عزیزاللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ |  |
 |  خواتین کا ڈیرہ بگٹی میں یہ پہلا مظاہرہ تھا |
صوبہ بلوچستان کے شہر ڈیرہ بگٹی میں قبائلی خواتین نے جمعرات کو لیڈی ڈاکٹر شازیہ خالد سے زیادتی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ قبائلی علاقوں میں خواتین اس طرح کے مظاہروں میں کم ہی شرکت کرتی ہیں۔ خواتین کا جلوس جب ایک بازار سے گزرا تو لوگوں نے دکانیں بند کردیں اور احتراماً ایک طرف کو ہوگئے۔ جلوس مختلف بازاروں سے ہوتا ہوا پریس کلب کے سامنے پہنچا جہاں خواتین نے حکومت کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی۔ جلوس میں شامل خواتین نے قطبے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر مختلف نعرے لکھے ہوئے ہوئے تھے۔ خواتین نے کہا ہے کہ لیڈی ڈاکٹر شازیہ خالد سے مبینہ زیادتی کے ملزمان کو گرفتار کرکے سخت سزا دی جائے۔ انھوں نے کہا ہے کہ کیپٹن حماد کی وجہ سے فوج اور بلوچ قبائل بدنام ہوئے ہیں۔ ڈیرہ بگٹی سے آمدہ اطلاعات کے مطابق اس علاقے میں پہلی مرتبہ خواتین نے اس طرح سڑکوں پر مظاہرہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے بلدیاتی نظام میں ایک بھی خاتون نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا۔ اس سے پہلے بھی خواتین نے انتخابات میں کبھی حصہ نہیں لیا ہے۔ لیکن ایک خاتون سے مبینہ زیادتی کے خلاف آج ایک بڑی تعداد میں خواتین نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور نعرہ بازی بھی کی۔ شازیہ خالد سے دو اور تین جنوری کی درمیانی شب سوئی گیس فیلڈ میں ان کی رہائش گاہ پر نا معلوم افراد نے مبینہ زیادتی کی تھی اس میں ڈیفنس سروسز گارڈ کے کیپٹن حماد کا نام لیا جا رہا ہے لیکن فوجی حکام کیپٹن حماد کو بے گناہ گردانتے کرتے ہیں۔ شازیہ خالد سے مبینہ زیادتی کے بعد سوئی کے علاقے میں فسادات پھوٹ پڑے تھے جس میں کم سے کم آٹھ افراد ہلاک اور تیس سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔ |