BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 14 February, 2005, 16:27 GMT 21:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچ قوم پرست تحریک کیوں ؟

بلوچ تحریک کی فوری وجوہات میں گوادر بندر گاہ کا منصوبہ بھی شامل ہے
بلوچ تحریک کی فوری وجوہات میں گوادر بندر گاہ کا منصوبہ بھی شامل ہے
گوادر بندرگاہ، چھاؤنیاں، سیاسی خود مختاری اور معدنی وسائل کی آمدن یہ وہ چار بڑے معاملات ہیں جن پر موجودہ بلوچ قوم پرست تحریک چلائی گئی ہے۔ سرداروں کے مفادات، جداگانہ بلوچ تشخص کا تحفظ اور بلوچوں کے لیے سیاسی اور معاشی خود اختیاری کا حصول اس سیاسی اور عسکری تحریک کے بڑے محرکات اور مقاصد نظر آتے ہیں جبکہ سرکاری حلقوں کے مطابق ہمسایہ ممالک کی شہ اور امداد بھی ایک بڑا سبب ہے۔

بلوچ سردار اپنے انتخابی حلقوں کے محدود ہوجانے اور اپنے مقامی حریفوں کو اسلام آباد سے سرپرستی ملنے سے تو نالاں تھے ہی اکتوبر سنہ دو ہزار دو کے عام انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کی جیت نے انہیں مزید برافروختہ کردیا۔

بلوچ سرداروں کا خیال ہے کہ اسلام آباد نے انہیں سیاسی اقتدار سے دور رکھنے کے لیے عام انتخابات میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کو انتخابات میں زیادہ نشستیں جیتنے میں مدد دی اور مخلوط حکومت کا حصہ بنوایا۔

بلوچ قوم پرست جماعتوں نے چار جماعتی بلوچ یکجہتی کی بنیاد رکھی اور احتجاجی تحریک چلانے کے لیے بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سینئر کارکنوں اور رہنماؤں نے عسکری تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ قائم کی۔ اس وقت اسلام آباد میں مسلم لیگی بلوچ سردار میر ظفراللہ خان جمالی کی حکومت تھی۔

ظفراللہ جمالی کی وزارت عظمیٰ کے بنتے ہی ڈیرہ بگتی اور سوئی سے جڑے ہوئے علاقوں ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں سوئی گیس پائپ کی بڑی پائپ لائنوں پر حملے شروع ہوگئے۔

نواب اکبر بگتی نے ان حملوں پر تبصرہ کرتے ہوئےکہا کہ اگر عوام کو اپنے حقوق نہیں ملیں گے تو وہ حملے تو کریں گے۔ نواب بگتی ہر عسکری کاروائی اور دھماکہ کو عوام کا ردعمل قرار دیتے ہیں جبکہ حکومت انہیں تخریب کار قرار دیتی ہے۔

گیس پائپ لائنوں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے والے دو تین بڑے واقعات میں سے ایک دفعہ تو تین روز تک پنجاب اور سرحد کو گیس کی فراہمی مکمل طور پر منقطع ہوگئی۔ راجن پور اور ملحقہ علاقوں میں قبائلیوں کی لڑائیاں اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں تیزی آگئی۔

بلوچ قوم پرستوں اور عسکریت پسندوں کے منظم ہونے کی اطلاعات اسلام آباد اسٹیبلیشمینٹ کو ملنے لگیں تو اس سے نپٹنے کے لیے سب سے پہلے تو میر ظفراللہ جمالی کو وزارت عظمیٰ کے منصب سے ہٹادیا گیا۔

جمالی کے ہٹائے جانے کے فوراً بعد حکومت نے عسکریت پسندوں کے مراکز، ڈیرہ بگتی، کوہلو اور خضدار اور اسلام آباد کی معاشی منصوبہ بندی کے نئے مرکز گوادر میں فوجی چھاؤنیاں بنانے کا اعلان کیا تاکہ شدت پسندوں کا توڑ کیا جاسکے۔

بعض مبصرین کہتے ہیں کہ میر ظفراللہ جمالی کو وزارت عظمی ٰ سے ہٹانے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ان کے ہوتے ہوئے وفاقی حکومت بلوچستان میں اسلام آباد عسکریت پسندوں اور قوم پرستوں کے خلاف ایسے اقدامات نہیں لے سکتا تھا جیسے چھاؤنیوں یا فوجی کیمپوں کا قیام۔

