صدر مشرف پر حملے کا ملزم فرار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے بتایا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف پر قاتلانہ حملے میں ملوث ایک اہم ملزم فوج کی حراست سے فرار ہوگیا ہے۔ بی بی سی سے فون پر اسلام آباد سے بات کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے بتایا کہ ملزم مشتاق احمد راولپنڈی میں فوج کی ایک ایجنسی کی حراست میں تھا۔ مشتاق احمد اطاعلات کے مطابق چند ہفتوں قبل فرار ہو ا تھا۔ فوج کی تحویل سے ملزم کیسے بھاگا کے سوال پر وزیر اطلاعات نے تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ البتہ انہوں نے ایک اور سوال پر بتایا کہ ملزم مشتاق احمد کا تعلق ایک کالعدم شدت پسند تنظیم’جیش محمد‘ سے ہے۔ ان کے مطابق ملزم کے فرار ہونے کے واقعہ کا اعلیٰ سطح پر سخت نوٹس لیاگیا ہے۔ ملزم مشتاق احمد کی حراست پر مامور متعلقہ ادارے کے بعض اہلکاروں کو حراست میں لیے جانے کی بھی اطلاعات ملیں ہیں لیکن شیخ رشید احمد نے اس سے لاعلمی ظاہر کی۔ ایک اطلاع کے مطابق ملزم کی حراست پر مامور اہلکاروں کا ملزم نے مذہبی اعتبار سے ’برین واش‘ کیا اور انہیں اس بات پر رضامند کر لیا کہ وہ فرار ہونے میں اس کی مدد کریں۔ اطلاعات کے مطابق ملزم مشتاق احمد صدر جنرل پرویز مشرف پر دسمبر سن دوہزار تین میں راولپنڈی کا پل اڑانے والے مقدمے میں ملوث تھا۔ صدر مشرف پر بعد میں دو اور خطرناک مگر ناکام قاتلانہ حملے ہوئے تھے۔ ایک حملہ میں جب صدر کا قافلہ راولپنڈی کے جھنڈا چیچی علاقے میں واقع ایک پل سے گزر رہا تھا عین اس وقت ریموٹ کنٹرول کے ذریعے پل کو اڑادیا گیا تھا۔ صدر کی گاڑی میں نصب ریموٹ سگنل سینسر کے آلات کی وجہ وہ بچ گئے تھے۔ جبکہ دوسرا حملہ کچھ دنوں بعد ہی اسی مقام سے اس وقت ہوا تھا جب ایک پیٹرول پمپ پر بارود سے بھری ہوئی کھڑی ایک گاڑی صدر کے قافلے میں شامل گاڑیوں سے خود کش بمبار نے ٹکرادی تھی۔ اس حملے میں بھی صدر محفوظ رہے تھے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے ایک انٹرویو میں خود بتایا تھا کہ ان پر حملوں میں ملوث شدت پسند گروپوں کے ساتھ بعض نچلی سطح کے فوجی اہلکار بھی ملوث تھے، جو گرفتار کیے گئے اور ان کا بعد میں کورٹ مارشل بھی ہوا لیکن زیادہ تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||