سرحد بارشیں، دو سو ساٹھ ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے اکثر شمالی علاقوں میں خراب موسم اور بارشوں کے باعث ہیلی کاپٹروں کے ذریعے دور دراز کے علاقوں کو امدادی سامان کی ترسیل کا کام شروع نہیں ہوسکا ہے۔ البتہ حکام گزشتہ دنوں کی بارشوں اور برف باری سے ہلاکتوں کی تعداد اب دو سو ساٹھ کے قریب بتا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ چالیس سے زائد افراد قبائلی علاقوں میں بھی خراب موسم کی نظر ہوئے ہیں۔ دو روز کے وقفے کے بعد آج صوبہ سرحد کے اکثر شمالی علاقوں میں بارشوں اور برف باری کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا ہے جس سے امدادی کارروائیوں میں خلل پڑا ہے۔ پشاور میں امدادی کارروائیوں کی نگرانی کرنے والے ریلف کمشنر غلام فاروق کے مطابق خراب موسم کی وجہ سے آج صرف زمینی رابطے بحال کرنے کا کام ہو سکا جبکہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے امدادی سامان کی تقسیم نہیں ہوسکی ہے۔ تاہم ایبٹ آباد، مانسہرہ، کوہستان اور چترال کے کئی متاثرہ علاقوں سے زمینی اور مواصلاتی رابطے اب بھی منقطع ہیں۔ صوبائی حکام کا کہنا ہے اب تک بارشوں اور برف باری سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو سو ساٹھ تک پہنچ گئی ہے جبکہ دو سو سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ریلف کمشنر کے مطابق یہ تعداد بھی حتمی نہیں ہے کیونکہ کئی علاقوں سے ابھی نقصانات کی تفصیلات موصول ہونا باقی ہیں۔ حکام کے مطابق اب تک ایک کروڑ روپے کے امدادی چیک متاثرین میں تقسیم کیے جاچکے ہیں جبکہ دو کڑوڑ روپے سے زائد مالیت کے چیک آئندہ چند روز میں متاثرین کو دیے جائیں گے البتہ کئی علاقوں سے جن میں سوات بھی شامل ہے موصولہ اطلاعات کے مطابق متاثرین اب بھی امداد کی امید کر رہے ہیں۔ صوبائی حکومت نے اب غیرسرکاری تنظیموں کو بھی امدادی کارروائیوں میں شامل کرنے کے لیے ایک اجلاس کل پشاور میں طلب کیا ہے۔ صوبائی حکومت نے وبائی امراض کے پھیلنے کے خدشات کو مسترد کیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ادویات کا انتظام بھی کیا جا رہا ہے۔ ادھر وفاقی حکومت کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں بارشوں اور برفباری سے ہلاکتوں کی تعداد بیالیس ہے۔ اس میں سب سے زیادہ یعنی بارہ ہلاکتیں خیبر ایجنسی میں ہوئیں جبکہ دوسرے نمبر پر نو باجوڑ ایجنسی میں ہوئی ہیں۔ حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں کا سروے کر لیا گیا ہے جس کے بعد امدادی سرگرمیوں میں تیزی آنے کی امید ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||