بلوچ قوم پرستی کا ارتقاء | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس وقت بلوچستان میں جاری بلوچ قوم پرستی کی تحریک اور اس سے جڑی ہوئی عسکری کاروائیاں پاکستان کی تاریخ میں اس قسم کی چوتھی تحریک ہے۔ بلوچ قوم پرستی پر مبنی شدت پسند تحریکیں قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہر دور میں کبھی نرم تو کبھی گرم چلتی رہی ہیں۔ اس سے پہلے پچاس، ساٹھ اور ستر کی دہائی میں بلوچ قوم پرست بلوچستان کی خودمختاری اور سیاسی حقوق کے لیے اسی قسم کی تحریکیں چلا چکے ہیں جو پانچ سے چھ سال تک جاری رہیں۔ ان تحریکوں میں گوریلا کاروائیاں کی گئیں جبکہ جواب میں حکومت نے انہیں دبانے کے لیے فوجی کاروائیاں کیں، بلوچ رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی گئیں، بلوچ آبادی کی نقل مکانی ہوئی، قوم پرستوں کو سزائیں دی گئیں اور بالآخر عام معافی کا اعلان کردیا گیا اور اس تحریک کی شدت کچھ عرصہ کے لیے ٹھنڈی پڑ گئی۔ قیام پاکستان کے بعد پہلی بلوچ قوم پرست تحریک خود خانِ قلات نے چلائی اور کچھ سیاسی رہنماؤں کا خیال ہے کہ اس وقت کے گورنر جنرل سکندرمرزا نے ایک سازش کے تحت خان آف قلات کو اس کی ترغیب دی تھی اور کہا تھا کہ اگر وہ تھوڑی سی احتجاجی تحریک چلا لیں تو وہ قلات کو انہیں سونپ دیں گے۔ خان قلات نے انیس سو اٹھاون میں خان محراب شہید (ایک بڑے بلوچ قوم پرست رہنما) کی قبر پر بلوچ رہنماؤں کو جمع کرکے قلات کی آزادی کا اعلان کیا اور اس کا پرچم لہرایا۔ اس موقع پر بلوچ سرداروں نے ایک عزم کیا جسے بلوچی ثقافت میں اقرار کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ جب تک وہ آزادی حاصل نہیں کرلیں گے وہ اپنی بیویوں سے تعلقات نہیں رکھیں گے اور اگر ایسا کریں گے تو وہ بدکاری ہوگی اور ان کے نکاح ٹوٹ جائیں گے۔ اس احتجاج کو جواز بنا کر پاکستان میں انیس سو اٹھاون کا فوجی مارشل لا نافذ کردیا گیا اور کہا گیا کہ بلوچستان میں بغاوت ہوگئی ہے۔ سردار پہاڑوں پر نکل گئے۔ اس احتجاجی تحریک کے ایک سرکردہ رہنما سردار نوروز خان زرکزئی تھے۔
انیس سو اٹھاون سے انیس سو باسٹھ تک قلات کی جنگ پہاڑوں میں چلتی رہی۔ پاکستانی فوج قلات کے علاقوں ، جھالاوان(خضدار) اور ساراوان، میں بلوچوں سے لڑتی رہی۔ انیس سو باسٹھ میں جنرل ایوب خان نے بلوچ قوم پرست سرداروں سے ایک معاہدہ کیا کہ اگر وہ ہتھیار ڈال دیں تو حکومت انہیں عام معافی دے گی۔ اس معاہدہ کے تحت جب سردار پہاڑوں سے اترے تو جنرل ایوب خان کی حکومت نے قوم پرستوں کو گرفتار کیا اور سزائیں دیں۔ سات آدمیوں کو پھانسی ہوئی۔ بلوچ قوم پرستوں کی تحریک میں یہ واقعہ ایک بڑے زخم کے طور یاد کیا جاتا ہے جو انہیں پاکستان کی فوج اور مقتدر طبقہ سے لگا۔ اسی واقعہ کے فوراً بعد ایوب خان کےمتعارف کردہ بنیادی جمہوریت کے نظام کے تحت قومی اسمبلی کے لیے انیس سو باسٹھ کے انتخابات ہوئے جس میں قلات سے بلوچ سردار عطا اللہ اور کوئٹہ (برطانوی بلوچستان) سے نواب خیر بخش مری منتخب ہوئے۔ مغربی پاکستان کی صوبائی اسمبلی میں بھی قوم پرست بلوچ سیاستدان منتخب ہوئے۔ بلوچ قوم پرستوں نے اپنے سیاسی حقوق اور اپنی تاریخ کے حوالہ سے بلوچستان کی خود مختاری کی باتیں اسمبلیوں میں زور وشور سے کیں۔ ایوب خان کی حکومت نے بلوچ قوم پرستوں کو انیس سو تریسٹھ میں ایک بار پھر گرفتار کرلیا۔ اس بار نواب مری گرفتار نہیں ہوئے البتہ بلوچ تحریک کے موجودہ سُرخیل نواب اکبر بگتی، غوث بخش بزنجو اور عطاللہ مینگل کو گرفتار کرلیا گیا۔ ان کے ساتھ ہزاروں بلوچ سیاسی کارکنوں کو بھی قلی کیمپ نامی برطانوی حکومت کی جاپانیوں کے لیے بنائی گئی اذیت ناک جیل میں ڈال دیا گیا۔ بلوچ قوم پرستوں کا کہنا ہے کہ ان کارکنوں کو جیلوں میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
