ہلاکتیں 130 سے تجاوز کر گئیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد میں سرکاری ذرائع کے مطابق حالیہ بارشوں اور برف باری سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک سو تیس سے تجاوز کر چکی ہے البتہ اس میں مزید اضافے کا اندیشہ ہے کیونکہ بہت سے علاقوں سے اب بھی زمینی اور مواصلاتی رابطے منقطع ہیں۔ حالیہ بارشوں اور برفباری سے تو ویسے سرحد کے تمام علاقے متاثر ہوئے ہیں اور ایک دو اموات ہر ضلع میں پیش آئی ہیں لیکن کوہستان، شانگلہ، مانسہرہ، ایبٹ آباد، سوات اور دیر کے علاقے سب سے زیادہ متاثر بتائے جاتے ہیں۔ جانی نقصانات کے علاوہ ہزاروں کچے پکے مکانات یا تو منہدم ہوئے ہیں یا پھر انہیں جزوی نقصان پہنچا ہے۔ مال میوشیوں کی ہلاکتیں اس کے علاوہ ہیں۔
دور دراز پہاڑی ضلع کوہستان میں برفانی تودوں سے سب سے زیادہ یعنی بیالیس اموات کی اب تک تصدیق ہوچکی ہے۔ وہاں ایک علاقے کے لیے فوجی جوانوں اور پولیس پر مشتمل ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں تاکہ وہاں چار مکانات پر برفانی تودہ گرنے سے دبنے والے اڑتیس افراد کی لاشیں نکالی جا سکیں۔ اس کے علاوہ پتن تحصیل کے دو اور مقامات پر اسی قسم کے واقعات پیش آنے سے بھی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ایبٹ آباد اور مری کے درمیان سڑک پر کئی مقامات پر تودے گرنے سے بندش سے گلیات کی آبادی خوراک کی کمی سے دوچار ہے۔ وزیر اعلی سرحد اکرم خان دورانی نے کل ایک اخباری کانفرنس میں یہ شکوہ کیا۔ صوبائی حکومت یہ شکایت کی ہے کہ وفاقی حکومت سے امداد کے لیے متعدد رابطوں کے باوجود کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ صوبائی حکومت نے مرکز سے بارشوں کے اثرات سے نمٹنے کی خاطر دس کروڑ روپے کی امداد کا مطالبہ کیا ہے۔ توقع ہے کہ یہ سرحد حکومت اپنی یہ شکایت سوموار کے روز اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی اٹھائیں گے۔ موسم میں بہتری اور مرکز اور صوبے کے درمیان امدادی کارروائیوں پر ہم آہنگی کے بعد ہی توقع کی جاسکتی ہے کہ کوئی مربوط امدادی کارروائی شروع ہوسکے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||