ڈیرہ بگٹی: اے آر ڈی سربراہ اجلاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد اے آر ڈی یعنی اتحاد برائے بحالی جمہوریت نے بلوچستان کے قوم پرست رہنماؤں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اے آرڈی کے رہنما اس ماہ کے آخری ہفتے میں ڈیرہ بگٹی جائیں گے جہاوں اتحاد کا سربراہی اجلاس بھی منعقد کیا جائے گا۔ اے آر ڈی کے سربراہ مخدوم امین فہیم نے اسلام آباد میں اتحاد کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بہت اہم اور حساس ہے اور اپوزیشن رہنما بلوچوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لئے ڈیرہ بگٹی جائیں گے۔ اجلاس میں ایک قرارداد بھی منظور کی گئ جس میں کہا گیا ہے کہ اے آر ڈی بلوچستان میں جاری آپریشن اور غیر ضروری فوجی چھاؤنیوں کے قیام کی مذمت کرتا ہے۔ اپوزیشن نے الزام لگایا کہ حکمران ہر مسئلہ گولی اور لاٹھی کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔ اے آر ڈی نے متحدہ مجلس عمل کی طرف سے اے آر ڈی کے ساتھ مشترکہ تحریک چلانے کے اعلان کا خیر مقدم تو کیا مگر ساتھ ہی کہا کہ سیاسی جماعتوں کے دینی اتحاد کے ساتھ چلنے میں کچھ تحفظات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سترھویں ترمیم پر ایم ایم اے نے اکیلے ہی اڑنے کی کوشش کی جس کے بعد ان کے ساتھ کسی بھی تحریک چلانے سے پہلے کچھ یقین دہانیاں طلب کی جائیں گی۔ مخدوم امین فہیم نے کہا کہ اے آر ڈی اسی سال نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ بھی کرتا ہے کیونکہ موجودہ پارلیمنٹ ایک شخص یعنی صدر جنرل پرویز مشرف کو قانونی حیثیت اور تمام اختیارات دینے کے لئے استعمال ہو رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||