مری، بگتی اور جھالاوان(خضدار) کے علاقوں میں فوجی کاروائی انیس سو انہتر تک جاری رہی۔ ہزاروں قبائلیوں کو بھی قید کیا گیا۔ یہ بلوچ قوم پرستوں کی پاکستان میں دوسری بڑی تحریک تھی۔ اس دوسری شدت پسند بلوچ تحریک کا خاتمہ جنرل ایوب کی جگہ لینے والے جنرل یحییٰ خان نے بلوچ قوم پرستوں کو عام معافی دے کر کیا۔ سب بلوچ قوم پرستوں کو جیلوں سےنکال دیا گیا اور سرداروں کی ضبط کی گئی جاگیریں انہیں واپس کردی گئیں۔ اس پس منطر میں انیس سو ستر کے عام انتخابات ہوئے جو ملک میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر کرائے جانے والے پہلے انتخابات تھے۔ بلوچ اور پختون قوم پرستوں کی جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے پورے صوبے کے نشستیں بھاری اکثریت سے جیت لیں۔ مشرقی بنگال کے پاکستان سے الگ ہوجانے کے بعد پہلی بار بلوچ قوم پرست انیس سو بہتر میں بلوچستان میں اقتدار میں آئے اور عطااللہ مینگل نے وزارتِ اعلیٰ سنبھالی۔ مینگل اب موجودہ قوم پرست تحریک کے تین بڑے قائدین میں نواب خیر بخش مری اور نواب اکبر بگتی کے ساتھ شامل ہیں۔ صرف ایک سال بعد انیس سو تہتر میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے مینگل کی حکومت کو برخواست کردیا۔ اس بار نواب اکبر بگتی نے قوم پرستوں کے بجائے حکومت کا ساتھ دیا اور صوبہ کے گورنر مقرر کیے گئے۔
بھٹو دور میں بلوچ قوم پرست قائدین اور کارکنوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی گئیں۔ ان کے خلاف فوجی کاروائیاں کی گئیں جو انیس سو ستتر تک بھٹو حکومت کے خاتمہ اور مارشل لاء کے نفاذ تک جاری رہیں۔ جس طرح یحییٰ خان نے ایوب دور میں کیے گئے آپریشن کو بند کرکے بلوچ قوم پرستوں کو عام معافی دی تھی جنرل ضیاءالحق نے بھی ان کے لیے عام معافی کا اعلان کیا اور انیس سو اٹھہتر تک پہاڑوں میں چھپے لوگ باہر نکلے اور افعانستان سے واپس آئے۔ نواب خیر بخش مری چھ ہزار ساتھیوں سمیت افغانستان نقل مکانی کرگئے اور قلات غزنی کے علاقہ میں مقیم ہوگئے اور کمیونسٹ حکمران نجیب اللہ کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد پاکستان واپس آگئے۔ کہا جاتا ہے کہ مری قبیلہ کی آبادکاری اور بحالی کے لیے حکومت نے فنڈز فراہم کیے۔ جنرل ضیاءالحق کا دور بلوچستان میں نسبتاً امن کا دور تھا جب قوم پرست رہنما ملک سے باہر چلے گئے یا ٹھنڈے ہوکر بیٹھ گئے۔ عطااللہ مینگل اس دور میں لندن میں خود ساختہ جلاوطنی میں رہے۔ تاہم بائیں بازو کے رہنما غوث بخش بزنجو تحریک بحالی جمہوریت (اے آر ڈی) میں سرگرم تھے۔ انیس سو اٹھاسی کے بعد پہلے نواب اکبر بگتی نے منتخب وزیراعلیٰ کے طور پر صوبہ میں حکومت بنائی جسے برخواست کردیا گیا۔ بعد میں عطاللہ مینگل کے بیٹے اختر مینگل نے حکومت بنائی تو اسے بھی برخواست کردیا گیا۔ جب بھی بلوچ قوم پرستوں نے وفاقی پارلیمانی جمہوریت کے تحت پاکستانی سیاست کا حصہ بننا چاہا ، انیس سو ساٹھ سے انیس سو ستانوے تک، انہیں گرفتار کیا گیا اور ان کی صوبائی حکومتوں کو برخواست کیا گیا۔ قوم پرستوں کا الزام یہ ہے کہ فوج کے انٹیلی جنس ادارے بلوچ سرداروں اور قوم پرستوں کی حب الوطنی پر شک کرتے ہیں اور ان کے خلاف چھوٹے سرداروں کو پیسہ دے کر انہیں بلوچوں کا رہنما بنانے کی کوشش کرتے رہے۔ یہی بات بڑے بلوچ سرداروں نواب خیر بخش مری، عطااللہ مینگل اور نواب اکبر بگتی کی اسلام آباد کے خلاف لڑائی کی بنیاد بتائی جاتی ہے۔ یہ تینوں بلوچ سردار الگ الگ ہوچکے ہیں اور ان کی الگ الگ سیاسی جماعتیں ہیں۔ بگتی کی جماعت جمہوری وطن پارٹی اور مینگل کی جماعت بلوچ نیشنل موومنٹ ہے۔ بگتی اور مینگل کی وزارتوں کی برطرفی اور ان کا یہ احساس کہ اسلام آباد کے مقتدر حلقے ان کے سیاسی مخالفین کو فروغ دے رہے ہیں ان کو اکٹھا کرنے کا سبب بتایا جاتا ہے۔ چند سال پہلے چار قوم پرست جماعتوں نے ایک اتحاد بلوچ یکجہتی کے نام سے بنالیا جو عسکری تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ کے ساتھ مل کر اس وقت قوم پرستی کی تحریک کی قیادت کررہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||