بلوچ قومی تحریک کون چلا رہا ہے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
موجودہ بلوچ قوم پرست اور عسکری تحریک چار گروہوں پر مشتمل ہے۔ بڑے قبائلی سردار، دانشور، طالبعلم رہنما اور عسکریت پسند۔ تین بڑے قبائلی سرداروں ، بگتی، مینگل اور مری، کی سیاسی جماعتوں پر مشتمل چار جماعتی اتحاد بلوچ یکجہتی ہے جو اس تحریک کا سیاسی رُخ ہے۔ جمہوری وطن پارٹی (نواب اکبر بگتی)، بلوچ نیشنل موومنٹ (بائیں بازو کی جماعت) نیشنل پارٹی (سردار ثنا اللہ زہری چیف آف جھاراوان) اور بلوچستان نیشنل پارٹی( عطااللہ مینگل گروپ) اس اتحاد میں شامل ہیں۔ سنیٹر ثنا اللہ بلوچ ( سردار ثنا اللہ زہری اور ثنا اللہ بلوچ دو الگ الگ شخصیات ہیں) کی قیادت میں بلوچستان نیشنل پارٹی کا دوسرا دھڑا اس اتحاد میں شامل نہیں لیکن اس کی مخالفت بھی نہیں کررہا۔ بلوچستان کے شمالی اور پشتون آبادی کے اضلاع میں سرگرم پشتون قوم پرست جماعت پختوں خواہ ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ)، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی اور رئیسانی قومی اتحاد قوم پرستوں کی حمایت کررہے ہیں لیکن ان کے سیاسی اتحاد میں شامل نہیں۔ کوئٹہ اور کراچی میں مقیم بائیں بازو کے بلوچ دانشور اس تحریک کے نظریہ ساز اور اجراء کرنے والے ہیں۔ قوم پرست طلبا تنظیم بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن( بی ایس او) ہے جو نوجوانوں کو اس تحریک میں راغب کرتی اور انہیں سیاسی اور عسکری جدوجہد کے لیے تیار کرتی ہے۔ بلوچستا ن یونیورسٹی اور کالجوں میں سرگرم اس تنظیم کو بلوچ قوم پرستی کی نرسری کہا جا سکتا ہے جو کارکنوں کی کھیپ مہیا کرتی ہے۔
بی ایس او سے جنم لینے والی دو مسلح عسکری تنظیمیں ہیں، بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) جو موجودہ عسکری کاrروائیوں میں مصروف ہیں اور بجلی کے ٹاور اڑانے اور گیس پائپ لائنوں کے دھما کوں کے بعد پریس بیان جاری کرتی رہتی ہیں۔ نواب خیر بخش مری کے بیٹے بالاچ مری کا کہنا ہے کہ وہ بلوچوں کے قومی حقوق کی جدوجہد میں بی ایل اے اور اس کی دیگر تنظیموں کی مسلح جدوجہد کی حمایت ضرور کرتے ہیں لیکن یہ تنظیمیں ان کی محتاج نہیں۔ ان تنظیموں کے پانچ بڑے رہنما زیرحراست ہیں جن میں سے ایک حسن سنگت مری ہے جو حال ہی میں پولیس کے دعوے کے مطابق کوئٹہ میں ایک سو بیس کلو وزنی دھماکہ خیز مواد کے ساتھ گرفتار ہوا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ نواب خیر بخش مری کا محافظ بھی تھا۔ تاہم اس گرفتاری پر بالاچ مری کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ وطیرہ ہے کہ خیر بخش مری پر دباؤ ڈالنے کے لیے کوئی بھی جھوٹی کہانی بنا کر کسی شخص کو گرفتارکرکے میڈیا کے سامنے پیش کردیا جاتا ہے تاکہ لوگوں میں یہ تاثر پیدا کیا جاسکے کہ ہم نے ماسٹر مائنڈ پکڑ لیا ہے۔ موجودہ بلوچ قوم پرست تحریک کی باقاعدہ ابتدا چار سال پہلے عام انتخابات کے فورا بعد پڑ گئی تھی جب بلوچ قوم پرست صوبہ میں وزارت اعلی نہ بناسکے اور اسلام آباد کی سرپرستی میں مسلم لیگ(ق) اور متحدہ مجلس عمل کی مخلوط حکومت قائم ہوگئی۔ بلوچ رہنما جام یوسف وزیراعلی بنے اور پشتون کاکڑ قبیلہ کے اویس غنی گورنر مقرر کیے گئے۔ الگ الگ جماعتوں میں بٹے ہوئے قوم پرستوں نے کئی سال پہلے تو بلوچستان نیشنل الائنس بنایا۔ بعد میں سندھی، سرائکی، پختوں اور بلوچ قوم پرست جماعتوں کے اتحاد پونم میں شریک ہوئے۔ تاہم چار سال پہلے چار جماعتی بلوچ یکجہتی کے نام سے موجودہ تحریک کی باقاعدہ شروعات ہوئی۔ اس کے ساتھ ساتھ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پی ایس او) کے پختہ کار عناصر نے، جنہیں اس تنظیم سے وابستگی کو دس بارہ سال گزر چکے تھے، بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) بنانے کی تیاریاں شروع کردیں۔
ڈیرہ غازی خان (پنجاب میں سرائیکی بولنے والے بلوچ قبائل (لغاری، مزاری وغیرہ کا اکثریتی ضلع) کے پہاڑوں میں کوہ سلیمان تحریک کے عناصر بھی ان میں شامل ہونا شروع ہوگئے جس کی تصدیق سابق صدر فاروق لغاری کے بیٹے اور ڈی جی خان کے ضلعی ناظم جمال لغاری نے اپنے اخباری بیان میں کی ہے۔ ڈیرہ بگتی (نواب بگتی کا علاقہ)، کوہلو (نواب خیر بخش مری قبیلہ کا گڑھ) اور تحصیل وڈ ضلع خضدار (عطااللہ خان مینگل کا مرکز) کے پہاڑوں کے سلسلے جن میں ایک سلسلہ کے پیچھے دوسرا، تیسرا اور چوتھا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور عسکریت پسندوں کے کیمپوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں۔ انیس سو ساٹھ اور انیس سو ستر کی دہائی میں چلنے والی قوم پرست تحریکیں بھی انہیں جگہوں کو اپنے مراکز کے طور پر استعمال کرتی رہی ہیں۔ قوم پرست رہنما عطا اللہ مینگل کا مرکز وڈ (ضلع خضدار) صوبہ کے جنوب کی طرف ہے جس کی سرحدیں سندھ سے ملتی ہیں۔ نواب بگتی کا علاقہ ضلع ڈیرہ بگتی اور خیر بخش مری کا علاقہ کاہان (ضلع کوہلو) بلوچستان کے مشرق اور وسط میں واقع ہیں اور ان کی سرحدیں راجن پور، جام پور اور روجھان (مزاریوں کے علاقہ) سے ملی ہوئی ہیں۔ ان اضلاع میں بڑے بڑے سرداروں کے قبیلوں کے ساتھ ساتھ دوسرے قبائل بھی خاصی بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ کچھ عرصہ سے ان علاقوں کے چھوٹے سردار بگتی، مینگل اور مری کے لیے سیاسی خطرہ بن کر سامنے آنے لگے ہیں۔ ان بڑے سرداروں کا انتخابی حلقہ اپنے قبیلوں پر مشتمل تحصیلوں میں سُکڑ چکا ہے۔ ڈیرہ بگتی میں کلپر قبیلہ نے وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے دور میں نواب بگتی کی سرداری کو للکارا اور ان پرمقام آبادی پر مظالم کرنے کے الزامات لگائے اور ایک پمفلٹ داستان ظلم اکبری کے عنوان سے شائع کرکے تقسیم کیا۔ اس قبیلہ کو ڈیرہ بگتی چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا اور ملتان اور سندھ کے شہروں میں پناہ لینی پڑی۔ جلال کلپر بگتی اس کے اس وقت سربراہ ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ سوئی گیس فیلڈ کا علاقہ کلپر بگتیوں کی ملکیت ہے اور اکبر بگتی اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
کوہلو میں نواب خیر بخش مری کے ایک بیٹے بلاچ مری صوبائی اسمبلی کے رکن ہیں لیکن اس کے سیشن میں شریک نہیں ہوتے جبکہ دوسرے بیٹے نوابزادہ حربیار مری، جو سابق صوبائی وزیر بھی ہیں، کوئٹہ کے ساتھ ساتھ زیادہ وقت دبئی اور لندن میں گزارتے ہیں۔ خیر بخش مری کے یہ دونوں بیٹے قوم پرست تحریک کے بڑے کرتا دھرتاؤں میں سے ہیں اور تحریری اخباری بیانات جاری کرتے رہتے ہیں۔ خیر بخش مری کا تعلق گزنی شاخ سے ہے اور ستر کی دہائی میں ان کی عسکری کارروائیوں کی صلاحیت کی بنا انہیں ایک نمایاں شناخت حاصل ہوئی لیکن اب انہیں اپنے ہی ضلع کوہلو میں مری قبیلہ کی ایک اور شاخ بجارانی کی سیاسی مخالفت کا سامنا ہے۔ میر ہزار بجارانی اور میر محبت خان مری اس بڑے بجارانی قبیلہ (مری کی ذیلی شاخ) کے سردار ہیں اور اسلام آباد کے ساتھ تعاون کی پالیسی پر گامزن ہیں گو وہ بھی صوبائی حقوق کی آواز اٹھاتے رہتے ہیں۔ اس علاقہ میں لورانی قبیلہ بھی اسلام آباد سے تعاون کررہا ہے۔ یہاں دو پشتوں قبیلے لونی اور زرکون بھی بلوچ قوم پرستوں کے ساتھ شریک نہیں۔ عطا اللہ مینگل کو اپنے ضلع خضدار میں زہری قبیلہ کے سردار اور چیف آف جھاراوان ثنا اللہ زہری (نیشنل پارٹی کے سینئر بائب صدر اور رکن صوبائی اسمبلی) کی حمایت حاصل ہے۔ عطااللہ مینگل کے کزن نصیر مینگل حکمران پاکستان مسلم لیگ کا حصہ ہیں۔ عطااللہ مینگل کا ایک بیٹا ہر وقت ان کے ساتھ رہتا ہے۔ عطااللہ مینگل اور نصیر مینگل کے درمیاں قریبی تعلقات بتائے جاتے ہیں۔ عطااللہ مینگل کے بیٹے اختر مینگل صوبہ کےوزیراعلی رہ چکے ہیں اور اس وقت قوم پرست تحریک کے بڑے رہنما ہیں۔ خضدار کے علاقہ میں سسولی بلوچ قبیلہ نے قوم پرستوں کے خلاف اسلام آباد سے تعاون کی پالیسی اختیار کی ہے۔ نواب عبدالصمد خان سسولی نے صدر جنرل پرویز مشرف حمایت تحریک شروع کر رکھی تھی جسے ایک روز پہلے صوبہ میں قوم پستوں کی مخالف جماعت پاکستان ورکرز پارٹی( قائد نصراللہ کاکڑ) میں ضم کردیا گیا۔ صوبہ میں حکمران جماعت مسلم لیگ چند سیاستدانوں پر مشتمل ہے اور اس کا عوام میں وجود تقریبا نہ ہونے کے برابر ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||