BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 13 February, 2005, 10:50 GMT 15:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہلاکتوں کی تعداد 200 سے بڑھ گئی

بلوچستان
بلوچستان میں بارشوں سے تباہ کاریوں کے نتیجے میں مواصلاتی نظام بھی دگرگوں ہو چکا ہے اور امدادی سامان کی ترسیل میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں
کوئٹہ میں قائم ایمرجنسی سیل کے اہلکاروں کے مطابق بلوچستان بھر میں سیلاب اور بارشوں سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد دو سو سے تجاوز کر گئی ہے۔

گزشتہ رات مکران ڈویژن میں ایک اور ڈیم ٹوٹ گیا تھا جس سے ایک بڑا علاقہ زیر آب آ گیا۔ ایک اندازے کے مطابق چلری ڈیم کے بہہ جانے سے اڑھائی سو سے تین سو افراد پانی میں پھنس گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق لسبیلہ اور ارماڑہ میں دیگر بند اور پل ٹوٹنے سے اٹھارہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

کوئٹہ میں قائم کرائسز منیجمنٹ سنٹر کے انچارج صدیق اکبر نے بتایا ہے کہ اتوار کو لسبیلہ میں گگو بند ٹوٹنے سے سات افراد ہلاک اور ایک سو سے زائد بے گھر ہو گئے ہیں۔

اس کے علاوہ ببرسنور لسبیلہ میں گگو پل کے ٹوٹنے سے چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

دوسری طرف ارماڑہ تحصیل میں ہنگول کے قریب پل ٹوٹنے سے بھی سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

News image

بلوچستان میں بارشیں بدستور جاری ہیں اور ماہرینِ موسمیات کے مطابق یہ سلسلہ آئندہ تین چار روز تک جاری رہے گا۔

ان میں ایک سو تہتر ہلاکتیں شادی کور پسنی اور قریبی علاقے میں ہوئی ہیں جبکہ ستائیس افراد آواران، خضدار، بیلہ، گوادر، تربت اور دیگر علاقوں میں ہوئی ہیں۔

گوادر کے علاقے میں یونین کونسل کولاچ میں چلری ڈیم پاکستان کے وقت کے مطابق رات دس بجے کے قریب ٹوٹ گیا ہے۔

اس سے پہلے گوادر سے اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ چلری ڈیم کے قریبی آبادی کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل کر دیا گیا ہے جب کہ اب اطلاعات ہیں کہ اڑھائی سو سے تین سو افراد پانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔

بلوچستا ن میں سیلاب اور بارشوں سے کوئی بیس سے پچیس ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں اور اس وقت تک کوئی ایک ہزار سے پندرہ سو لوگ لاپتہ ہیں۔

ادھر تربت کے ناظم مولا بخش دشتی نے ٹیلیفون پر بی بی سی کو بتایا ہے کہ شادی کور ڈیم ان کے علاقے میں واقع ہے اور سب سے زیادہ نقصان ان کے علاقہ تربت میں ہوا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ڈیم بہنے کے نتیجے میں جہاں ٹیوب ویل، کاریزز تباہ ہوئے ہیں وہاں مال اور مویشی بھی بہہ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پینے کے پانی کی سکیمیں ختم ہو گئی ہیں لیکن ان کے علاقے میں کوئی امدادی ٹیم نہیں پہنچی۔

ان کا کہنا ہے کہ تمام اقدامات وہ خود لیویز کے ساتھ مل کر کر رہے ہیں اور اب تک چالیس لاشیں نکال چکے ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ آرمی کے ہیلی کاپٹر اور امدادی سامان ان کے علاقے میں نہیں پہنچا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد