فوجی کو سزائے موت کا حکم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر مشرف پر حملے میں ملوث ایک پاکستانی فوجی کو سزائے موت اور دوسرے کو دس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ایک فوجی عدالت میں چلائے جانے والے مقدمے میں ان دونوں فوجیوں کو صدر مشرف پر کئے جانے والے حملے میں ملوث پایا گیا تھا۔ صدر مشرف کو گزشتہ دسمبر میں راولپنڈی میں ایک بم حملے میں قتل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ایک فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ یہ دونوں نچلے درج کے فوجی ہیں۔ تاہم انہوں نے ان کے ناموں کا اعلان کرنے سے انکار کر دیا۔ گزشتہ دسمبر میں صدر مشرف کے راستے میں ایک بم نصب کیا گیا تھا جو صدر مشرف کے قافلے کے گزرنے کے چند لمحوں بعد پھٹ گیا تھا۔ اس سال مارچ میں صدر مشرف نے دعویٰ کیا تھا کہ ان پر حملے میں اسامہ بن لادن کی تنظیم القاعدہ ملوث ہے۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے اس فوجی عدالت کے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں ملزموں کو اس حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا تھا۔ تاہم انہوں نے کسی قسم کی تفصیل فراہم نہیں کی اور یہ نہیں بتایا کہ یہ لوگ اس حملے میں کس حد تک ملوث ہیں۔ سکیورٹی حکام نے دعوی کیا ہے کہ صدر مشرف پر ہونے والے دونوں حملوں کی منصوبہ بندی لیبیا سے تعلق رکھنے والے القاعدہ کے رکن ابو فراج البیبی نے کی تھی۔ اس سال اگست میں پاکستان نے اس کی اطلاع دینے والے کے لیے ساڑھ تین لاکھ ڈالر انعام میں دینے کا اعلان کیا تھا۔ ایک ماہ قبل صدر مشرف پر حملے میں ملوث امجد فاروقی پولیس کے ساتھ ایک مقابلے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||