اعجاز مہر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |  |
 |  بلوچستان کے کئی علاقوں میں کشیدگی برقرار ہے۔ |
پاکستان کی حکمران مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے امید ظاہر کی ہے کہ صوبہ بلوچستان کا مسئلہ وہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ اپنی جماعت کے سیکریٹری جنرل سید مشاہد حسین کے ہمراہ کراچی ہوائی اڈے پر پہنچنے کے بعد صحافیوں سے مختصر گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا کہ وہ آج شام بلوچ قومپرست رہنماء سردار عطاءاللہ مینگل سے ملاقات کرے والے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ نواب اکبر خان بگٹی نے حکومت کے سویلین نمائندوں کو بے اختیار کہہ کر ملاقات سے انکار کردیا ہے تو اس پر چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ وہ جب نواب بگٹی کے پاس جائیں گے تو انہیں وہ انکار نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق وہ بگٹی سمیت تمام رہنماؤں سے ملاقاتیں کرنے والے ہیں۔ حکمران جماعت کے سربراہ نے کہا کہ حکومت کی خواہش ہے کہ بلوچستان میں بات چیت کے ذریعے کشیدگی ختم کرنے اور مسائل حل کرنے کی خواہاں ہے۔ اس کے لیے ان کا کہنا ہے کہ تمام فریقین کو ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر سوچنا چاہیے۔ ادھر ان دنوں کراچی میں ہی رہائش پذیر سردار عطاءاللہ مینگل نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ جب تک بلوچستان کے عوام پر فوج اور دیگر سیکورٹی ایجنسیز اپنی تانی ہوئی بندوقیں نہیں ہٹائیں گی، فورسز واپس نہیں جائیں گی اور گرفتار کارکن رہا نہیں کیے جائیں گے اس وقت مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ واضح رہے کہ پاکستان کے پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی ایک مشترکہ کمیٹی بھی بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے بنائی گئی تھی۔ اس کمیٹی کے قیام کے بعد بھی جب کشیدگی برقرار رہی اور کچھ تشدد کے واقعات بھی ہوتے رہے تو بلوچستان نیشنل پارٹی کے اراکین پارلیمان نے کمیٹی سے علحدگی اختیار کرلی تھی۔ |