بلوچستان: ایک اور ڈیم بہہ گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مکران ڈویژن میں ایک اور ڈیم ٹوٹ گیا ہے جس سے ایک بڑا علاقہ زیر آب آ گیا ہے جہاں ایک اندازے کے مطابق اڑھائی سو سے تین سو افراد پانی میں پھنس گئے ہیں۔ کوئٹہ میں قائم ایمرجنسی سیل کے اہلکاروں کے مطابق بلوچستان بھر میں سیلاب اور بارشوں سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد دو سو تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں ایک سو تہتر ہلاکتیں شادی کور پسنی اور قریبی علاقے میں ہوئی ہیں جبکہ ستائیس افراد آواران، خضدار، بیلہ، گوادر، تربت اور دیگر علاقوں میں ہوئی ہیں۔ گوادر کے علاقے میں یونین کونسل کولاچ میں چلری ڈیم پاکستان کے وقت کے مطابق رات دس بجے کے قریب ٹوٹ گیا ہے۔ اس سے پہلے گوادر سے اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ چلری ڈیم کے قریبی آبادی کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل کر دیا گیا ہے جب کہ اب اطلاعات ہیں کہ اڑھائی سو سے تین سو افراد پانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ بلوچستا ن میں سیلاب اور بارشوں سے کوئی بیس سے پچیس ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں اور اس وقت تک کوئی ایک ہزار سے پندرہ سو لوگ لاپتہ ہیں۔ ادھر تربت کے ناظم مولا بخش دشتی نے ٹیلیفون پر بی بی سی کو بتایا ہے کہ شادی کور ڈیم ان کے علاقے میں واقع ہے اور سب سے زیادہ نقصان ان کے علاقہ تربت میں ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیم بہنے کے نتیجے میں جہاں ٹیوب ویل، کاریزز تباہ ہوئے ہیں وہاں مال اور مویشی بھی بہہ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پینے کے پانی کی سکیمیں ختم ہو گئی ہیں لیکن ان کے علاقے میں کوئی امدادی ٹیم نہیں پہنچی۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام اقدامات وہ خود لیویز کے ساتھ مل کر کر رہے ہیں اور اب تک چالیس لاشیں نکال چکے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ آرمی کے ہیلی کاپٹر اور امدادی سامان ان کے علاقے میں نہیں پہنچا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||