گیس کی فراہمی بحال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوئی سدرن گیس کمپنی کے ڈپٹی جنرل مینیجر ماجد ملک نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے دو صوبوں، سندھ اور بلوچستان میں گزشتہ چھ روز سے جاری گیس کی لوڈشیڈنگ ختم کر دی گئی ہے اور عید پر عوام کو کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ جمعرات کے روز بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سوئی گیس فیلڈز سے معطل کردہ فراہمی پائپ لائن کی مرمت کے بعدگزشتہ رات کو بحال ہوگئی جس سے صورتحال معمول پر آ چکی ہے۔ دونوں صوبوں کو گیس فراہم کرنے والی کمپنی سوئی سدرن نے سنیچر پندرہ جنوری سے لوڈ شیڈنگ کا اعلان کیا تھا۔ جس کی وجہ بلوچستان کے شہر سوئی میں واقع گیس فیلڈ پر بعض گروپوں کی جانب سے حملوں کے بعد پائپ لائن کو نقصان پہنچنے کے بعد فراہمی میں تعطل بتائی گئی تھی۔ سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام کے دعوے کے بعد کراچی میں لیاری کے علاقے میں ایک جاننے والے سے پوچھا تو ان کے گھر فراہمی معمول کے مطابق تھی۔ جبکہ گارڈن کے علاقے سے ایک شخص نے بتایا کہ ان کے گھر اب بھی دباؤ کم ہے البتہ گیس آ رہی ہے۔ ایسی صورتحال کے بارے میں ماجد ملک سے جب دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ ان کے نظام میں دباؤ ٹھیک آ رہا ہے اور اگر کسی صارف کے ہاں کوئی مسئلہ ہوگا تو یہ ان کے اپنے اندرونی پائپ لائن کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ واضح رہے کہ کمپنی کے چودہ جنوری کو اعلان کردہ اوقات کار میں گیس کے کم دباؤ یا پھر فراہمی بند رہنے کی تفصیل بتائی گئی تھی۔ کمپنی نے اپنے گھریلو اور دیگر صارفین کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اعلان کردہ اوقات کار کے دوران چولہے،گیس ہیٹر اور گیزر وغیرہ بند رکھے جائیں۔ چھ روزہ لوڈشیڈنگ سے صوبہ سندھ کے شہر کراچی، حیدرآباد، کوٹڑی، نواب شاہ، سکھر اور لاڑکانہ جبکہ صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ، پشین، مستونگ اور زیارت گیس کی فراہمی میں تعطل یا دباؤ کی کمی سے متاثر ہوئے۔ ادھر صوبہ پنجاب اور سرحد کو گیس فراہم کرنے والی کمپنی سوئی ناردرن نے بھی اپنے صارفین سے کہا تھا کہ وہ گیس کی فراہمی معمول پر آنے تک گیزر اور ہیٹر استعمال نہ کریں۔ سوئی ناردرن نے لوڈ شیڈنگ کا اعلان تو نہیں کیا تھا البتہ فراہمی معول پر آنے تک گیس کا دباؤ کم رہنے کا اعلان کیا تھا۔ ماجد ملک نے صوبہ پنجاب اور سرحد میں گیس کی فراہمی معمول پر آنے کے بارے میں کہا ان کا اس کمپنی سے تعلق تو نہیں ہے لیکن ان صوبوں میں بھی سوئی گیس فیلڈز سے فراہمی معطل ہونے کی وجہ سے دباؤ کم ہوا تھا اور جب سوئی سے فراہمی معمول پر آ گئی ہے تو وہاں بھی صورتحال معمول پر آ جائے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||