’ کھالوں کے کیمپ نہیں لگیں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کے سٹی پولیس چیف نے اکیس جنوری کو عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے جانوروں کی کھالیں جمع کرنے کے لیے کیمپ لگانے پر پابندی عائد کردی ہے۔ کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر طارق جمیل کی زیر صدارت اجلاس میں شریک مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے منسلک امدادی اداروں کے نمائندوں سے پیر کے روز مشاورت کے بعد ایک ضابطہ اخلاق تشکیل دیا گیا ہے۔ اجلاس میں موجود ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس (آپریشنز) سید مشتاق شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جاری کردہ ضابطہ اخلاق کے مطابق کوئی بھی تنظیم یا گروپ سڑکوں پر کھالیں جمع کرنے کے لیے کوئی کیمپ نہیں لگائے گا۔ یہ ضابطہء اخلاق حکمران اتحاد میں شامل متحدہ قومی موومنٹ کے خود ساختہ جلاوطن رہنماء الطاف حسین کے اس خطاب کے محض دو دن بعد جاری کیا گیا ہے جس میں انہوں نے اپنی جماعت کے جنرل ورکرز اجلاس میں ہدایت کی تھی کہ اس مرتبہ تمام مذہبی جماعتوں سے زیادہ کھالیں جمع کرنے کا ریکارڈ قائم کیا جائے۔ ماضی میں متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں کی مذہبی جماعتوں کے کارکنوں سے کھالیں جمع کرنے اور بعض مرتبہ چھیننے کے معاملے پر مسلح جھڑپیں بھی ہوتی تھیں۔ ڈی آئی جی مشتاق شاہ نے کہا کہ جس طرح ماضی میں گاڑیوں پر لاؤڈ سپیکر لگا کر کھالیں جمع کرنے کے لیے اعلانات اور جذباتی تقاریر کرکے لوگوں کو کھالیں دینے کے لیے اکسایا جاتا تھا اب اس کی اجازت نہیں ہوگی۔ ڈی آئی جی نے مزید بتایا کہ گھر گھر جاکر کھالیں جمع کرنے پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ البتہ ان کے مطابق متعلقہ تنظیمیں اپنے دفاتر کی چار دیواری کے اندر کیمپ لگا کر رضا کارانہ طور پر کھالیں جمع کرنے کی مجاز ہوں گی۔ سید مشتاق شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مرتبہ کھالیں چھیننے اور جھپٹنے کی اجازت کسی کو نہیں ہوگی اور شہر میں تین ہزار کے لگ بھگ اضافی پولیس فورس مقرر کی جائے گی۔ واضح رہے کہ سوا کروڑ آبادی کے شہر کراچی میں ہر سال عیدالاضحیٰ کے موقع پر تین روز کے دوران ڈھائی سے تین لاکھ جانوروں کی قربانی دی جاتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||