کوئٹہ:مری کیمپ پر چھاپہ مار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں پولیس نے مری کیمپ پر چھاپہ مار کر پندرہ افراد کو گرفتار کیا ہے اور بھاری اسلحہ برآمد کرنے کا دعوی کیا ہے۔ نواب خیر بخش مری کے بیٹے اور رکن صوبائی اسمبلی بالاچ پری نے کہا ہے کہ یہ سب چھوٹ کا پلندہ ہے اور بلوچوں کو دبانے کی سازش ہے۔ ڈی آئی جی کوئٹہ پرویز رفیع بھٹی نے کہا ہے کہ کوئی پندرہ سو پولیس اہلکاروں نے مری کیمپ کو گھیرے میں لیکر کارروائی کی ہے۔ مری کیمپ میں کوئی چار سو سے پانچ سو مکانات ہیں اور یہاں زیادہ تر مری قبیلے کے لوگ آباد ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق یہاں نواب خیر بخش مری کا قلعہ ہے جہاں خود ساختہ جیل اور ٹارچر سیل قائم تھے۔انھوں نے کہا ہے کہ وہاں پاکستان کا جھنڈا لہرا دیا گیا ہے اور پولیس چوکی قائم کر دی گئی ہے۔ ڈی آئی جی نے بتایا ہے کہ مری کیمپ زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو نواب خیر بخش مری کے ساتھ افغانستان سے آئے تھے اور سب مری قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس چھاپے میں انھوں نے بتایا ہے کہ بھاری اسلحہ جس میں راکٹ ،کلاشنکوف وغیرہ شامل ہیں برآمد ہوا ہے اور پندرہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ اس بارے میں نواب خیر بخش مری کے بیٹے اور رکن صوبائی اسمبلی بالاچ مری نے ٹیلیفون پر بتایا ہے کہ یہ سب جھوٹ ہے۔ انھوں نے کہا ہے بلوچ حقوق کے لیے جس کسی نے بھی آواز اٹھائی ہے اس کو غدار ٹھہرایا گیا ہے اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ انیس سو ستر اور اس سے پہلے سے لیکر اب تک جھوٹ کی بنیاد پر کام کیے گئے ہیں۔ مری کیمپ پر چھاپے کے حوالے سے انھوں نے کہا ہے کہ یہاں زیادہ تر مزدور طبقہ رہتا ہے۔یہ لوگ کوئی کروڑ پتی نہیں ہیں اگر ان کے پاس پیسہ ہوتا تو یہ لوگ مزدوری نہیں کرتے۔ پولیس کے اس دعوے پر کے نواب مری کہ قلعے پر پاکستان کا جھنڈا لہرا دیا ہے بالاچ مری نے کہا ہے اگر فتح کرنا ہے تو کشمیر کو فتح کرو ہمیشہ بلوچستان کو فتح کرنے کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ آئے روز اسلحہ برآمد کرنے اور لوگوں کو گرفتار کرنے کے دعوے کیے جاتے ہیں انھوں نے کہا ہے کہ یہ سب الزامات گھناونے عزائم کی نشاندہی کرتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||