BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 14 February, 2005, 10:15 GMT 15:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد، 150 سے زیادہ ہلاک:شوکت

پاکستان میں بارشوں سے ہونے والی تباہی
وزیر اعظم نے متاثرہ علاقوں کا فضائی دورہ کیا
پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ بارشوں اور برف باری سے جن علاقوں کا رابطہ منقطع ہوچکا ہے وہاں لوگوں کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے کھانے پینے کی اشیاء گرائی جائیں۔

انہوں نے پیر کی صبح مری، گلیات اور دیگر علاقوں کا فضائی دورہ کیا اور مانسہرہ میں متاثرہ لوگوں سے ملاقات بھی کی۔

دورے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ انہوں نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ جب تک متاثرہ علاقوں کا رابطہ بحال نہ ہو اس وقت تک ان کی مدد جاری رکھی جائے۔

انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق صوبہ سرحد، شمالی علاقہ جات، پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور پہاڑی علاقوں میں ہلاک ہونے والے لوگوں کی تعداد ڈیڑھ سے دو سو ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اس میں شامل نہیں ہے۔

بلوچستان اور دیگر علاقوں میں بارشوں سے ہلاکتوں کے بارے میں اخبارات میں شائع ہونے والی تعداد پر صدر جنرل پرویز مشرف نے اعتراض کیا تھا اور کہا تھا کہ اخبارات جتنی تعداد بتا رہے ہیں جانی نقصان اتنا نہیں ہوا۔

سرکاری طور پر ہلاک شدگان کی تعداد پہلی بار وزیراعظم نے بتائی ہے جو اخبارات میں شائع ہونے والی تعداد سے تقریباً ملتی جلتی ہے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ انہوں نے سڑکوں سے برف ہٹانے اور رابطے بحال کرنے کے لیے فوری طور پر بلڈوزر بھیجنے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔

وزیراعظم کے اس دورے کی وجہ سے برطانوی وزیرخارجہ جیک سٹرا سے ان کی ملاقات طے شدہ وقت پر نہیں ہوپائی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد