فوج کےخلاف متحدہ مجلس کی اپیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے حزب اختلاف کی تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک کے اقتدار پر فوجی تسلط اور سیاست میں فوجی مداخلت کے خلاف متحد ہو جائیں اور اس سلسلے میں اتحاد برائے بحالیئ جمہوریت سمیت تمام جمہوری قوتوں سے بات کی جائے گی۔ پیر کو اسلام آباد میں ایم ایم اے کی سپریم کونسل کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس عمل کے رہنما لیاقت بلوچ نے کہا کہ اس اجلاس میں مجلس عمل کے رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس فوجی تسلط اور مداخلت کے خلاف جمہوری قوتوں کا متحد ہونا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مفاہمت کے تمام راستے خود ہی بند کر دیے ہیں۔انہوں نے ایم ایم اے کی نئی احتجاجی تحریک کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مارچ میں کراچی،لاہور،کوئٹہ اور پشاور میں ملین مارچ کئے جائیں گے اور مختلف شہروں کے درمیان کاروان چلائے جائیں گے جن کی قیادت مجلس عمل کے رہنما کریں گے۔ اس کے علاوہ انہوں نے صوبائی دارالحکومتوں میں مزدور اور وکلاء کنونشن بھی منعقد کرنے کا اعلان کیا۔ ایم ایم اے نے یہ بھی اعلان کیا کہ اتحاد کے رہنما نیشنل سکیورٹی کے آئندہ اجلاس میں بھی شرکت نہیں کریں گے کیونکہ اس مسئلے پر حکومت نے مجلس عمل کے تحفظات دور نہیں کیے۔ مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد نے اجلاس کے بعد صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہا کہ سترھویں ترمیم لا یعنی ہو گئی ہے اور اس کے تحت صدر جنرل مشرف کو جو بھی قانونی حیثیت حاصل تھی وہ باقی نہیں رہی اور مجلس عمل بھی اب اس معاہدے کی پابند نہیں ہے۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ سترھویں ترمیم پر مجلس عمل نے صدر جنرل مشرف سے وردی چھوڑنے کی ڈیڈلائن منوائی مگر صدر نے اس معاہدے کی پابندی نہ کر کے جرم کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||