BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوادر، ترقی یا کالونائزیشن

 گوادر
’یہ ایک خام خیالی ہے کہ گوادر کی ترقی وسط ایشیا سے تجارت کے لیے ہورہی ہے‘
جوں جوں گوادر بندرگاہ کی تکمیل کا وقت قریب آرہا ہے بلوچ قوم پرست اور عسکریت پسندوں کی کاروائیوں میں شدت آتی جارہی ہے۔ مارچ دو ہزار دو میں گوادر کے منصوبے پر کام شروع کیا گیا اور اس کے ٹھیک ایک سال بعد بلوچستان میں قوم پرستوں اور عسکریت پسندوں کی کاروائیاں بڑھنے لگیں۔

شدت پسندوں کے بڑے مراکز، کوہلو، قلات اور ڈیرہ بگتی، گوادر سے چھ سے آٹھ سو کلومیٹر دور ہیں۔ سوئی میں راکٹوں سے ہونے والے حملوں پر نواب اکبر بگتی نے کہا تھا کہ جب سوئی میں لوگ محفوظ نہیں تو گوادر میں کیسے محفوظ ہوں گے۔ انسپکٹر جنرل بلوچستان کے مطابق گوادر میں قائم عسکریت پسندوں کے ایک کیمپ کو ختم بھی کیا گیا ہے۔

اس سال موسم گرما تک اس نئی بندرگاہ پر پچاس ٹن وزنی جہاز لنگر انداز ہونا شروع ہوجائیں گے۔ دوسرے مرحلے کی تکمیل کے بعد یہاں ڈھائی لاکھ ٹن وزنی جہاز لنگر انداز ہوسکیں گے۔

گوادر کا مالک کون
بلوچستان کی ساری زمین قبائل کی ملکیت ہے، ریاست کی نہیں
خان آف قلات

بلوچستان کے جنوب میں چھ سو میل لمبی ساحلی پٹی پر سولہ ہزار آبادی کے پُر امن قصبے گوادر کا تنازعہ اِس وقت بلوچستان میں قوم پرستی کی تحریک کے چار بڑے ستونوں میں سے ہے۔ حکومت اسے بلوچستان کی ترقی کا جبکہ قوم پرست اسے بلوچستان کی کالونائزیشن کا منصوبہ قرار دیتے ہیں۔

بلوچوں کا خدشہ یہ ہے کہ بندرگاہ بننے اور اس ساحلی شہر کی ترقی سے یہاں آبادی تیزی سے بڑھے گی اور کچھ برسوں میں بیس سے پچیس لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ ان کا خیال ہے کہ آبادی میں اتنے زیادہ اضافہ سے آبادی کا تناسب تبدیل ہوجائے گا اور پنجابی، اردو بولنے والے اور پٹھان اکثریت میں آجائیں گے اور وہ اقلیت بن جائیں گے۔

بلوچستان کے ماضی میں حکمران خاندان کے سربراہ خان قلات میر سلیمان داؤد خان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی ساری زمین قبائل کی ملکیت ہے، ریاست کی نہیں۔ خان قلات میر داؤد کا کہنا ہے کہ گوادر گچکیوں کی ملکیت ہے۔

ان کا کہنا ہے گوادر(ملحقہ علاقوں سمیت) کی آبادی اس وقت ساٹھ ہزار ہے جبکہ بندرگاہ بننے کے بعد یہاں دس لاکھ افراد کی ضرورت ہوگی۔ وہ کہتے ہیں کہ ظاہر ہے یہ سب لوگ کراچی سے آئیں گے۔

خان قلات کہتے ہیں کہ یہ ایک خام خیالی ہے کہ گوادر کی ترقی وسط ایشیا سے تجارت کے لیے ہورہی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ وسط ایشیا کی تجارت تو ایران کی بندرگاہ چاہ بہار کے راستے ہورہی ہے جس کے لیے گوادر بے کار ہے۔ ان کا دعوی ہے کہ گوادر بندرگاہ دراصل چین کی تجارت کے لیے بنائی جارہی ہے۔

گوادر
بندرگاہ بننے کے بعد یہاں دس لاکھ افراد کی ضرورت ہوگی۔

کوئٹہ میں انسانی حقوق کمیشن برائے پاکستان نے اس مسئلہ پر ایک تحقیق کی اور گوادر کے رورل کمیونٹی سینٹر کے نصیر بلوچ نے بتایا کہ گوادر میں بلوچستان سے باہر سے آنے والے سیاستدان، سرکاری افسر اور کاروباری حضرات دھڑا دھڑ زمینیں خرید رہے ہیں اور بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ زمین کی ملکیت کا اندراج بے نامی نظام کے تحت ہورہا ہے۔

بلوچستان سے متحدہ مجلس عمل کے رہنما حافظ حسین احمد کا کہنا ہے کہ گوادر میں ایسا گروہ موجود ہے جس نے زمینوں پر ناجائز قبصے کیے اور کوڑیوں کے بھاؤ زمینیں خرید کر انہیں سونے کے بھاؤ بیچ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ متحدہ مجلس عمل نے مقامی حکومت کے وزیر کو ہدایت کی ہے کہ گوادر کی سنگھار سکیم کے پلاٹوں اور ایسے دیگر پلاٹوں کی الاٹمنٹ منسوخ کی جائے۔

ایک بلوچ تاجر محمد عبدالرحیم ظفر کا کہنا ہے کہ گوادر بندرگاہ سے ائرپورٹ تک کا علاقہ بارہ کلومیٹر لمبی پٹی پر مشتمل ہے لیکن حکومت نے واضح نہیں کیا کہ یہ زمین کس طریق کار سے حاصل کی جائے گی۔ ان کے مطابق انیس سو نوے میں یہاں زمین کی قیمت پانچ سو روپے فی پانچ سو گز تھی جو اب پندرہ لاکھ روپے فی پانچ سو گز تک پہنچ چکی ہے۔

ایک مقامی وکیل کا کہنا ہے کہ مقامی افراد کی زمینوں کی ملکیت ان کی مرضی اور علم کے بغیر تبدیل کی جارہی ہے اور انہیں ان کی ملکیت سے محروم کیا جارہا ہے۔ مقامی افراد الزام لگاتے ہیں کہ پٹواریوں نے زمینوں کا جعلی ریکارڈ تیار کر کے لاکھوں روپے کمائے۔

بلوچ دانشور اور سابق اعلیٰ سرکاری افسر عبدالحکیم بلوچ کے مطابق گوادر کی زمین ریاست کے محکمہ مال کی ملکیت ہے لیکن لینڈ مافیا نے مکرانی انڈرورلڈ کے حکومت اور اسمبلیوں میں شامل لوگوں کے ساتھ مل کر اسے غصب کرلیا ہے۔

عبدالحکیم بلوچ الزام لگاتے ہیں کہ محکمہ بحالیات (سیٹلمنٹ) نے گوادر تحصیل کا سروے کیا اور صوبائی حکومت کی لاکھوں ایکڑ زمین ایسے لوگوں کے نام منتقل کردی جواس کے مالک نہیں تھے۔

ان کے مطابق یہ زمین بنجر تھی، ریت کے ٹیلوں پر مشتمل تھی، جنگل تھے اور ناقابل کاشت تھی جس کی ملکیت محکمہ مال کے قوانین اور ضوابط کے تحت کسی کو منتقل نہیں کی جاسکتی۔

عبدالحکیم بلوچ کے مطابق لینڈ مافیا نے بدعنوانی کے ذریعے اس لاکھوں ایکڑ زمین پر قبضہ کرکے بلوچستان حکومت کو آمدن کے ایک بڑے ذریعہ سے محروم کردیا ہے جسے ترقی دے کر اور فروخت کرکے حکومت اس کھربوں روپے کی آمدن سے محروم ہوگئی ہے جسے بلوچستان کی ترقی کے لیے استعمال کیا جاسکتا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے اب تک اس کی اصلاح کو کوئی قدم نہیں اٹھایا جو اگر اٹھا لیا جائے تو گوادر کی گہرے پانیوں کی بندرگاہ کے دوسرے مرحلے میں پورے صوبے کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

دوہری ملکیت
زمینوں کی ملکیت کے بارے میں مسائل اس لیے بھی پیدا ہوئے ہیں کہ گوادر کے اکثر شہریوں کے پاس پاکستان اور سلطنت اومان کی دوہری شہریت ہے
پٹواری

عبدالحکیم بلوچ کا یہ بھی کہنا ہے کہ قوانین کے مطابق ایسے ضلع میں زرعی زمین بھی کوئی شخص کسی ایسے شخص کو فروخت نہیں کرسکتا جو اس ضلع کا رہائشی نہ ہو۔ اس کے لیے ضلعی کلکٹر کی اجازت لینا ضروری ہے لیکن اس قانون کی خلاف ورزی کرتے ہؤیے گوادر میں ہزاروں ایکڑ زرعی زمین فروخت کی گئی۔

محکمہ بحالیات نے گوادر میں انیس سو تراسی سے گوادر کی زمین کا سروے شروع کیا ہوا ہے لیکن ابھی تک مکمل نہیں کیا اور محکمہ ریونیو کے ایک افسر کے مطابق بحالیات زمینوں کا ریکارڈ انہیں مہیا نہیں کررہی۔ خاصے شور شرابے کے بعد صوبائی حکومت کے چیف سیکرٹری نے محکمہ بحالیات میں بے قاعدگیوں کی شکایات کی تحقیق کے لیے ایک کمیٹی بنائی ہے۔

دوسری طرف پٹواریوں کا کہنا ہے کہ زمینوں کی ملکیت کے بارے میں مسائل اس لیے بھی پیدا ہوئے ہیں کہ گوادر کے اکثر شہریوں کے پاس پاکستان اور سلطنت اومان کی دوہری شہریت ہے اور وہ زمینوں کی ملکیت کے ثبوت میں اومانی دستاویزات پیش کرتے ہیں۔ گوادر انیس سو چھپن تک سلطت عمان کا حصہ تھا جس نے اسے پاکستان کو فروخت کیا۔

تاہم سرکاری افسر خود گوادر میں زمینوں کے بڑے فراڈ کی تصدیق کرتے ہیں۔ کوئٹہ میں محکمہ مال کے ایک اعلی افسر کا کہنا ہے کہ گوادر میں کم سے کم ایک لاکھ ایکڑ زمین ایسی ہے جو چھ چھ بار فروخت ہوچکی ہے اور اس میں پینتیس ہزار ایکڑ سرکاری زمین شامل ہے اور گزشتہ تین سال میں ہونے والے زمینوں کے تقریبا آدھے سودے ایسے ہیں جو درست نہیں۔

محکمہ مال کا ریکارڈ مقامی تھانہ میں رکھا گیا ہے جس سے عام لوگوں کو ہی نہیں بلکہ سرکاری عملہ کو بھی تکلیف کا سامنا ہے۔ عدالتوں سے رجوع کرنے کے لیے عام آدمی کو دو سو کلومیٹر دور تربت جانا پڑتا ہے جس کے لیے اس کے پاس ٹرانسپورٹ کے وسائل نہیں۔

(اگلی قسط میں دیکھیں گوادر سے متعلقہ دوسرے مسائل اور قوم پرستوں کے مطالبات)

بلوچ قبائلبلوچستان کے قبائل
اضلاع کا رقبہ اور قبائل کی آبادی کی تفصیل
بلوچ کہانی : 6
بلوچ جدید و منظم یا ’چاکلیٹ فائٹر‘
بلوچ کہانی - 4
بلوچ قومی تحریک کون چلا رہا ہے؟
بلوچ قوم پرستبلوچ کہانی
بلوچ قوم پرستی، تاریخی پس منظر میں: پہلی قسط
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد