BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حکومتی رویہ سخت رہے گا‘

بلوچستان
بلوچستان میں پرتشدد کارروائیاں بڑھ گئی ہیں
پیر کے روز صدر جنرل پرویز مشرف کی صدارت میں ہونے والے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں بلوچستان کے اندر پرتشدد کارروائیاں کرنے والوں کو ملک دشمن قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف بھرپور کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پاکستان کی مرکزی حکومت نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ مذہبی نفرت پھیلانے والوں کے خلاف انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت کارروائی کی جائے۔

قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کے بارے میں جاری کردہ حکومتی بیان کے مطابق اجلاس کو بتایا گیا کہ بلوچستان میں قومی اثاثوں کی ہرقیمت پر حفاظت کی جائے گی۔ اجلاس میں بعض افراد کی جانب سے نجی فوجوں کی تشکیل اور ’فراری کیمپوں، کے قیام کا بھی سخت نوٹس لیا گیا۔ ان کیمپوں میں حکومت کے مطابق جرائم پیشہ افراد کو پناہ دی جاتی ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ بلوچستان میں بجلی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے بعض شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان کی نشاندہی پر جہاں اسلحہ پکڑا گیا ہے وہاں شدت پسندوں کے خلاف مؤثر کارروائی میں بھی مدد ملے گی۔ تاہم گرفتار ہونے والوں کی تعداد یا ان کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔

اجلاس میں کہا گیا کہ بعض مزموم عزائم رکھنے والے عناصر بلوچستان میں بڑے ترقیاتی منصوبوں کی مخالفت کرتے ہیں۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان اور وزیراعلیٰ سرحد اکرم درانی جو بلحاظ عہدہ اس کونسل کے رکن ہیں، ماضی کی طرح اجلاس میں احتجاجی طور پر شریک نہیں ہوئے۔

صدر جنرل پرویز مشرف کی خواہش پر بنائی گئی اس کونسل کی تشکیل سترویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد عمل میں آئی تھی۔ سترویں آئینی ترمیم منظور کرانے کے لیے قاضی حسین احمد اور مولانا فضل الرحمٰن کی سربراہی میں قائم مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے اس کے حق میں ووٹ دیے تھے۔
بعد میں جب سلامتی کونسل کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری ہوا تو مجلس عمل کے رہنماؤں نے موقف اختیار کیا کہ اس کونسل کا سربراہ صدر کی بجائے وزیراعظم ہونا چاہیے۔

قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد حکومت کے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ اجلاس میں ملک میں امن امان کی صورتحال باالخصوص بلوچستان اور شمالی علاقہ جات کی صورتحال کے تناظر میں تفصیلی غور کیا گیا۔

حکومتی بیان سے ایسا لگ رہا ہے کہ زیادہ تر زور ملک سے فرقہ واریت اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے اور بلوچستان کی صورتحال پر ہی رہا۔

جبکہ ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے بڑے ڈیم بنانے، بلدیاتی انتخابات کرانے اور صوبہ سندھ میں حکمران جماعت مسلم لیگ میں بڑھتے ہوئے خلفشار کے متعلق بیان میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

بیان کے مطابق صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ مساجد سے لاؤڈ سپیکر کے غلط استعمال یعنی منافرت پھیلانے اور اشتعال انگیز تقاریر کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

اجلاس کو وزارت داخلہ، تعلیم، کشمیر وشمالی علاقہ جات اور مذہبی امور کے وزراء نے بریفنگ بھی دی اور طے کیا گیا کہ ملک بھر میں دینی مدارس کی رجسٹریشن اور سائنسی مضامین پڑھانے کا عمل تیز کیا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد