برفانی تودے، ہلاکتوں میں اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں برفانی تودے گرنے کے واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ مظفر آباد سے ایک سو ساٹھ کلومیٹر دور وادی نیلم کے گاؤں’میتاں والی سہری‘ میں برفانی تودے کے نیچے دبی ہوئی بارہ مزید لاشیں نکالی گئی ہیں جس کے بعد یہاں سے نکالی جانے والی لاشوں کی تعداد 27 ہو گئی ہے۔ امدادی کارروائیوں میں مصروف سرکاری اہلکاروں نے ایک عورت کو زندہ برآمد کیا ہے۔ تیرہ افراد اب بھی برف کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔ ہفتے کی رات کو صوبہ سرحد کے شہر ایبٹ آباد کے ایک پہاڑی گاؤں پھل کوٹ میں مٹی کا تودہ گرنے سے چھ افراد ہلاک ہو گئے۔ صوبہ سرحد، شمالی علاقاجات اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ 36 گھنٹوں کے دوران اب تک 55 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے سیکریٹری اطلاعات خورشید احمد چوہدری کے مطابق امدادی کارروئیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے جس میں پولیس، پاکستانی فوج اور مقامی لوگ حصہ لے رہے ہیں۔انہوں نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا کہ دبنے والے تمام افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ وادی نیلم کے دیگر علاقوں ’لوات گٹی‘ اور ’جانا وائی‘ میں بھی برفانی تودے کے گرنے سے چار بچوں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ مظفر آباد کے جنوب میں وادی لیپہ کے ایک گاؤں گائے پورہ میں برفانی تودہ ایک گھر پر آ گرا جس سے ایک ہی خاندان کے چھ افراد برف میں دب گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقامی افراد نے امدادی کارروائیاں کر کے ایک بچے کو زندہ بچا لیا ہے جبکہ دیگر پانچ افرادکی لاشیں بھی برآمد کر لی گئیں ہیں۔ مرنے والوں میں دو مرد اور تین خواتین شامل ہیں۔ گلگت پولیس کی جانب سے فراہم کی جانے والی اطلاعات کے مطابق وادی استور کے گاؤں چورچ میں چھ افراد برفانی تودے کی زد میں آ کر ہلاک ہوگئے جبکہ دو افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔یہ واقعہ جمعہ کی شام کو پیش آیا اور اب تک مرنے والے تمام افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ اس حادثے میں چار عورتیں اور دو مرد مارے گئے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے صوبہ سرحد کے شمالی پہاڑی علاقے سوات کے مختلف حصوں میں برفانی تودوں کی زد میں آ کر اٹھارہ افراد ہلاک جبکہ سات افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔ ادھر افغان سرحد پر واقع پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی دور افتادہ ’ٹیرہ وادی‘ میں گزشتہ روز شدید برفباری کے دوران لاپتہ ہونے والے چوالیس سکیورٹی اہلکاروں میں سے بیس افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||