش کر کے مذاکرات ٹالتی چلی جا رہی ہے۔ اتحاد برائے بحالی جمہوریت اور متحدہ مجلس عمل کے درمیان حکومت کے خلاف مشترکہ تحریک چلانے کے لیے مذاکرات ہوتے رہے ہیں۔ گذشتہ ماہ متحدہ مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد اور جنرل سیکرٹری مولانا فضل الرحمان جبکہ اے آر ڈی کے مخدوم امین فہیم اور راجہ ظفرالحق پر مبنی فریقین کی دو دو رکنی کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں لیکن تاحال ان کی ایک بھی باضابطہ اور نتیجہ خیز میٹنگ نہیں ہوسکی۔ مخدوم امین فہیم کی طرف سے یہ بیان اخبارات میں آیا کہ مولانا فضل الرحمان مذاکرات کرنے سے گریز کر رہے ہیں اور ان کے بیرون ملک کے دورے ہی ختم نہیں ہو رہے ہیں۔ ادھر گجرات میں پیپلز پارٹی کے ایک سابق وفاقی وزیر احمد مختار کی رہائش گاہ پر ایک تقریب میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوۓ انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی پارلینٹرین کے سیکرٹری جنرل پرویزاشرف سے جب یہ سوال پوچھا گیاکہ کیا پیپلز پارٹی کے حکومت سے مذاکرات چل رہے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ سیاست میں گفتگو تو چلتی ہی رہتی ہے۔ انہوں نےکہاکہ اگر صدر جنرل پرویز مشرف آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی قائم کردیں تو ان سے مذاکرات کیے جاسکتے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ یہ بھی بخوبی جانتے ہیں کہ سٹیبلشمنٹ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے مذاکرات کے ڈھونگ رچاتی رہتی ہے ۔ پیپلز پارٹی کے رہنما ایک سے زائد بار ایم ایم اے پر یہ الزام عائد کر چکے ہیں کہ وہ در پردہ حکومتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور اگر اے آر ڈی نے اگر ان کے ساتھ ملکر مشترکہ تحریک کا آغاز کر دیا تو ایم ایم اے رہنما کسی بھی موقع پر انہیں دھوکا دیکر حکومت سے مذاکرات کا آغاز کرسکتی ہے۔لیکن اب جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل سید منور حسن نے یہی الزام اے آر ڈی پر عائد کر دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے حزب اختلاف کے دونوں دھڑوں کے ایک دوسرے الزامات سے ان کے مشترکہ تحریک چلانے کے امکانات کم ہوتے چلے جارہے ہیں جس کا فائدہ بہر حال حکومت کو ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||