برفباری: ہزاروں زندگیوں کو خطرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حالیہ بارشوں اور برف باری سے جہاں سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے وہاں ایک دور دراز علاقے بروغِل کی آبادی کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ ملک میں اس سال موسم سرما کی غیرمعمولی بارشوں اور برف باری سے پاکستان کے انتہائی شمال میں آخری کونہ واخان بھی متاثر ہوا ہے۔ یہ علاقہ چترال سے تقریبا دو سو اسی کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔ واخان سے موصول اطلاعات کے مطابق درہ بروغِل کی تقریبا چار ہزار افراد پر مشتمل آبادی گزشتہ نو دن کی مسلسل برف باری سے دوسرے علاقوں سے کٹ کر رہ گئی ہے۔ اس عرصے میں اب تک وہاں آٹھ فٹ برف پڑ چکی ہے جس سے آمدو رفت کے تمام راستے بند ہوچکے ہیں اور مقامی آبادی اور مال مویشی خوراک کی شدید قلت کا شکار ہیں۔ چترال کے ناظم شہزادہ محی الدین نے بروغل میں صورتحال کی سنگینی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اس سلسلے میں صدر پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز کو مدد دینے کی اپیل پر مبنی خطوط ارسال کئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق سینکڑوں افراد کے علاوہ مال مویشی کی جانوں کو خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تیس برس میں ہونے والی سب سے زیادہ برف باری ہے۔ علاقے سے چند افراد چھ دن کا پیدل سفر کرکے چترال پہنچے ہیں اور حکام سے مدد کی اپیلیں کر رہے ہیں لیکن ابھی تک حکومت کے حرکت میں آنے کے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں۔ ماضی میں بھی یہ علاقہ اس قسم کی صورتحال سے دوچار ہوا تھا۔ ستر کی دہائی کے اواخر میں اسی قسم کے قحط کے دوران حکومت نے سی 130 طیارے کے ذریعے علاقے میں اشیائے خوردونوش گرا کر لوگوں کو بچایا تھا۔ مقامی آبادی نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس مشکل کی گھڑی میں ان کی مدد نہ کی گئی تو وہ افغان حکومت سے اپیل کرنے جیسا قدم بھی اٹھا سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||