سرحد میں بھی 100 ہلاکتیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگرچہ حالیہ بارشوں سے بلوچستان سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے تاہم صوبہ سرحد میں بھی اب تک سرکاری اعدادو شمار کے مطابق ایک سو افراد مٹی اور برفانی تودوں اور مکانات کے گرنے سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ بلوچستان میں تو مرکزی حکومت بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے لیکن سرحد میں یہاں کی صوبائی حکومت نے آج شکایت کی ہے کہ ابھی تک وفاق نے کسی قسم کی کوئی امداد نہیں کی ہے۔ اتوار کے روز اپنی سرکاری رہائش گاہ پر ایک اخباری کانفرنس میں وزیراعلی سرحد اکرم خان دورانی نے شکوہ کیا کہ سرحد میں حالیہ بارشوں سے بری طرح متاثر ہوا ہے لیکن وفاق سے امداد کا یہ اب تک منتظر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک سو افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے لیکن ان کے بقول حتمی تعداد اس کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔ ان کے بقول حالیہ بارشوں سے صوبے میں بجلی، گیس اور پینے کے پانی کا انتظام بھی درہم برہم ہوگیا ہے۔لوگ گندا پانی پینے پر مجبور ہیں جوکہ آگے چل کر ان کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ اکرم دورانی نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے امدادی کاموں کے لیے پانچ کروڑ روپے کی رقم مختص کی ہے لیکن یہ کافی نہیں۔ انہوں نے مرکز سے دس کروڑ روپے کی مدد کا تقاضا کیاہے۔
ان کے بقول اس سلسلے میں انہوں نے دو مرتبہ وزیراعظم سے فون پر بات کی اور فیکس بھی بھیجا لیکن ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ وزیر اعلی نے اعلان کیا کہ یہ مسئلہ سوموار کے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی اٹھائیں گے۔ سرحد حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ مرنے والوں کے لیے ایک لاکھ جبکہ شدید زخمیوں کے لیے تیس جبکہ معمولی زخمی کے لیے بیس ہزار روپے کی امدادی رقم ادا کی جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||