BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 February, 2005, 15:51 GMT 20:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچ عسکریت 2: کارکن، اسلحہ، پیسہ

بلوچ عسکریت
آئی جی چودھری یعقوب کا کہنا ہے کہ بلوچ عسکریت پسند جدید اسلحہ سے لیس ہیں
کوئٹہ کے دانشور حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچ لبریشن فرنٹ ایک بہت تربیت یافتہ، جدید اسلحہ سے لیس اور منظم تنظیم ہے۔ تاہم فوجی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچ عسکریت پسند اچھے فائٹر نہیں بلکہ ان کی زبان میں چاکلیٹ فائٹر ہیں جو بنیادی طور پر سُست اور آرام پسند لوگ ہیں۔ فوجی افسروں کی یہ باتیں مشرقی پاکستان میں بنگالیوں کے بارے میں ان کے تبصروں کی یاد دلاتی ہے۔

صوبہ کے گورنر اویس غنی نے تسلیم کیا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی کے کیمپس صوبہ میں موجود ہیں۔ بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس چودھری یعقوب کا کہنا ہے کہ صوبہ میں عسکری کارروائیاں کرنے والوں (جنہیں وہ باغی کہتے ہیں) کے تقریبا چالیس کیمپ ہیں جن میں سے ہر کیمپ میں ایک سو سے تین سو لوگ تربیت حاصل کررہے ہیں۔

آئی جی کا کہنا ہے کہ مشرقی، جنوب مشرقی اور وسطی علاقوں کی پہاڑوں کی چوٹیوں میں واقع عسکریت پسندوں کے ان کیمپوں تک پولیس کی رسائی ممکن نہیں۔ ان کے مطابق یہ عسکری کیمپ کوہلو، ڈیرہ بگتی اور قلات میں واقع ہیں۔

آئی جی کا کہنا ہے کہ تربت میں قائم عسکری تربیتی کیمپ گزشتہ سال کارروائی کرکے ختم کردیے گئے تھے لیکن اس وقت یہ تاثر پیدا کیا گیا کہ صوبہ میں فوجی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس لیے اب پولیس دوسرے کیمپوں کے خلاف کارروائی نہیں کررہی کہ بلوچ قوم پرست فوجی آپریشن شروع کرنے کا شور مچادیں گے۔

آئی جی چودھری یعقوب کا یہ بھی کہنا ہے کہ بلوچ عسکریت پسند جدید اسلحہ سے لیس ہیں جس میں طویل مار کے ہتھیار جیسے لمبی مار کے راکٹ لانچر، مارٹرز، طیارہ شکن بندوقیں، ٹائم بم وغیرہ شامل ہیں۔

بلوچستان کے گورنر اویس غنی کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں نے پچاس کروڑ روپے کا اسلحہ افغانستان سے بلوچستان اسمگل کیا ہے جس کی شکایت پاکستان نے افغان حکومت اور امریکہ سے کی ہے۔ نواب اکبر بگتی گورنر کے اس دعوے کو بلوچوں پر تہمت قرار دیتے ہیں۔

افلاس
بلوچ فی کس آمدنی کے اعتبار سے غریب ترین پاکستانی ہیں

بلوچستان کے انسپکرٹر جنرل پولیس کا کہنا ہے کہ جو جدید اسلحہ سوویت یونین کی افغان جنگ میں استعمال ہوا اب افغانستان سے اسمگل ہوکر پاکستان آرہا ہے کیونکہ افغان حکومت اور امریکی فوج نے وہاں سے اسلحہ ختم کرنے کی مہم چلائی ہوئی ہے۔

آئی جی کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغان جنگجو سردار اپنے اسلحہ کو افغان حکومت یا امریکہ کے حوالے کرنے کی بجائے فروخت کررہے ہیں اور پاک افغان سرحد کی طوالت اس میں جا بجا بنے ہوئے رستے اتنے ہیں کہ اسمگلنگ آسان ہوجاتی ہے۔

