BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 February, 2005, 12:35 GMT 17:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوادر: شکوے، شکایتیں، خدشات

بلوچستان
’چھاؤنی کے قیام کا مقصد پنجابی آبادکاروں کو تحفظ دینا اور بلوچ تحریک کو دبانا ہے‘
اس وقت گوادر پُرامن جگہ تصور کی جاتی ہے۔ گزشتہ دس سال میں یہاں صرف ایک قتل ہوا۔ انسانی حقوق کمیشن برائے پاکستان کے جمع کیے ہوئے اعداد و شمار کے مطابق یہاں عورتوں سے زیادتیوں کی شکایات اس وقت نہ ہونے کے برابر ہیں لیکن مقامی لوگوں کے خدشات ہیں کہ بندرگاہ کی تعمیر سے جرائم میں اضافہ ہوگا۔

گودار کی ترقی کے کاموں میں مقامی افراد کے روزگار اور ملازمتوں کا معاملہ بھی متنازعہ ہے۔ سرکاری حلقے اور غیرسرکاری حلقے الگ الگ کہانیاں بیان کرتے ہیں اور مقامی افراد کو دی گئی ملازمتوں کی تعداد کے بارے میں الگ الگ اعداد وشمار پیش کرتے ہیں۔

سرکاری لوگوں کے مطابق ترقیاتی کاموں کے ٹھیکے دار مقامی بلوچ ہیں اور انہوں نے مقامی لوگوں کو خاصی ملازمتیں دیں لیکن وہ تربیت لے کر کراچی چلے گئے۔

خان قلات کا کہنا ہے کہ گوادر اور سیندک کی ترقی میں مقامی لوگوں کا کوئی کردار نہیں جبکہ تربیت یافتہ ہنرمند بلوچ لوگ اور بلوچ انجینئر دستیاب تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوچوں کو چین میں تربیت کیوں نہیں دلوائی گئی۔

قوم پرستوں کے مطالبات
 گوادر بندرگاہ سے جو بھی محاصل مستقبل میں حاصل ہوں وہ تمام بلوچستان کو دیے جائیں، گوادر پورٹ اتھارٹی کا سربراہ بلوچ ہو اور اس کے بورڈ کے ارکان کم سے کم چھ فیصد بلوچستان سے ہوں۔
بلوچ قوم پرست

دانشور عبدالحکیم بلوچ کے مطابق گوادر سے بلوچستان کے اندر پھیلنے والی بے چینی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ اس بندرگاہ کو مشرق کی طرف ساحلی سڑک کے ذریعےکراچی سے تو ملادیاگیا ہے لیکن اس بندرگاہ کو بلوچستان کے اندرونی علاقوں سے ملانے کے لیے ہائی وے نہیں بنائی گئی۔

ان کا کہنا ہے کہ صوبہ کے وسط اور شمال میں جانے کے لیے تربت، پنجگور اور خضدار سے کوئٹہ تک ملانے کے لیے سڑک نہ بنانے سے بلوچستان کے لوگوں میں یہ احساس پیدا ہورہا ہے کہ انہیں چاروں طرف زمین سے گھرا ہوا یا لینڈلاک بنایا جارہا ہے۔

بلوچ دانشور کہتے ہیں کہ گوادر کی ترقی سے یہاں کے لوگوں کو جب ہی فائدہ ہوگا جب یہ سڑک بنائی جائے جس سے سرمایہ کاری، تجارت، کاروبار، ملازمت کے مواقع سب کے لیے پیدا ہوں گے۔

عبدالحکیم کے مطابق گوادر میں پینے کے پانی کی شدید کمی ہے اور آبادی میں اضافہ سے یہ مسئلہ اور سنگین ہوگا جس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت وہاں پر سمندری پانی کو صاف کرکے پینے کے قابل بنانے کے لیے ایک ڈی سیلینائزیشن پلانٹ لگائے تاکہ ترقی اور تعمیرات کے لیے پانی کی ضروریات پوری کی جاسکیں۔

News image
بندرگارہ بننے سے ماہی گیروں کوالگ مسائل کا سامنا ہے۔

بندرگارہ بننے سے ماہی گیروں کوالگ مسائل کا سامنا ہے۔ جہاں نئی بندرگاہ بنائی جارہی ہے وہاں زیرآب چٹانوں کا سلسلہ ہے جن میں بڑی تعداد میں مچھلیوں کی پرورش ہوتی ہے۔ اب ان چٹانوں کو توڑا جارہا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ چٹانوں کو توڑے جانے کی وجہ سے مچھلیوں کو پکڑنا اور چھوٹی کشتیوں کی مرمت کرنا مشکل ہوجائے گا اور صرف بڑے ٹرالوں کے ذریعے ہی ماہی گیری ہوسکے گی جس کے لیے مقامی ماہی گیروں کے پاس وسائل نہیں۔

علاقہ میں پرانی بستیوں اور آبادیوں سے بے گھر ہونے والے لوگوں کی آبادکاری اور بحالی کو بھی ایک مسئلے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ گوادر میں پچیس ہزار ایکڑ زمین نیوی کو دی گئی ہے اور مختلف سیکیورٹی اداروں کو بھی چالیس ہزار ایکڑ زمین دی گئی ہے۔

گوادر چھاؤنی بندرگاہ سے ڈیڑھ سو کلومیٹر دور بنائی جائے گی۔ قوم پرستوں کا کہنا ہے کہ اس چھاؤنی کا قیام ضرورت نہیں بلکہ اس کے قیام کا مقصد پنجابی آبادکاروں کو تحفظ دینا اور بلوچ تحریک کو دبانا ہے۔

کوئٹہ میں انسانی حقوق کمیشن کے ارکان کا کہنا ہے کہ گوادر بندرگاہ سے جڑے ہوئے ملا بند کے تقریبا تین سو ایکڑ علاقے پر بندرگاہ کی تنصیبات اور پورٹ اتھارٹی بنائی جارہی ہیں۔

اس کے نتیجہ میں پینسٹھ ایکڑ پر پھیلی رہائشی آبادی کے پرانے مقامی لوگوں کے پینتیس خاندانوں کو نہ صرف اپنا گھر بار چھوڑنا پڑرہا ہے بلکہ ان کو متبادل جگہ ملنے کے بارے میں خدشات ہیں۔

اس کے جواب میں سرکاری حلقوں کا کہنا ہے کہ بندرگاہ کی تنصیبات کے لیے صرف ایک ہزار ایکڑ زمین کی ضرورت ہے جس میں سے پانچ سو ایکڑ زمین سمندر میں سے حاصل کی گئی ہے جبکہ چار سو ایکڑ سے زیادہ سرکاری زمین ہے اور صرف پچیس ایکڑ رقبہ عوام سے لیا گیا ہے۔

پولیس کی عملداری بلوچستان میں پچانوے فیصد علاقے میں نہیں جسے بی کیٹگری کا علاقہ کہا جاتا ہے۔ یہاں جہاں لیویز اور سکاؤٹس کا نظام امن و امان کا ذمہ دار ہے۔ صرف شہروں اور قصبوں میں پولیس کا نظام تھا اور اس علاقہ کو اے علاقہ کہا جاتا ہے۔

حال ہی میں گوادرضلع کو مکران، مستونگ، جھل مگسی اور پشین کے ساتھ پولیس کی عملداری میں دے دیا گیا ہے جس سے بھی قوم پرست خاصے نالاں ہیں۔

گوادر کی مقامی انتظامیہ نے صوبائی حکومت سے اس علاقہ میں چھ تھانے بنانے اور ایک سو سے زیادہ پولیس ملازمین تعینات کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ڈی سیلینائزیشن پلانٹ کی ضرورت
گوادر میں پینے کے پانی کی شدید کمی ہے اور آبادی میں اضافہ سے یہ مسئلہ اور سنگین ہوگا
بلوچ دانشور

بلوچستان پر بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے قوم پرستوں نے گوادر پر جو مطالبات پیش کیے ان میں کہا گیا کہ گوادر بندرگاہ سے جو بھی محاصل مستقبل میں حاصل ہوں گے وہ تمام بلوچستان کو دیے جائیں اور گوادر پورٹ اتھارٹی کا سربراہ بلوچ ہو اور اس کے بورڈ کے ارکان کم سے کم چھ فیصد بلوچستان سے ہوں۔

قوم پرستوں کا مطالبہ ہے کہ گوادر میں تمام بیرونی سرمایہ کاری متحدہ عرب امارات کی طرز پر ہونی چاہیے جس میں اکیاون فیصد شراکت مقامی لوگوں کی ہو اور باقی انچاس فیصد بیرونی سرمایہ کاروں کا پیسہ ہو اور اگر کوئی سرمایہ کار اس شرط سے اتفاق نہ کرے اور اس کی پابندی نہ کرے تو اسے سرمایہ کاری کی اجازت نہ دی جائے۔

دانشور طاہر محمد خان کا کہنا ہے کہ نقل آبادی کو روکنا ممکن نہیں ہوگا لیکن بلوچوں کے لیے کسی ُکشن کا اہتمام کیاجانا چاہیے۔ ایک اور دانشور شاہ محمد مری کہتے ہیں کہ بلوچ قبیلے میں روایتی طور تین شرطوں کے تحت کسی شخص کو قبیلہ میں شامل کیا جاتا تھا جن میں ایک شرط ہے کہ وہ قبیلہ کی جنگ میں اس کے ساتھ شانہ بشانہ شامل ہو، دوسرے قبیلہ میں اپنی لڑکی بیاہے اور تیسرے قبیلہ کی لڑکی سے شادی کرے تو قبیلہ کا پانی او زمین میں اس کو حصہ دیاجاتا ہے۔

بلوچ دانشور تسلیم کرتے ہیں کہ موجودہ دور میں پاکستان کے دوسرے علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں کے لیے بلوچ قبیلہ میں شامل ہونے کی شرائط تسلیم کرنا ممکن نہیں لیکن جیسا امریکہ یا دوسرے ملکوں میں نیچرلائزیشن یا شہریت دینے کے لیے کچھ مدت اور شرائط ہیں گوادر میں بھی ایسے قوانین او ضوابط نافذ کیے جانے چاہئیں تاکہ بلوچوں کے حقوق کا تحفظ ہوسکے۔

گوادربلوچ کہانی، 8
گوادر۔ ترقی یا کالونائزیشن (پہلا حصہ)
بلوچ کہانی : 6
بلوچ جدید و منظم یا ’چاکلیٹ فائٹر‘
بلوچ کہانی - 5
ایک بار پھر عسکری کارروائیوں کی راہ کیوں؟
بلوچستانبلوچ کہانی
بلوچ تحریک کے فوری اسباب کیا ہیں؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد