بلوچستان پاکستانی میڈیا میں شہ سرخیوں میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج کے اخباروں کا بھی بڑا موضوع بلوچستان کی صورتحال ہے۔ حکمران جماعت مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین نے بلوچ قائدین سے جو مشاورت شروع کی ہے اخباروں نے اسے نمایاں طور پر شائع کیا ہے۔ روزنامہ جنگ نے رپورٹ دی ہے کہ چودھری شجاعت حسین نے کراچی میں عطا اللہ مینگل اور شیر باز مزاری سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ بلوچستان کا احساس محرومی دور کریں گے اور وہاں پر اب کبھی آپریشن نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی حکمرانوں نے تاریخ میں پہلی بار بلوچستان کا مسئلہ سیاسی طور پر حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ دوسری طرف بلوچستان کے سابق وزیراعلی اور عطا اللہ مینگل کے بیٹے اختر مینگل کا بیان شائع ہوا ہے کہ چودھری شجاعت پر واضح کردیا ہے کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے وہ بگتی سے بات کریں اور یہ بندوق کی نوک پر کوئی بات چیت کرنے کو تیار نہیں۔ اسی طرح عطا اللہ مینگل کا بیان بھی شائع ہوا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کے واپس جانے تک مذاکرات بے نتیجہ رہیں گے۔ ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے بلوچ رہنما شیرباز مزاری ، جو آجکل عملی سیاست سے کنارہ کشی کرچکے ہیں، کا بیان شائع ہوا ہے کہ وہ بلوچستان کے مسئلہ پر کردار اد کریں گے۔ سابق وزیراعظم ظفراللہ جمالی نے بھی کہا ہے کہ سوئی کے معاملہ پر اگر ان سے ثالثی کے لیے کہا گیا تو وہ کردار اد کریں گے۔ نوائے وقت نے اس بات کو شہ سرخی کے ساتھ شائع کیا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے آج بلوچستان پر اعلی سطحی اجلاس طلب کرلیا جس میں حساس ادارے صدر مشرف کو صوبہ میں امن و امان کی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دیں گے۔ دوسری طرف جنگ کی خبر ہے کہ پاکستان ریلوے نے بلوچستان میں ریلوے سروس رات کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور ٹرینوں کے نظام الوقات میں تبدیلی کردی ہے۔ ڈیلی ٹائمز نے بلوچستان پر ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے ایک دلچسپ اداریہ تحریر کیا ہے۔ اخبار ، جو عام طور پر صوبائی خود مختاری کا حامی ہے اورلبرل نظریات رکھتا ہے، کہتا ہے کہ بلوچ رہنماؤں نے اپنے مطالبات بہت زیادہ بڑھا دیے ہیں اور وہ صوبہ کے لیے اپنے قدرتی وسائل کی مناسبت سے ایسی خود مختاری چاہتے ہیں جو دنیا میں زیادہ تر وفاق نہیں دے سکتے اور خاص طور پر ایک تیسری دنیا کے ملک۔ اخبار کا خیال ہے کہ چودھری شجاعت حسین کو بلوچستان کے رہنماؤں سے بات چیت کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اخبار کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گاجب تک وفاق کچھ لو کچھ دو کی پوزیشن میں نہ ہو اور دونوں فریقین کچھ دینے کے لیے تیار نہ ہوں۔ اخبار کا موقف ہے کہ اس لو دو کے لیے ضروری ہے کہ زمینی صورتحال وفاق کے حق میں تبدیل ہو اخبار کہتا ہے کہ حکومت کو موجودہ آئینی انتظام کے اندر رہتے ہوئے بلوچستان پر بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی کی بلوچو ں کے لیے ملازمتوں کے کوٹے اور صوبائی خود مختاری کی اہم سفارشات پر عمل کرنا چاہیے۔ اخبار کہتا ہے کوئی آپریشن تو خارج از امکان ہے لیکن امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا اور اسٹریٹجک مقامات کا تحفظ لازمی ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ اس بات پر کوئی مذاکرات نہیں ہوسکتے کہ وفاقی حکومت کا یہ حق ہے کہ وہ بلوچستان میں اہم قومی پراجیکٹس کی حفاظت کرے۔ نوائے وقت اخبار نے بھی بلوچستان کی صورتحال پر اداریہ لکھا ہے اور شجاعت حسین کے بلوچ رہنماوں سے مذاکرات شروع کرنے کو خوش آیئند قرار دیا ہے۔ پاکستان میں آغا خان بورڈ سے تعلیمی اداروں کا الحاق ایک متنازعہ معاملے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ مذہبی جماعتیں حکومت کی طرف سے اسکولوں کو آغا خان بورڈ (حکومتی بورڈز کے بجائے) کے تحت امتحان دینے کی اجازت دینے کی سخت مخالفت کررہی ہیں۔ آج نوائے وقت نے ایک خبر دی ہے کہ آغا خان بورڈ کو الحاق کے خواہشمند دو سو نجی اسکولوں کی درخواستیں موصول ہوگئیں۔ رپورٹ کے مطابق مارچ سنہ دو ہزار چھ میں بورڈ کے تحت نویں جماعت کا امتحان ہوگا جو پہلے صرف سرکاری بورڈز لیا کرتے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||