چھاؤنیاں کہاں اورکیوں؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں سوئی اور گوادر میں فوج کے پڑاؤ ہیں جبکہ خضدار میں باقاعدہ چھاؤنی ہے جس میں فوج کی پوری ایک بریگیڈ تعینات ہے۔ کوہلو میں فوج کی چھاؤنی بنائے جانے کا منصوبہ ہے لیکن ابھی وہاں تعیناتی نہیں کی گئی۔ حکومت کے مطابق سوئی (ضلع ڈیرہ بگتی) اور کوہلو میں چھاؤنی کے لیے زمین تو خرید لی گئی ہے لیکن ابھی چھاؤنی کی تعمیر شروع نہیں ہوئی۔ فوج کے ہزاروں جوان بھاری اسلحہ سے لیس سوئی کی تنصیبات سے ملحق کیمپموں میں مقیم ہیں اور عسکریت پسندوں کی جانب سے حملہ سے نپٹنے کے لیے تیار ہیں۔ مقامی قوم پرستوں کا کہنا ہے کہ سوئی میں فوج کی تعداد تقریبا ایک بریگیڈ کے برابر ہے اور وہ گن شپ ہیلی کاپٹروں سے بھی لیس ہے جبکہ کمانڈوز کی ایک بڑی تعداد بھی یہاں مقیم ہے۔ یہی حال گوادر کا ہے جہاں فوج کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جسے مختلف مقامات پر ٹھہرایا گیا ہے گو چھاؤنی کے لیے زمین خرید لی گئی ہے۔ قوم پرستوں کے بڑے مطالبات میں سے ایک مطالبہ یہ بھی ہے ان چار جگہوں پر فوج کی موجودگی کو ختم کیا جائے۔ اُن کا کہنا ہے کہ صوبہ میں ان چار چھاؤنیوں کا مقصد بلوچوں کی آواز کو دبانا، ان کےمعدنی وسائل پر قبضہ کرنا اور پنجاب سے لائے گئے آبادکاروں کو تحفظ دینا ہے۔ بلوچستان میں صوبائی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈوکیٹ طنزاً کہتے ہیں کہ بلوچستان میں چھاؤنیوں کے قیام کو بھی بلوچوں کے لیے ترقی کا نام دیا جارہا ہے۔ قوم پرست سردار عطاللہ مینگل کہتے ہیں کہ چھاؤنی بنانے کا ایک خاص مقصد ہوتا ہے اور یہ ہمیشہ سرحدی علاقہ کے ساتھ بنائی جاتی ہے تاکہ دشمن کے حملے کا جواب دینے کے لیے فوج تیار رہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ ڈیرہ بگتی اور گوادر میں فوج کی تعیناتی کس خاص مقصد کے لیے ہیں۔ سردار عطاللہ مینگل کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں آرمی بٹھانے کا مقصد یہ ہے کہ پنجاب کے سرماریہ کاروں کو خوش کیا جائے اور اگر مقامی لوگ اپنے حقوق کی بات کریں گے تو آرمی کو ان کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔ سرکاری موقف یہ ہے کہ یہ چھاؤنیاں صوبہ میں امن و امان کی صورتحال کو بحال کرنے، ریاست کی عملداری قائم کرنے اور قومی تنصیبات کی حفاظت کے لیے بنائی گئی ہیں کیونکہ صوبہ کے پچانوے فیصد علاقہ میں پولیس کی عملداری نہیں ہے بلکہ لیویز ہیں جو تنخواہ ریاست سے لیتی ہیں لیکن عملی طور پر سرداروں کے تابع ہیں۔
فوجی حلقوں کا کہنا ہے کہ خضدار میں کئی برس پہلے چھاؤنی بنائی گئی جس سے مقامی آبادی کو بہت فائدہ ہوا۔ فوجی افسروں کا کہنا ہے کہ اس چھاؤنی کی وجہ سے لوگوں کو روزگار ملا، ٹھیکے ملے اور فوجی عملے کو کھانے پینے کی چیزیں جیسے دودھ، گوشت وغیرہ مہیا کرنے سے ان کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔ قوم پرستوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی پرانی خواہش ہے کہ سوئی میں رہنے والے بگتی قبائل کو اپنے اہل و عیال سمیت سوئی گیس تنصیبات سے پندرہ سے بیس کلومیٹر دور آباد کیا جائے۔ وہ اسے لوگوں کو جبری طور پر اپنے گھروں اور ملکیت سے بے دخل کرنے کا منصوبہ کہتے ہیں۔ اسلام آباد میں بلوچستان کے حالات پر ہونے والے ایک سیمینار میں اس علاقہ میں کام کرنے والے ایک سماجی کارکن مظہر لغاری کا کہنا تھا کہ سوئی میں قصبہ کی ستر فیصد آبادی غیر محفوظ حالات کی وجہ سے محفوظ علاقوں میں نقل مکانی کرگئی ہے اور جنگ جیسی صورتحال کی وجہ سے وہاں ایک ماہ سے اسکول بند ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تقریبا دو ہزار افراد کو حراست میں لیا ہوا ہے۔ مظہر لغاری کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائیوں میں اب تک پانچ عام شہری ہلاک اور چونتیس شدید زخمی ہوچکے ہیں اور گیس پلانٹ سے ملحق سینکڑوں گھروں کو گرایا دیا گیا ہے۔ تاہم کوئٹہ میں حکومت کا ترجمان ادارہ ان الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ کوئٹہ سے صحافیوں کو سوئی لےجایا گیا تھا اور انہیں وہاں ایک بھی مکان منہدم ہوا نظر نہیں آیا۔ قوم پرست مقامی آبادی کو یہ باور کرارہے ہیں کہ سوئی میں فوج کا اجتماع بلوچوں کے خلاف ایک سازش اور باقاعدہ منصوبہ ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ سوئی پلانٹ پر چھوٹی موٹی ملازمتوں پر فائز بگتی قبائل سے تعلق رکھنے لوگوں کو روزگار سے فارغ کرکے باہر سے آئے ہوئے افسر لوگ اپنے بندے ان جگہوں پر تعنیات کریں۔
دوسری طرف حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ چھاؤنیاں کے قیام کا فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ چار برسوں سے قوم پرستوں نے امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنا شروع کردیا تھا اور اس مقصد کے لیے بلوچستان کے گورنر اویس غنی کے مطابق افغانستان سے پچاس کروڑ روپے کا اسلحہ لایا گیا۔ ان گزشتہ دو برسوں میں کوئٹہ شہر میں راکٹوں سے حملہ کیا گیا، بم دھماکےکیے گیے، کوہلو میں بارودی سرنگیں بچھائی گئیں اور فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) پر حملہ کیے گئے، گوادر میں چینی انجینئروں پر حملے کیے گئے، مند میں راکٹوں فائر کیے گئے، خضدار میں فوج کے جوانوں پر حملہ ہوا، نوشکی میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر دستی بموں سے حملہ کیاگی۔ قلات شہر میں بم کے دھماکوں سے کئی لوگ مارے گئے، بلوچستان ہائی کورٹ کی عمارت میں سائکل اسٹینڈ پر بم دھماکہ کیا گیا، ٹرین لائنوں کو دھماکہ سے اڑایا گیا اور ایک ٹرین جعفر ایکسپریس پر راکٹوں سے حملہ کرکے متعدد افراد کو زخمی کردیاگیا۔ سوئی اور راجن پور کے علاقہ میں گیس پائپ لائنوں کو کئی مرتبہ دھماکوں سے اڑایا گیا جس سے پورے ملک کو گیس کی سپلائی متاثر ہوئی۔ حال ہی میں سوئی گیس تنصیبات پر جو راکٹوں سے حملہ ہوا اس پر نواب بگتی کا کہنا ہے کہ مقامی لوگوں نے لیڈی ڈاکٹر سے زیادتی کے واقعہ پر مشتعل ہوکر ردعمل میں سیکیورٹی گارڈ پر حملہ کیا۔ تاہم بلوچستان کے گورنر اویس غنی کا کہنا ہے کہ اسے لیڈی ڈاکٹر کے واقعہ کا ردعمل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ عام لوگ ردعمل میں گولی چلا سکتے ہیں لیکن جدید ترین راکٹ تو ان کے پاس نہیں ہوسکتے۔ بلوچستان کے گورنر کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ دو سال سے بلوچستان میں ہر ہفتہ ایک حملہ ہوتا ہے۔ بلوچستان کے گورنر کے مطابق صوبہ میں گزشتہ دو سال میں تقریبا اٹھارہ ہزار راکٹ فائر کیے گئے جن میں سے تقریبا پونے سولہ ہزار راکٹ تو صرف سوئی کے مختلف مقامات پر فائر ہوئے۔ گورنر کا کہنا ہے کہ جب وہ نواب بگتی سےملنے جارہے تھے تو ان کے پہنچنے سے پہلے سوئی ائرپورٹ کی عمارت اڑا دی گئی لیکن وہ پھر بھی ان سےملاقات کے لیے گئے۔ سوئی اور ڈیرہ بگتی قصبوں کے درمیان فاصلہ چون کلومیٹر ہے۔ بلوچستان کا پچانوے فیصد علاقہ پولیس کے ماتحت نہیں ہے بلکہ بہاں پر امن و امان کی ذمہ داری وفاقی اور صوبائی لیویز کی ہے جن میں قبائل کے لوگ سیاسی بنیادوں پر بھرتی کیے گئے۔ صرف ڈیرہ بگتی میں ایک ہزار لیویز ہیں جو عملاً نواب بگتی کے ماتحت ہیں۔ اس طرح عملاً صوبہ میں حکومت کی عملداری (رٹ) موثر نہیں۔ (دوسری اور تیسری قسط میں بلوچستان میں امن وامان کے مسائل اور چھاؤنیوں کے لیے حاصل کی گئی زمینوں کا تنازعہ) |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||