دوسری طرف نواب اکبر بگتی کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سرحد بلوچستان سے خاصی دور ہے اور اگر یہ اسلحہ ملک میں آرہا تھا تو اس وقت کسی نے تو دیکھا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان بلوچ علاقوں سے کافی دور ہے۔ اگر اسلحہ افغانستان سے ان علاقوں تک پہنچا تو اس طویل فاصلہ میں موٹر ٹرانسپورٹ، اونٹ یا گدھے وغیرہ کے قافلے کو کسی نے تو دیکھا ہوگا۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان سے کوہلو تک بڑی مقدار میں اسلحہ لانے کے لیے ایک تو پورا کارواں چاہیے اور دوسرے پہاڑی راستوں سے گزرنے کے لیے خچر استعمال کیے جاتے ہیں جنہیں افغانستان سے کوہلو پہنچنے کے لیے ایک ماہ سے زیادہ کی مدت درکار ہے تو اس دوران میں انہیں سکیورٹی ایجنیساں پکڑ کیوں نہیں سکیں۔

نواب بگتی کا دعوی ہے کہ بلوچ عوام کے پاس وہ اسلحہ ہے جو امریکی ایجنسی سی آئی اے نے افغاسنتان جنگ میں فروخت کیا اور اب وہی اسلحہ افغانستان میں امریکہ کے خلاف بھی استعمال ہو رہا ہے اور پاکستان سمیت پورے خطے میں پھیل گیا ہے۔ بلوچ قوم پرستوں کا کہنا ہے اس وقت کوئٹہ اور بلوچستان کےمختلف علاقے ہر قسم کے اسلحے سے بھرے ہوئے ہیں اور چند گھنٹے کے نوٹس پر ہر قسم کا اسلحہ خریدا جاسکتا ہے۔

ایک محتاط اندازے مطابق سوئی میں اب تک ڈھائی ہزار مختلف اقسام کے راکٹ فائر کیے گئے ہیں جبکہ کلاشنکوف کے فائر کیے گئے راؤنڈز کی تعدا اتنی زیادہ ہے کہ ان کا شمار کرنا ممکن نہیں۔ ایک راکٹ لانچر کم سے کم پچاس ہزار روپے کا آتا ہے اور عسکریت پسند گزشتہ چند مہینوں سے کثرت سے یہ راکٹ فائر کررہے ہیں جن کا مقصد بغیر ہدف کے صرف دہشت پھیلانا بھی ہے اور اہم تنصیبات اڑانا بھی۔ ٹرینوں پر حملوں کے لیے بھی، جیسے جعفر ایکسپریس پر حملہ، راکٹ استعمال کیے جارہے ہیں جس سے کوئٹہ تک ٹرین کا سفر خاصا خطرناک ہوگیا ہے اور پاکستان ریلوے نے ٹرینوں کے اوقات تبدیل کیے۔

پیسہ کہاں سے آیا؟
 عسکریت پسندوں کے پاس کروڑوں روپےکا اسلحہ خریدنے کے لیے پیسہ کہاں سے آیا اس سوال کے مختلف جواب دیے جاتے ہیں۔
عسکریت پسندوں کے پاس کروڑوں روپےکا اسلحہ خریدنے کے لیے پیسہ کہاں سے آیا اس سوال کے مختلف جواب دیے جاتے ہیں۔ سرکاری حلقوں کا کہنا ہے کہ اس بات کے ثبوت ملے ہیں کہ دبئی اور قندھار سے پیسے کی ترسیل کی گئی۔

بعض دانشوروں، جیسے طاہر محمد خان، کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے جانے کے فورا بعد بہت وسیع پیمانے پر افیون کی کاشت شروع ہورہی ہے اور بلوچستان کے پہاڑوں میں بھی افیون کاشت ہورہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افیون اور ہیروئین کی تجارت کو گزشتہ دو سال میں فروغ ملا ہے اور ان کی اسملگنگ میں تیزی آئی ہے۔

بلوچ دانشور کہتے ہیں کوئی اسمگلر کسی سردار کی اجازت کے بغیر اور اسے بھتہ دیے بغیر ان راستوں سے گزر نہیں سکتا جن کو یہ سردار اپنی طاقت کے بل بوتے پر کسی وقت بھی بند کرسکتے ہیں۔ ان لوگوں کے مطابق اگر کسی اسمگلر کی گردن پر انگوٹھا رکھ دیا جائے تو وہ چند گھنٹوں میں ایک دو کروڑ روپے فراہم کرسکتا ہے اور اسلحہ کی کھیپ لا سکتا ہے جس کے لیے وہ راستے میں ہر سرکاری چیک پوسٹ کو بھی رشوت دیتا ہے۔

