| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر مشرف کی مصروفیات منسوخ
صدر مشرف پر جمعرات کو قاتلانہ حملے کے بعد ان کی تمام نجی اور سرکاری مصروفیات کو منسوخ کر دیا گیا ہے اور آرمی ہاؤس راولپنڈی میں اعلی فوجی حکام کا ایک اہم اجلاس طلب کر لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ہنگامی طور پر بلائے جانے والے اس اجلاس میں صدر مشرف پر ایک ہفتے کے دوران دوسرے قاتلانہ حملے کا ہر پہلو بغور جائزہ لیا گیا۔ حملے کے فوراً بعد صدر آرمی ہاؤس چلے گئے جہاں پر ہی یہ اجلاس منعقد ہوا۔ گزشتہ ہفتے ہونے والے بم حملے کے بعد صدر مشرف نے اپنی معمول کی مصروفیات کو منسوخ نہیں کیا تھا اور ایک شادی میں شرکت کے لیے چلے گئے تھے۔ تاہم اس مرتبہ ان کی مصروفیات کو منسوخ کر دیا گیا ہے اور ابھی تک وہ سامنے نہیں آئے اور ان کی طرف سے کوئی بیان بھی نہیں دیا ہے۔ اس اجلاس میں صرف اعلی فوجی حکام نے شرکت کی جن میں راولپنڈی کے کور کمانڈر جنرل اشفاق کیانی، آئی ایس آئی (انٹر سروسز انٹیلیجنس ایجنسی) کے سربراہ جنرل احسان، ڈی جی ملٹری انٹیلیجنس اور دوسرے فوجی حکام شامل تھے۔ دوسری طرف وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی نے وفاقی کابینہ کے ایک ہنگامی اجلاس کی اسلام آباد میں صدارت کی جس میں اس حملے کے مختلف پہلوں پر غور کیا گیا۔ دریں اثنا فوج کی نگرانی میں تحقیقات کا فوری طور پرآغاز کر دیا گیا ہے اور حملہ آوروں کے جسم کے ٹکڑوں اور جائے واردات سے مختلف شواہد جمع کر کے ان کو لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کرسمس کے موقع پر اسلام آباد میں سفارت کاروں کی سیکورٹی کو چوکس کر دیا گیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||