بلوچستان میں چھاؤنیاں کے قیام کی مخالفت قوم پرستوں کا ایک بڑا نعرہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد انہیں ان کے حقوق تو دینا نہیں چاہتا بلکہ چھاؤنیاں بنا کر ان کی آواز بندوق کے زور پر دبانا چاہتا ہے۔ حکومت سے کسی قسم کی بات چیت شروع کرنے کے لیے اُن کی شرط ہے کہ ان جگہوں پر تعینات فوجیوں کو ہٹایا جائے۔

اکبر بگتی نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو ترقی دینے کے لیے چھاؤنیاں اور چوکیاں بنائی جارہی ہیں جبکہ بلوچستان میں پہلے ہی فرنٹیئر کانسٹیبلری کی پانچ سو سے زیادہ چوکیاں قائم ہیں۔

اس دوران جنوری کے شروع میں سوئی میں لیڈی ڈاکٹر سے مبینہ زیادتی کا واقعہ پیش آگیا جس کی مقامی پولیس تحقیق نے بھی تصدیق کردی اور یہ ثابت ہوگیا کہ پی پی ایل انتظامیہ اسے چھپانے کی کوشش کرتی رہی۔

نواب بگتی کی جمہوری وطن پارٹی نے الزام لگایا کہ سوئی گیس فیلڈ میں پی پی ایل کے ہسپتال میں سندھ سے تعلق رکھنے والی ایک لیڈی ڈاکٹر سے ایک فوجی کپتان سمیت چار فوجی اہلکاروں نے زنا بالجبر کیا اور اسے چھانے کی کوشش میں اسے ڈکیتی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔

نواب اکبر بگتی نے لیڈی ڈاکٹر سے مبینہ زیادتی کے واقعہ کے بعد بیان دیا کہ وہ بلوچستان کو فوج کی بدکاری کا اڈہ نہیں بننے دیں گے۔ جنوری کے شروع میں اس واقعہ کے بعد ان کی ساری سیاست کا زور اس معاملہ پر ہے۔ انہوں نے حکومت سے مذاکرات کرنے کے لیے یہ شرط لگا رکھی ہے کہ اس واقعہ کے ذمہ دار فوجی افسر کو سزا دی جائے اوروہ بلوچ روایات کے مطابق آگ پر سے گزر کر اپنی بے گناہی ثابت کرے۔

دوسری طرف سرکاری حلقے لیڈی ڈاکٹر سے زیادتی کے واقعہ کو نواب اکبر بگتی کی سازش قرار دیتے ہیں جس کا مقصد بلوچ عوام میں فوج کے خلاف نفرت پیدا کرنا اور انہیں یہ باور کرانا تھا کہ فوجی چھاؤنیاں بننے سے اُن کی عزت و ناموس محفوظ نہیں رہے گی اور بلوچ معاشرتی اقدار خطرے میں پڑ جائیں گی۔

سرداروں کے سیاسی اثر و رسوخ کے تفکرات کے علاوہ جس چیز نے بلوچ تعلیم یافتہ طبقہ اور چھوٹے سے متوسط طبقہ کو سیاسی احتجاج پر مائل کیا ہے وہ بلوچستان کی پاکستان کی معیشت میں تیزی سے بڑھتی ہوئی اہمیت ہے اور یہ ان کی یہ فکر ہے کہ ان معاشی فوائد سے بلوچ آبادی کو نہ ہونے کے برابر فائدہ ہوگا جیسا سوئی کی گیس کے ساتھ ہوا۔

قوم پرستوں کا یہ موقف ہے کہ کوہلو میں چھاؤنیاں بنانے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ مری قبائل کے اس علاقہ میں گیس اور تیل کے وسیع ذخائر موجود ہیں اور اسلام آباد کی اسٹیبلیشمینٹ کسی نہ کسی طرح ان وسائل کو اپنی دسترس میں لانا چاہتی ہے۔

اس طرح بلوچ دانشوروں کا کہنا ہے کہ ایران سے پاکستان اور آگے بھارت تک لے جانے کے لیے اس پائپ لائن کو بلوچستان میں بلوچ قوم پرستوں کے مراکز سے گزرنا ہوگا۔ وہ پوچھتے ہیں کہ اس پائپ لائن سے اسلام آباد کو بھارت سے راہداری ملے گی تو بلوچوں کو کیا ملے گا؟