یوں بلوچ عسکریت پسندوں کے لیے جدید ترین اسلحہ خریدنے کے لیے بیک مارکٹ میں وسیع مقدار میں جدید اسلحہ بھی موجود ہے اور اسے خریدنے کے لیے پیسوں کے ذرائع بھی۔

ان تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر صدر جنرل پرویز مشرف کے بقول یہ ستر کی دہائی نہیں کہ عسکریت پسند پہاڑوں میں چھپ جائیں اور یہ کہ اس بار انہیں پتہ بھی نہیں چلے گا کہ کہاں سے کیا چیز آ کر ان کو لگی۔ اس کے برعکس بلوچ دانشور کہتے ہیں پاک فوج کے پاس جدید اسلحہ ہے تو بلوچ قوم پرستوں کے پاس بھی ہے اور وہ بھی دنیا بھر میں جاری گوریلا مزاحمتوں، جیسے افغانستان، چیچنیا، عراق، کشمیر، فلسطین اور تامل مزاحمت کار، سے گوریلا جنگ کے نئے طریقوں سے آگاہ ہوچکے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان علاقوں میں پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے کوئی بڑی زمینی فوجی کارروائی نہیں ہوسکتی جس میں ٹینک اور بکتربند گاڑیاں وغیرہ استعمال کی جا سکیں۔ اس لیے یہ لڑائی اب بہت دیر تک چلتی رہے گی اورفوجی کارروائی ہوئی تو اس وقت جو لوگ سرداروں کے ساتھ نہیں وہ بھی ان کے ساتھ شریک ہوتے جائیں گے۔

بلوچ قوم پرست دانشوروں کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند ابھی احتیاط سے کام لے رہے ہیں اور صرف تنصیبات پر حملے کررہے ہیں انسانوں پرنہیں لیکن اگر سیاسی تصفیہ نہ ہوا تو ایک سال بعد شدت پسند فوجی چھاؤنیوں اور فوجی افسروں کے گھروں اور سویلین لوگوں پر بھی حملے شروع کرسکتے ہیں۔

عسکریت پسندوں کی احتیاط
 عسکریت پسند ابھی احتیاط سے کام لے رہے ہیں لیکن اگر سیاسی تصفیہ نہ ہوا تو فوجی چھاؤنیوں اور فوجی افسروں کے گھروں اور سویلین لوگوں پر بھی حملے شروع کرسکتے ہیں

تاہم فوجی حلقے خاصے پُر اعتماد نطر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑی زمینی کارروائی نہیں بلکہ ایف سولہ طیاروں سے فضائی حملے اتنے ٹھیک نشانے پر لگائے جاسکتے ہیں کہ وقت آنے پر عسکری کیمپوں کو نشانہ بنا کر تباہ کیا جاسکتا ہے جیسا کہ وزیرستان میں سیٹلائیٹ فون کی کال ٹریس کرکے اہداف پر ٹھیک ٹھیک حملے کیے گئے۔ اس کے ساتھ فوج کے کمانڈوز بلوچ عسکریت پسندوں کے علاقوں میں گھس کر انہیں زیر کرسکتے ہیں۔

سرکاری طور پر تو صدر پرویز مشرف سمیت ہر حکومتی رہنما بار بار یہ کہہ رہا ہے کہ بلوچستان میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہوگا لیکن نواب اکبر بگتی کو ان یقین دہانیوں پر اعتبار نہیں۔ان کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائی کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ بگتی کا دعوی ہے کہ اس بار اچانک برق رفتاری سے بلوچوں پر حملہ ہوگا تاکہ کسی کو خبر بھی نہ ہو کہ کہاں سے اور کس چیز انہیں نشانہ بنایا گیا۔

بلوچ کہانی - 5
ایک بار پھر عسکری کارروائیوں کی راہ کیوں؟
بلوچ قبائلبلوچستان کے قبائل
اضلاع کا رقبہ اور قبائل کی آبادی کی تفصیل
بلوچستانبلوچ کہانی
بلوچ تحریک کے فوری اسباب کیا ہیں؟
بلوچ قوم پرستبلوچ کہانی
بلوچ قوم پرستی، تاریخی پس منظر میں: پہلی قسط
بلوچستان باغی کیوں؟
بلوچ رہنما کے بیٹے شہریارمزاری کے خیالات
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد