| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
حملہ آوروں کی شناخت
پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف پر قاتلانہ خود کش حملے کرنے والوں کی شناخت کر لی گئی ہے۔ جمعہ کے روز پاکستان کے وزیر داخلہ فیصل صالح حیات نے اسلام آباد میں کہا کہ تفتیشی اداروں نے اس بات کا بھی سراغ لگا لیا ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق کس جماعت سے تھا۔ جنرل مشرف جمعرات کو ہونے والے اس حملے میں بال بال بچ گئے تھے۔ اس حملے میں خود کش بمباروں سمیت چودہ افراد ہلاک اور چھیالیس زخمی ہو گئے۔ فیصل سالح حیات نے حملہ آوروں کے بارے میں کسی بھی قسم کی تفصیل دینے سے گریز کیا اور کہا کہ یہ مسئلہ ’اتنی سنگین نوعیت کا ہے کہ تفتیش کی تفصیلات کی تشہیر نہیں کی جا سکتی‘۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ دونوں حملہ آوروں کی لاشیں بری طرح مسخ ہو گئی ہیں، لیکن ایک لاش کا چہرہ مسخ ہونے سے بچ گیا اور اسی چہرے کے ذریعے حملہ آوروں کی شناخت ممکن ہوئی ہے۔ اسلام آباد میں سینیٹ اجلاس سے قبل وزیر اعظم ظفراللہ جمالی نے کہا کہ اس بات کی تصدیق کی کہ حکومت نے حملہ آوروں کی شناخت کر لی ہے اور جلد ہی کوئی بڑا ’بریک تھرو‘ ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ سکیورٹی کے نظام کا از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے اور جس کسی کی بھی کوتاہی ثابت ہوئی اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ وزیراعظم نے کہا کہ حملے سے آئندہ ماہ ہونے والی سارک کانفرنس پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ’ہم دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے۔ دہشت گردی ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے۔‘ قومی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے صدر پر حملے کی مزمت کی۔ قومی اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کی گئی، جس میں خود کش حملے کی مزمت کی گئی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||