BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 14 February, 2005, 12:31 GMT 17:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بارشیں، برفباری، 160 ہلاک

سیری راجپال گاؤں
پاکستان کے شمال میں برفباری میں پھنسے ہوئے لوگ
صوبہ سرحد میں سرکاری ذرائع کے مطابق حالیہ بارشوں اور برف باری سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ جاری ہے اور اب تک ایک سو ساٹھ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

وزیر اعظم شوکت عزیز نے پیر کو سرحد میں سب سے زیادہ متاثرہ علاقے ہزارہ ڈویژن کا دورہ کیا۔

گزشتہ ہفتے کی مسلسل بارشوں اور برفباری سے ہوئے جانی نقصان کی تفصیلات کے آہستہ آہستہ سامنے آنے کے ساتھ ہی سنگین نقصانات کی صحیح تصویر واضح ہو رہی ہے۔ پشاور میں ریلیف کمشنر کے دفتر کے مطابق اب تک ایک سو ساٹھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوسکی ہے۔

ویسے تو سرحد کے تمام علاقوں میں اکا دکا اموات ہوئی ہیں لیکن ہزارہ ڈویژن کے علاقے کوہستان، مانسہرہ اور ایبٹ آباد سب سے زیادہ جبکہ سوات اور دیر کے علاقے بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

سرحد حکومت کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت کے بظاہر نتیجے میں آج وزیر اعظم شوکت عزیز نے کاغان اور بالاکوٹ کے علاقوں کا دورہ کیا اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے امداد کی یقین دہانی بھی کرائی۔

اس دورے میں ان کے ساتھ وزیر اعلٰی اکرم خان درانی بھی شریک تھے۔

جانی نقصانات کے علاوہ ایک اندازے کے مطابق ساڑھے پانچ ہزار کچے اور پکے مکانات یا تو منہدم ہوئے ہیں یا پھر انہیں جزوی نقصان پہنچا ہے۔ مال میویشیوں کا بھی نقصان ہوا ہے۔

دور دراز پہاڑی ضلع کوہستان میں برفانی تودوں سے سب سے زیادہ یعنی بیالیس اموات کی اب تک تصدیق ہوسکی ہے۔ اس کے علاوہ پتن تحصیل کے دو اور مقامات پر اسی قسم کے واقعات پیش آنے سے بھی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

ایبٹ آباد اور مری کے درمیان سڑک پر کئی مقامات پر تودے گرنے سے راستے کی بندش ہے اور گلیات کی آبادی خوراک کی کمی سے دوچار ہے۔

وزیر اعلٰی سرحد اکرم خان دورانی نے کل ایک اخباری کانفرنس میں یہ شکایت کی تھی کہ وفاقی حکومت سے امداد کے لیے متعدد رابطوں کے باوجود کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

صوبائی حکومت نے مرکز سے بارشوں کے اثرات سے نمٹنے کی خاطر دس کروڑ روپے کی امداد کا مطالبہ کیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد