بلوچستان: آفت زدہ قرار دیا جائے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں بارشوں سیلاب اور برف باری سے ہونے والی تباہی کے حوالے سے صوبائی کابینہ نے وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ صوبہ بلوچستان کو آفت زدہ صوبہ قرار دیا جائے۔ کوئٹہ میں وزیر اعلی جام محمد یوسف کی سربراہی میں ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں امدادی سرگرمیوں پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ کابینہ کو چیف سیکرٹری نے بتایا ہے کہ حالیہ بارشوں سیلاب اور برف باری سے کل چھپن افراد ہلاک ہو ئے ہیں جکہ دو روز قبل سرکاری ہینڈ آؤٹ میں کہا گیا تھا کہ دو سو افراد ہلاک ہوئے ہیں اور اس کی تصدیق کرائسس مینیجمنٹ مرکز کے افسران نے کی تھی۔ اجلاس میں کہا گیا ہے کہ صوبہ بھر میں مالی نقصان بہت ہوا ہے جس کے لیے مالیات کا محکمہ سروے کرکے نقصان کا تخمینہ لگا ئے گا جس کے بعد تعمیر نو کا کام شروع کیا جائے گا۔ کابینہ کے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ پہلے مرحلے میں امدادی سرگرمیوں کو تیز کیا جائے گا دوسرے مرحلے میں بحالی کا کام ہو گا اور تیسرے مرحلے میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کا کام شروع کیا جائے گا جس کے لیے وفاقی حکومت مدد کرے گی۔ یاد رہے کہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں کے علاوہ شمالی بلوچستان کے کئی علاقے میں گزشتہ دو ہفتوں سے برف باری کی وجہ سے راستے بند ہیں اور خسرے کی وبا کے پھیلنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ پشین کے ایک رہائشی نعمت اللہ خان نے کہا ہے کہ ان کے گاؤں میں تین بچے خسرہ سے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ پورے علاقے جیسے توبہ کاکڑی، توبہ اچکزئی، برشور خانو زئی، ہرنائی زرغون غر میں انیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں تین خواتین شامل ہیں جو راستے بند ہونے کی وجہ سے حالت زچگی ہیں ہلاک ہو گئی ہیں۔ سرکاری سطح پر گیارہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے لیکن خسرہ کی وبا کے بارے میں لا علمی کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان علاقوں میں لوگ شدید سردی میں کھلے آسمان تلے پڑے ہیں۔ ادھر پسنی گوادر تربت پنجگور میں لوگ پہاڑوں پر پناہ لیے ہوئے ہیں اور ہیلی کاپٹروں کو اشارہ کرتے ہیں کہ انہیں پسنی شہر پہنچایا جائے آج اورماڑہ اور پسنی کے مابین پھنسی گاڑیوں سے ساٹھ مسافروں کو پسنی پہنچایا گیا ہے جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔ کابینہ کے اجلاس میں محکمہ آبپاشی کے حکام نے بتایا ہے کہ جہاں سیلاب اور بارشوں سے تباہی ہوئی ہے وہاں ان سے صوبے کے تمام ایک سو چھیاسٹھ ڈیموں میں ایک لاکھ ایکڑ فٹ پانی جمع ہو گیا ہے جس سے صوبے میں خشک سالی کا خاتمہ ہو گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||