BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 February, 2005, 08:00 GMT 13:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جھگڑا بگتیوں اور کلپروں کا

بلوچستان
پولیس کا کہنا ہے کہ ڈیرہ بگتی میں مفرور مجرموں کو پناہ دی جاتی ہے
چھاؤنیوں کا جواز پیش کرتے ہوئے حکومتی حلقے کہتے ہیں کہ صوبہ میں امن و امان کی صورتحال بہت خراب ہوگئی ہے اور قوم پرستوں کے حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کی کارروائیوں سے روزمرہ زندگی، کاروبار اور قومی تنصیبات غیر محفوظ ہوگئی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کوئی سردار امن و امان کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا خواہ جھگڑا یا قتل قبائل کے اندر ہو یا قبائل کے درمیان۔

چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ کے نائب صدر جاوید حسین کوکب پراچہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال سے کراچی سے کوئٹہ آنے والے مال بردار ٹرک اور دوسری سامان سے بھری گاڑیاں خضدار (سردار مینگل کا علاقہ) اور منکچر کے درمیان غائب ہوجاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈرائیور کو چھوڑ دیا جاتا ہے لیکن گاڑی اور سامان کو غائب کردیا جاتا ہے۔

بلوچستان پولیس کے ایک اعلی افسر نے کہا ’ڈیرہ بگتی کے علاقے میں نواب بگتی کے حکم کے بغیر کوئی کام نہیں ہوسکتا لیکن جب راکٹ فائر ہوتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کس نے فائر کیے‘۔

حال ہی میں سوئی میں گیس تنصیبات پر راکٹوں سے جو حملہ کیا گیا اس میں ایک ایک راکٹ پلانٹ سے صرف چھ فٹ کے فاصلے پر لگا اور اگر وہ پلانٹ پر لگ جاتا تو پی پی ایل کے ماہرین کے مطابق اس سے اتنی تباہ کاری ہوتی جس کی تاریخ میں مثال موجود نہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف سوئی کی گیس پائپ لائنوں کی لمبائی نوے کلومیٹر ہے۔

 ’ڈیرہ بگتی کے علاقے میں نواب بگتی کے حکم کے بغیر کوئی کام نہیں ہوسکتا لیکن جب راکٹ فائر ہوتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کس نے فائر کیے‘
ایک پولیس افسر

پولیس کا کہنا ہے کہ ڈیرہ بگتی میں مفرور مجرموں کو پناہ دی جاتی ہے جنہیں بلوچستان میں فراری کہاجاتا ہے۔ یہ فراری گیس کمپنی کو ڈرا دھمکا کر ان سے پیسے لیتے تھے، سڑکوں پر ڈکیتیاں عام ہوگئی تھیں اور کشمور (سندھ) سے سوئی کی طرف آنے والی گاڑیوں کو دن دیہاڑے لوٹ لیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ
نواب بگتی کے وفاداروں پر کئی عورتوں سے جنسی زیادتی کرنے اور انہیں قتل کے الزامات ہیں۔ پولیس کے مطابق ڈیڑھ سو سے زیادہ قتل، اغواء اور ڈکیتیوں کے مقدمات نواب بگتی اور ان کے وفاداروں کے خلاف درج ہیں لیکن کبھی کوئی گرفتاری نہیں کی جاسکی۔ ہر مقدمہ کو پولیس نے داخل دفتر کیا ہے۔ تاہم نواب اکبر بگتی اور ان کی جماعت کے عہدیداران ایسے تمام الزامات سے نہایت شدت سے انکار کرتے رہے ہیں۔

نواب اکبر بگتی بارہ سال کی عمر میں انیس سو انتالیس میں بگتی قبائل کے سردار یا نواب بنے تھے۔انیس سو اٹھاون میں وہ اپنے چچا کے قتل میں نامزد ہوئے لیکن صدر جنرل ایوب خان نے اس وقت اپنے ساتھی سردار امیر محمد خان جوگیزئی کی درخواست پر نواب بگتی کو معافی دے دی۔

