مینگل سے بات چیت بے نتیجہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی حکمران مسلم لیگ کے مرکزی رہنماؤں نے بلوچستان میں کشیدگی کم کرنے اور مسائل حل کرنے کے متعلق سردار عطاءاللہ مینگل سے ملاقات کی جو بظاہر بے نتیجہ رہی۔ مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین اور جنرل سیکریٹری مشاہد حسین منگل کے روز بات چیت کے لیے خصوصی طور پر کراچی آئے تھے۔انہوں نے سردار شیر باز مزاری اور صوبہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام محمد یوسف سے بھی علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ سردار مینگل سے ملاقات کے بعد چودھری شجاعت حسین نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملاقات مثبت رہی اور وہ امید کرتے ہیں کہ مسائل بات چیت سے حل ہوں گے۔ تاہم انہوں نے اپنی پرامیدی کی تفصیلات نہیں بتائیں۔ سردار عطاءاللہ مینگل نے حکومتی نمائندوں سے بات چیت کے بعد بی بی سی خصوصی ملاقات میں بتایا کہ حکومت سے بندوق کے سائے میں مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ ان کے مطابق فوج اور دیگر سکیورٹی ایجنسیز کی چوکیاں ختم کرکے انہیں واپس بھیجنے اور ان کی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی کے گرفتار کارکنان کی رہائی ایسے اقدامات ہیں جو ماحول کو مذاکرات کے لیے خوشگوار بنا سکتے ہیں۔ سردار مینگل کے مطابق انہوں نے حکومت پر واضح کیا ہے کہ ان کی جماعت حکومتی رویے کی وجہ سے پارلیمانی کمیٹی سے احتجاجی طور پر علیحدہ ہوئی تھی اور جب تک ماحول سازگار نہیں بنایا جائے گا وہ حکومت سے بات نہیں کریں گے۔ منگل کی شام گئے ڈیڑھ گھنٹے کے لگ بھگ جاری رہنے والی ملاقات کے بارے میں انہوں نے مزید بتایا کہ حکومتی نمائندوں نے ان سے سوئی کی صورتحال بہتر بنانے کے معاملے پر بات کی۔جس پر ان کے مطابق انہوں نے انہیں مشورہ دیا کہ خاتون ڈاکٹر کی آبرو ریزی کا معاملہ مقامی لوگوں کی خواہش کے مطابق حل کرنے اور گھر گھر تلاشی بند کی جائے اور سوئی کے مسائل اکبر خان بگٹی کے مشورے سے حل کیے جائیں۔ سردار مینگل نے ایک سوال پر کہا کہ اگر حکومت کی نیت مسائل حل کرنے کی ہو تو کوئی دیر نہیں۔ معاملہ کہا اٹکا ہوا ہے؟ اس سوال پر انہوں نے کہا کہ ’مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ شاید ہم ایک دوسرے کی زبان نہیں سمجھ رہے،۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ انگریزی کے اس محاورے پر عمل کرتے ہیں کہ اچھائی کی امید کریں اور بدترین صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار بھی رہیں۔Hope for the best and be prepare for the worst قبل ازیں جب سندھ کے صوبائی وزیر امتیاز شیخ اور دیگر مسلم لیگی رہنما اپنے مرکزی رہنماؤں کے ہمراہ سردار مینگل کی رہائش گاہ پر پہنچے تو میزبان کی درخواست پر انہیں مذاکرات میں شرکت سے روکا گیا۔ ادھر چودھری شجاعت حسین نے کراچی میں سردار شیر باز مزاری سے ملاقات کی اور انہیں بلوچستان کے مسائل حل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی درخواست کی جو انہوں نے قبول کرلی۔ حکمران جماعت کے سربراہ نے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام محمد یوسف سے بھی ملاقات کی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||