قوم پرست دانشور طاہر محمد خان کا کہنا ہے کہ بلوچستان معدنی وسائل سے مالا مال خطہ ہے جس میں لوہا، کرومیم، زنک، تانبا، تابکار دھاتیں اور کوئلہ بڑی مقدار میں آٹھ دس جگہوں پر موجود ہے۔

قوم پرستوں کا خیال ہے کہ دنیا کی بڑی کمپنیوں کی نظریں بلوچستان کے وسائل پر لگی ہیں۔ اگر بلوچ ان کثیرالملکی مغربی کمپنیوں سے براہ راست معاملہ کریں تو انہیں معدنی وسائل کی آمدن کا بڑا حصہ ملے گا جبکہ پاکستان کے موجودہ آئین اور سیاسی نظام میں وہ اس حصے سے محروم رہیں گے۔

بلوچستان کے سنیٹر ثنااللہ زہری، جن کا تعلق قوم پرست جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی سے ہے، کا کہنا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ نوے منٹ میں حل کیا جاسکتا ہے اور اس کے لیے بلوچستان کے قدرتی وسائل پر بلوچوں کا حق ملکیت تسلیم کرنا ہوگا۔

بلوچستان کے ترقیاتی منصوبے اور نام نہاد میگا پراجیکٹس جیسے گوادر کی بندرگاہ اور مکران ساحلی سڑک اور متعدد نئے ڈیمز کی تعمیر کا موجودہ حکومت اپنے کارنامہ کے طور پر فخر سے ذکر کرتی ہے لیکن قوم پرست ان پراجیکٹس کو بلوچ قوم کو اقلیت میں تبدیل کرنے اور بلوچستان میں دوسرے صوبوں کے لوگوں کو یہاں بلاکر ان کی آبادکاری کرنے کا منصوبہ قرار دیتے ہیں۔

آجکل کوئٹہ کے اخبارات میں روزانہ حکومت کے دیے گئے بڑے بڑے اشتہار شائع ہورہے ہیں جس میں صوبہ میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی طویل فہرست دی گئی ہے۔

وزیراعلیٰ جام یوسف کا کہنا ہے کہ کہ ملکی ضروریات کے لیے تیل کی درآمد گوادر بندرگاہ کے ذریعے کرنے پر غور کیا جارہا ہے جس کے لیے گوادار میں آئل ٹرمینل اور آئل ریفائنری قائم کی جائے گی اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے ایکسپورٹ پراسیسنگ زون بنایا جائے گا۔

نواب اکبر بگتی کا کہنا ہے کہ گوادر ماسٹر پلان کے بارے میں انہیں علم نہیں کہ وہاں کیا ہونے جارہا ہے جس سے شکوک و شبہات اور تحفظات کو تقویت مل رہی ہے۔

بگتی کا کہنا ہے کہ باہر کے لوگوں کی لاکھوں کی تعداد میں آبادکاری سے بلوچ اپنی سرزمین پر اقلیت میں تبدیل ہوجائیں گے اور پندرہ بیس سال بعد بلوچستان کا وزیراعلی بھی کوئی راجہ، چودھری، ملک یا اعوان (شمالی پنجاب کی بڑی ذاتوں کے لوگ) ہوگا۔

نواب خیر بخش مری نے تمام پارلیمانی جماعتوں پر مشتمل بلوچستان کے لیے بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی سے اس لیے علٰیحدگی اختیار کرلی تھی کہ مذاکرات کے دوران حکومت نے ان منصوبوں پر کام بند نہیں کیا بلکہ ان کی تکمیل کی رفتار اور تیز کردی۔

اس وقت بلوچ قوم پرست تحریک کے پیچھے یہ چار بڑے محرکات ہیں اور انہیں پر مبنی مطالبات کو لے کر وہ آگے بڑھ رہی ہے۔ ان میں سے تین معاملات سیاسی نوعیت کے ہیں اور ایک کا تعلق اقتصادی حقوق سے ہے۔ آثار یہ ہیں کہ جب تک اسلام آباد اور قوم پرستوں میں ان معاملات پر سیاسی تصفیہ نہیں ہوجاتا بلوچستان میں سیاسی عدم استحکام اور بدامنی کی صورتحال شائد درست نہ ہوسکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد