BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 February, 2005, 20:40 GMT 01:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف جلسہ، گاڑیاں قبضہ میں

پرائیوٹ گاڑیاں
صدر مشرف کے جلسے میں لوگوں کو لانے پرائیوٹ گاڑیوں کو قبضہ میں لے لیا گیا ہے۔
صدر جنرل پرویز مشرف سنیچر کے روز ملتان کرکٹ سٹیڈیم میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرنے والے ہیں لیکن ان کے جلسہِ عام میں لوگوں کو لانے کے لیے انتظامیہ نے ایک بڑی تعداد میں بسوں اور ویگنوں کو قبضے میں لے لیا ہے جس سے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے ۔

شہر کے بسوں اور ویگنوں کے اڈوں پر جمعرات سے ہی گاڑیاں کم نظر آرہی تھیں لیکن جمعہ روز تو صورتحال مسافروں کے لیے بہت ہی پریشان کن رہی ۔نہ تو ملتان شہر سے باہر جایا جا سکتا ہے اور نہ ہی دوسرے شہروں سے ادھر آنا آسان ہے ۔

عام آدمی کے لیے ملتان کا باقی ملُک سے زمینی رابطہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔ بسوں اور ویگنوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے لوگ ٹرکوں اور باربرداری کے لیے استعمال ہونے والی دوسری گاڑیوں میں دوگنا کرایہ دے کر سفر کرنے پر مجبور نظر آئے ۔

پولیس اور انتظامیہ نےگاڑیوں کی پکڑ دھکڑ دو روز سے شروع کر رکھی تھی۔ ملتان کی ضلعی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ ٹرانسپورٹروں کو صدر مشّرف کے جلسہِ عام کے لیے اتنا معاوضہ دیا جائے گا کہ ہر کسی کی خواہش ہو گی کہ اِس مقصد کے لیےاُس کی گاڑی کرائے پر لی جائے ۔

قبضے میں لی گئی گاڑیوں کو پولیس لائن اور اس کے ساتھ واقع سِول لائنز کالج میں کھڑا کیا گیا جہاں وفاقی وزیر زراعت سکندر حیات بوسن اور ضلح ناظم ریاض قریشی ان گاڑیوں کو یونین کونسل ناظمین اور حکومتی مسلم لیگ کے عہدیداروں کے حوالے کرتے رہے تاکہ وہ اپنے اپنے حلقہِ اثر سے جنرل مشّرف کے جلسے کے لیے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں لاسکیں۔

ملتان ویگن اونرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری شیر افگن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ان کی گاڑیاں زبردستی قبضے میں لی ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ معاوضہ دینے کا وعدہ تو ہر دفعہ کیا جاتا ہے لیکن کام نکلنے کے بعد مالکان کو کچھ نہیں دیا جاتا ۔اُنہوں نے الزام لگایا کہ منتظمین عام طور پر ٹرانسپورٹ کے لیے مختض کی گئی رقم ہڑپ کر جاتے ہیں۔

بس اونرز ایسوسی ایشن کے طارق گجر کا کہنا تھا کہ اگر ادائیگی کی جاتی ہے تو صرف اُن مالکان کو جِن سے اِنتظامی افسروں کو ڈر ہوتا ہے کہ وہ اُن کا بھانڈا پھوڑ دینگے ۔

ضِلع ناظم ریاض حسین قریشی نے دعویٰ کیا کہ بس اور ویگن مالکان کو تیل کے علاوہ کرائے کی مد میں بھی آدھی ادائیگی کر دی گئی ہے جبکہ باقی ماندہ رقم کی ادائیگی صدر کے جلسے کے بعد کر دی جاۓ گی ۔

اُن کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹ مالکان نے جب شرافت سے جلسے کی اِنتظامیہ سے تعاون کرنے سے اِنکار کردیا تو حُکام کو زبردستی اُن کی گاڑیاں قبضے میں لینی پڑی ۔

ضِلع ناظم نے بتایا کہ ضلعی حکومت نے جنرل مشّرف کے عوامی جلسے میں لوگوں کو لانے کے لیے اپنے وسائل میں سے پچیس لاکھ روپے مختص کیے ہیں ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد