سوئی میں فوجی آپریشن کاخوف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوئی میں جہاں گزشتہ رات بگٹی قبیلے کے مطابق فوج نے علاقے کا گھیراؤ کر لیا تھا، جمعہ کو کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا اور اطلاعات کے مطابق لوگوں کو قربانی اور نمازِ عید کی ادائیگی میں مشکلات درپیش رہیں۔ کوئٹہ سے صحافی ایوب ترین نے سوئی میں موجود مقامی صحافیوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ علاقے میں بڑے پیمانے پر فورسز کی موجودگی کی وجہ سے لوگوں میں شدید خوف ہراس پایا جاتا ہے۔ یہ اطلاعات بھی ملی ہیں کہ سوئی کا ملک کے دوسرے علاقوں سے رابطہ منقطع ہے اور لوگوں کو یقین ہے کہ فوج کسی بھی وقت کارروائی کر سکتی ہے۔ ادھر بلوچستان کابینہ کے وزیرِ داخلہ نے کہا ہے کہ سوئی میں لوگوں کی بڑی تعداد نے اسلحہ جمع کر لیا ہے جبکہ قبائل اس کی تردید کر رہے ہیں۔ اس سے قبل بلوچ سردار اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ فوج نے سوئی کے علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے اور وہ بگٹیوں کے گھروں کو مسمار کرنے کے لیے وہاں پہنچی ہے۔ اکبر بگٹی نے کہا کہ بگٹی قبیلے کے لوگ اپنی زمین کو نہیں چھوڑیں گے اور مادرِ وطن سے نقل مکانی پر مجبور کرنے کی ہر کوشش کے خلاف مزاحمت کریں گے۔ بی بی سی کے گفتگو کرتے ہوئے اکبر بگٹی نے کہا کہ ایک دن پہلے ان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ بگٹیوں کو علاقے سے نہیں نکالا جائے گا اور فوج بگٹی علاقے میں نہیں آئے گی۔ لیکن ایک دن بعد آرمی کی ایک برگیڈ نے جس کے پاس سترہ ٹینک ہیں، پوزیشنیں سنبھال لیں ۔ فوج کے علاوہ فرنیڑ کانسٹیبلری کے ہزاوں اہلکار پہلے ہی علاقے میں موجود ہیں۔ انہوں نےکہا کہ ان کو بتایا گیا ہے کہ سوئی کے گرد و نواح کے علاقے میں آپریشن کیا جائے گا اور وہاں لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا جائے گا۔ کیونکہ ’وہ‘ سمجھتے ہیں کہ وہاں بسنے والے غدار اور ناقابل بھروسہ ہیں اکبر بگٹی نے کہا کہ فوج اسی طرح کی کارروائی میں ملوث ہے جس طرح اسرائیلی اکبر بگٹی نے کہا کہ ’وطن ہمارا ہے، زمین ہماری ہے اور یہ ہم کو گھروں سے نکالنا چاہتے ہیں‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ بگٹی مزاحمت کس انداز میں کریں گے تو انہوں نے کہا کہ وہ ( بگٹی ) اس زمین کے مالک ہیں۔ مادرِ وطن کو کوئی خوشی سے چھوڑنا نہیں چاہتا۔وہ مزاحمت کریں گے‘۔ البتہ انہوں نے مزاحمت کی وضاحت نہیں کی۔ گزشتہ روز سوئی میں تعینات فوج نے گھر گھر تلاشی کا کام شروع کردیا تھا اور متعدد لوگوں کو حراست میں لے لیا تھا۔ اسلام آباد میں فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے فوجی آپریشن کے بارے میں خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ فوج کا ایک دستہ سوئی میں گیس کی تنصیبات کی حفاظت کے لیے پہنچا ہے۔ فوج کا ایک دستہ جمعرات کو علی الصبح کشمور سے سوئی پہنچا۔ جس کے بعد اطلاعات کے مطابق سوئی اور ڈیربگٹی کا ٹیلی فون ایکسچنج اور علاقہ کو بجلی کی ترسیل بند کر دی گئی ۔ شام گئے تک سوئی کا باقی ملک سے ٹیلی فون کے ذریعے رابط بحال نہیں ہو سکا تھا تاہم ڈیرہ بگٹی کا ٹیلی فون ایکسچنج شام کو کھول دیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||