سوئی میں فوجی چھاؤنی کی تعمیر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی فوج نے سوئی میں ایک نئی چھاؤنی بنانے کا اعلان کیا ہے تاہم فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ چھاؤنی کی تعمیر کا سوئی کے حالیہ واقعات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ فوج کے ترجمان بریگیڈیئر شاہ جہان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس چھاؤنی کی تعمیر پہلے سے طے تھی اوراس کی تعمیر میں کافی عرصہ لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ چھاؤنی کی تعمیر کے لئے سوئی میں چار سو ایکڑ زمین حاصل کی گئی ہے اور قانون کے مطابق زمین کی قیمت ادا کر دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ زمین بنجر اور ناکارہ تھی۔ سوئی میں اس ماہ کے اوائل میں ہتھیار بندوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان تصادم میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے اور سوئی گیس پلانٹ پر راکٹ حملوں کے بعد پاور پلانٹ اور فیکٹریوں کو گیس کی سپلائی بند کر دی گئی تھی۔ اس تصادم کے بعد سوئی میں فوج طلب کر لی گئی تھی۔ فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ سِول انتظامیہ کی درخواست پر فوج کو طلب کیا جا سکتا ہے۔ اس واقعے کے بعد سوئی میں صوبائی حکومت کی درخواست پر گیس پلانٹ کی حفاظت کے لئےفوج تعینات کی گئی تھی۔انہوں نے مزید بتایا کہ سوئی کے علاوہ کوہلو اور گوادر میں بھی چھاؤنیاں قائم کی جائیں گی۔ بلوچ قوم پرست رہنما صوبے میں نئی فوجی چھاؤنیاں بنانے کے مخالف ہیں اور اس اعلان پر نواب اکبر بگٹی کا کہنا ہے کہ اس چھاؤنی کی تعمیر کے لئے زمین زبردستی حاصل کی گئی ہے۔ ادھر بدھ کی شب صدر جنرل پرویز مشرف نے مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کی ہے جس میں بلوچستان کے مسئلے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سرکاری خبر رسان ایجنسے اے پی پی کے مطابق اس ملاقات میں صدر جنرل مشرف نے ملک کے سیاستدانوں سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لئے حکومت کی مدد کریں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سوئی اور دیگر اہم قومی تنصیبات کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا اور اس سلسلے میں ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ تمام مسائل کا حل باہمی صلاح و مشورے اور اتفاق رائے سے کیا جائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||