بگتی قبیلہ کی ایک شاخ کلپر بگتی جو سوئی کے علاقے میں آباد ہیں نے پیپلز پارٹی میں شامل ہوکر بلدیاتی، صوبائی اور قومی انتخابات میں نواب بگتی کا مقابلہ شروع کردی جس پر انہیں شدید مزاحمت کا سامنا کر نا پڑا۔

اس لڑائی میں کچھ کلپر بگتی قتل ہوئے اور ہزاروں کلپر اپنا آبائی علاقہ چھوڑنے پر مجبور کردیے گئے۔ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں وہ ملتان، کراچی، پنوں عاقل اور بہاولپور میں آباد ہوگئے۔ کلپروں پر الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے نواب بگتی کے ایک بیٹے کو قتل کردیا تھا۔

بلوچستان
’کوئی سردار امن و امان کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا خواہ جھگڑا یا قتل قبائل کے اندر ہو یا قبائل کے درمیان‘

دوسری طرف نواب خیر بخش مری کو کمیونسٹ حکومت کے ختم ہونے پر اس وقت صوبہ کے وزیراعلٰی تاج محمد جمالی کی درخواست پر پی پی ایل کی طرف سے چارٹرڈ کیے گئے دو سی ون تھری طیارے بھیج کر افغانستان سے کوئٹہ لایا گیا۔

حکومت نے نواب خیر بخش مری کو اپنے قبیلہ کے لوگوں کو آباد کرنے کے لیے اعلانیہ طور پر دو کروڑ روپے دیے جبکہ ان کے مخالفین کہتے ہیں کہ یہ پیسہ عوام میں تقسیم نہیں کیا گیا۔

دو ہزار تین میں بلوچستان میں کیا کچھ ہوا؟
سرکاری اعداد وشمار کے مطابق سنہ دو ہزار تین میں بلوچستان میں اڑتیس بم دھماکے ہوئے، ایک سو پچپن راکٹ حملے ہوئے، پندرہ بارودی سرنگیں پھٹیں اور ان حملوں میں ستر سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے۔

چند سال پہلے جب بلوچستان کے جج جسٹس محمد نواز مری (بجارانی شاخ) کو قتل کردیا گیا تھا تو گیارہ جنوری دو ہزار کو نواب خیر بخش مری اور ان کے بیٹوں کو اس قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ جولائی دو ہزار ایک میں انہیں ضمانت پر رہا کردیا گیا۔

نواب خیر بخش مری جو انیس سو ننانوے تک خاموش تھے اس واقعہ کے بعد قوم پرست تحریک کے لیے سرگرم ہوگئے اور حکومت کے مطابق مری قبائل کے لوگ عسکری کارروائیاں کرنے لگے۔

بلوچستان پولیس کا کہنا ہے کہ نواب مری کے علاقے کاہان میں فراریوں پر مشتمل عسکری تربیتی کیمپس ہیں اور ان کے لوگوں کے پاس آٹومیٹک ہتھیار، اینٹی ائرکرافٹ گنیں، راکٹ اور ہیٹ سیکنگ طیارہ شکن میزائل بھی ہیں۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق سنہ دو ہزار تین میں بلوچستان میں اڑتیس بم دھماکے ہوئے، ایک سو پچپن راکٹ حملے ہوئے، پندرہ بارودی سرنگیں پھٹیں اور ان حملوں میں ستر سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے۔

حکومت کے مطابق اس پس منظر میں فوج نے بلوچستان میں چھاؤنیاں بنانے کا منصوبہ شروع کیا اور اس کے لیے زمین خریدی۔

بلوچ کہانی 9بلوچ کہانی 9
گوادر: شکوے، شکایتیں اور خدشات۔ عدنان عادل
گوادربلوچ کہانی، 8
گوادر۔ ترقی یا کالونائزیشن (پہلا حصہ)
بلوچ کہانی : 6
بلوچ جدید و منظم یا ’چاکلیٹ فائٹر‘
بلوچ کہانی - 4
بلوچ قومی تحریک کون چلا رہا ہے؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد