| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مجلس عمل کا نیا نعرہ
سترہویں آئینی ترمیم کی منظوری میں حکومت کا ساتھ دینے پر حزب مخالف کی شدید تنقید کا شکار مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے نفاِذ شریعت کا نعرہ بلند کیا ہے۔ جمعرات کو متحدہ مجلس عمل نے ملک میں نفاذ شریعت کے لیے سترہ نکاتی ایجنڈا پیش کیا ہے اور صدر مشرف کی واجپائی سے حالیہ ملاقات اور دہشت گردی کے اضافی پروٹوکول پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ آج لاہور میں مجلس عمل کے ہنگامی سربراہی اجلاس کے بعد پریس بریفنگ میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ مجلسِ عمل سارک کے دہشت گردی پر اضافی پروٹوکول کے بارے میں تحفظات رکھتی ہے اور سمجھتی ہےکہ اس سے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی اور حق خود ارادیت کے موقف کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ بریفنگ میں مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد بھی شریک تھے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت نے مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراراداوں کو الگ رکھنے کا اعلان کرکے سفارتی سطح اور مذاکرات کی میز پر بھی پاکستان کے موقف کو کمزور کردیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مجلس عمل کشمیریوں کی سفارتی اور اخلاقی مدد جاری رکھے گی۔ انھوں نے کہا کہ مجلس عمل سترہویں آئینی ترمیم سے ہونے والی کامیابیوں کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنے کے لیے عوام رابطہ مہم شروع کرے گی جس کا آغاز کراچی میں اٹھارہ جنوری سے ایک جلسہ عام سے کیا جاۓ گا۔ مجلس عمل نے اعلان کیا کہ وہ اسمبلیوں میں اسلامی نظریاتی کردار کے تحفظ اور نفاذ شریعت کے لیے اپنی جدوجہد کرے گی۔ مجلس عمل نے نفاذ شریعت کے لیے سترہ نکاتی ایجنڈہ جاری کیا ہے جس میں مندرجہ ذیل نکات شامل ہیں۔ ’آئین کے آرٹیکل دو میں ترمیم کی جاۓ، قران و سنت ملک کا بالادست قانون ہے جس سے متصادم کوئی قانون سازی نہیں ہوسکتی۔ تمام موجودہ قوانین کو اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں شریعت سے ہم آہنگ کیا جاۓ۔ آئین کے آرٹیکل پینتالیس میں صدر کا معافی دینے کا اختیار حدود کے معاملہ میں ختم کیا جائے‘۔ ’آئین کی دفعہ نواسی کو ختم کیا جائے ا سکی وجہ سے پارلیمینٹ ربڑ اسٹیمپ بن گئی ہے۔ آرٹیکل دو سو اڑتالیس میں اختیارات کے غلط استعمال کے سلسلے میں قانونی چارہ جوئی کے امکانات کا ازسر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ یہ دفعہ نیب کے قانون کے مؤثر نفاذ میں رکاوٹ ہے۔ وفاقی شریعت عدالت کے ججوں کی شرائط ملازمت وہی کی جائے جو اعلٰی عدلیہ کے ججوں کی ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات اسمبلی میں لائی جائیں۔ جمعہ کی چھٹی انتظامی حکم سے بحال کی جاۓ۔ معیشت، تعلیم اور ذرائع ابلاغ کی پالیسیاں اسلامی تعلیمات کے مطابق بنانے کے لیے کمیشن مقرر کیا جاۓ۔ خارجہ پالیسی کو ملکی مفادات کے تحت تشکیل دیا جائے۔ ایٹمی صلاحیت کا تحفظ کیا جائے۔ خواتین کو قران و سنت کی روشنی میں جائز حقوق دیے جائیں۔ مساجد بننے پر ناروا پابندیاں ختم کی جائیں اور رجسٹریشن کے لیے وزارت داخلہ کے این او سی کی پابندی ختم کی جاۓ۔ مدارس آرڈیننس ختم کیا جاۓ اور مدارس کو واچ لسٹ سے ہٹایا جائے۔ سکولوں اور کالجوں کے نصاب میں اسلامیات اور دینیات کے خارج کیے گۓ مضامین دوبارہ شامل کیے جائیں۔ ملک میں اسلامی نظام تعلیم نافذ کیا جائے۔ تعلیم کی نجکاری اور سیکولرائزیشن ختم کی جائے۔ سکولوں اور کالجوں میں قومی لباس سے ہم آہنگ یونیفارم نافذ کی جائے۔ مزدوروں پر مسلط کالا قانون آئی آر او منسوخ کیا جاۓ۔ سرکاری ملازمین کی برطرفی کا کالا قانون واپس کیا جاۓ۔ فوجی دور میں لاۓ گۓ کالے قوانین پر پارلیمان میں از سر نو بحث کی جاۓ۔ ملک میں ایف بی آئی کی سرگرمیاں ختم کی جائیں۔ امریکی افواج سے اڈے واپس لیے جائیں۔ انیس سو تہتر کے مطابق وفاق اور صوبوں کے حقوق اور خود مختاری کو یقینی بنایا جاۓ۔ وفاقی حکومت صوبائی اختیارات سلب نہ کرے۔ تیل گیس اور ہائڈل پاور کی رائلٹی صوبوں کے حق کے مطابق تقسیم کی جاۓ۔ بلاسود معیشت کے لیے وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کے شرعی بینچ کے فیصلوں پر عمل کیا جائے ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||