BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 15 February, 2005, 09:37 GMT 14:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عسکری کارروائیوں کی راہ کیوں؟

News image
عسکریت پسند کون؟ بلوچ نوجوان یا قبائیلی گڈریے۔
مری، مینگل اور بگتی قبائل کے بڑے سرداروں کی قیادت میں چلائی جانے والی بلوچ قومی تحریک جلسے جلوسوں یا پریس کانفرنسوں اور وال چاکنگ یا پمفلٹوں کے ذریعے نہیں بلکہ راکٹ لانچروں کے ذریعے چلائی جارہی ہے۔ کوہلو کی کاہان تحصیل میں مقیم بلاچ مری اس تحریک کے اصل قائد اور طاقت کا منبع مانے جاتے ہیں۔

گو قوم پرست سرداروں کے بیانات اور انٹریوز میڈیا میں آرہے ہیں اور قوم پرستوں کے کہنے پر ان کے مطالبات کے حق میں بارہ فروری کو صوبہ بھر میں کاروبار کی مکمل ہڑتال کی گئی لیکن بڑا احتجاجی طریقہ عسکری کاروائیاں ہیں۔

ان مسلح کارائیوں میں اب تک کئی بار بجلی اور ٹیلی فون کے ٹاور گرائے گئے، ٹرینوں پر راکٹوں سے حملے کیے گئے اور سوئی گیس پائپ لائنوں کو راکٹوں اور ٹائم بموں سے اڑایا گیا۔ بلوچستان ے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی ایجنسی ایف سی کے دفاتر پر راکٹوں سے حملے آئے روز کا معمول ہے۔

News image
سردار خیر بخش مری: تحریک کے روح رواں

بلوچ قومی تحریک نے عسکری طریق کار کیوں اختیار کیا اس کی وجہ بتاتے ہوئے کوئٹہ میں مقیم ایک بلوچ دانشور کا کہنا ہے کہ جلسے جلوس تو شہری علاقوں کی سیاست میں ہوتا ہے اور متوسط طبقہ یہ سیاسی طریقہ اختیار کرتا ہے جبکہ بلوچستان میں صرف کوئٹہ ایک شہری علاقہ ہے اور یہاں مقیم ایک بہت ہی چھوٹے بلوچ متوسط گروہ کی موثر سیاسی آواز نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں یا تو سردار ہیں اور یا غریب لوگ، خانہ بدوش اور گڈریے۔

اس تناظرمیں بلوچ قومی تحریک نے اپنی سیاست کو آگے بڑھانے اور احتجاج کرنے کے لیے ساٹھ کی دہائی اور ستر کی دہائی کی طرح ایک بار پھر مسلح جدوجہد اور عسکری کاروائیوں کا طریقہ اختیار کیا ہے جس کی بڑی اور اصل تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ ہے جبکہ بلوچ دانشوروں کے مطابق بلوچ لبریشن آرمی ایک کاغذی سی تنظیم ہے جو بیانات وغیرہ جاری کرتی رہتی ہے۔

قوم پرست عسکریت پسندوں کی اتنی دہشت ہے کہ بلوچ دانشور اس تحریک کی تفصیلات بتاتے ہوئے اپنے نام ظاہر کرنا نہیں چاہتے۔ اسی طرح کوئی بھی معتدل کہلائے جانے والا بلوچ سیاستدان (جیسے سابق وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی اور اس وقت صوبہ کے وزیراعلی جام یوسف) جو اس تحریک سے براہ راست وابستہ نہیں ہے لیکن وہ بھی کبھی نام لے کر خیر بخش مری، نواب اکبر بگتی اور عطا اللہ مینگل پر تنقید نہیں کرتا۔ لوگوں کا خیال ہے کہ عسکریت پسند اتنے طاقتور ہیں کہ ان کا کوئی ناقد زندہ نہیں بچ سکتا۔

نواب خیر بخش مری کے علاقہ کوہلو کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ہر روز آٹھ دس راکٹ فائر کیے جاتے ہیں جن کا مقصد خوف و ہراس اور دہشت پھیلانا اور شدت پسندوں کی طرف سے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے۔ یہ راکٹ کسی ہدف پر نہیں مارے جاتے بلکہ انتظامیہ کے دفاتر جیسے ضلع میں انتظامی سربراہ ڈی سی او آفس اور ایف سی کے مراکز وغیرہ کے پاس آکر گرتے ہیں۔

بلوچ قوم پرست سردار جیسے نواب اکبر بگتی، عطا اللہ مینگل اور نواب خیر بخش مری کے دو سرگرم بیٹے حربیار مری اور بلاچ مری ان مسلح کاروائیوں کی مذمت نہیں کرتے بلکہ انہیں عوام کا اپنے حقوق لینے کے لیے ردعمل قرار دیتے ہیں۔ ذرا معتدل اور ترقی پسند رہنما جیسے نیشنل پارٹی (بلوچ نیشنل موومنٹ اور دوسری جماعتوں کے ضم ہونے کے بعد بننے والی جماعت) کے رہنما سینیٹر ثنا اللہ بلوچ عسکری کاروائیاں کرنے والوں کو مزاحمت کار کہتے ہیں۔

کوئٹہ میں مقیم بعض بلوچ دانشوروں کا کہنا ہے کہ بلوچ لبریشن فرنٹ میں طلبا تنظیم بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) کے سخت گیر عناصر شامل ہیں۔ کچھ دوسرے لوگوں کی رائے اس کے برعکس ہے۔ ان کہنا ہے کہ اس شدت پسند تنظیم میں عسکری کاروائیاں کرنے والوں میں کوئی تعلیم یافتہ بلوچ یا متوسط طبقہ کا بلوچ شامل نہیں بلکہ یہ مری، بگتی اور مینگل قبائل کے گڈریوں، چرواہوں اور خانہ بدوشوں پر مشتمل تنظیم ہے جس کی قیادت رکن صوبائی اسمبلی بلاچ مری کے ہاتھ میں ہے اور چار جماعتی بلوچ اتحاد کے اصل قائد بھی وہی ہیں۔

بلاچ مری اپنے بیانات میں کہتے ہیں کہ ان کی بی ایل ایف سے سیاسی وابستگی ہے لیکن وہ ان کی محتاج نہیں۔ تاہم ان کے دعوے کو سچ ماننے والے لوگ شاذ و نادر ہی ملیں گے۔ کوئٹہ کے باخبر حلقے سمجھتے ہیں کہ خیر بخش مری سب سے زیادہ سخت گیر ہیں اور انہوں نے بلوچ قوم پرستی کی اس تحریک کی کامیابی کو اپنی زندگی اور موت کا مسئلہ بنا لیا ہے۔ ان کی جماعت بلوچ حق توار (بلوچ حقوق کی آواز) چار جماعتی بلوچ یکجہتی اتحاد کا حصہ بھی ہے۔

کوئٹہ میں بائیں بازو کے تری پسند بلوچ دانشوروں کا کہنا ہے کہ گڈریے بندوق ہاتھ میں لینے کے لیے سرداروں کے ہاتھوں مجبور ہیں۔ ایک تو ان سرداروں کو بلوچ ثقافت میں روحانی پیشوا بھی مانا جاتا ہے اور دوسرے اگر وہ سردار کے حکم کی اطاعت نہ کریں تو ان کے مال مویشی ان سے چھین لیے جاتے ہیں اور ان کے اہل خانہ کو قتل کردیا جاتا ہے۔

بلوچ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کوہلو اور ڈیرہ بگتی کے پہاڑوں کے سلسلے تہہ دار ہیں اور ایک کے پیچھے دوسرے، تیسرے اور چوتھے پہاڑ کی وجہ سے عسکریت پسندوں کے چھپنے کے لیے بہترین پناہ گاہ فراہم کرتے ہیں۔ ان جگہوں پر کوئی چھوٹا فوجی آپریشن کامیاب نہیں ہوسکتا جبکہ بلوچ عسکریت پسندوں کے پاس جدید اسلحہ بھی ہے اور وہ اپنے علاقہ سے بخوبی واقف ہیں۔

بلوچ دانشوروں کے مطابق گوریلا جنگ کے لیے چار چیزیں درکار ہیں۔ (الف) مسلح جوانوں کے لیے اور اسلحہ کی رسد کے لیے محفوظ راستہ، (ب) چھپنے کی محفوظ جگہ جہاں تک مخالف فریق کی رسائی نہ ہوسکے (ج) اردگرد کے عوام کی حمایت جو مخبری نہ کرے۔ اس وقت یہ سب چیزیں بلوچ عسکریت پسند قوم پرستوں کو دستیاب ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہےکہ کراچی میں متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) کے برعکس کوئی بلوچ سیاستدان عسکریت کے وجود سے انکار نہیں کرتا اور اسے بلوچ قومی جدوجہد کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔

(اگلی قسط میں دیکھیں گے عسکریت پسندوں کی تعداد، کیمپس، اسلحہ اور پیسہ کے ذرائع)

بلوچبلوچ کہانی
بلوچ قوم پرستی، تاریخی پس منظر: دوسری قسط
بلوچ قوم پرستبلوچ کہانی
بلوچ قوم پرستی، تاریخی پس منظر میں: پہلی قسط
بلوچستانبلوچ کہانی
بلوچ تحریک کے فوری اسباب کیا ہیں؟
بلوچ کہانی - 4
بلوچ قومی تحریک کون چلا رہا ہے؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد