فوج کی ’منڈی مویشیاں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پہلی بار ’منڈی مویشیاں‘ میں کریڈٹ کارڈ پر قربانی کے جانور خریدنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ اس منڈی کا انتظام بھی پاکستان فوج نے سنبھال رکھا ہے۔ منڈی میں مراد ڈیری فارم والوں نے کریڈٹ کارڈ پر جانوروں کی فروخت کا بینر لگایا ہوا ہے اور انہوں نے عارضی طور پر مشینیں بھی نصب کر رکھی ہیں۔ کئی ایکڑوں پر قائم اس منڈی میں کریڈٹ کارڈ پر جانور خریدنے کی سہولت کے بارے میں تادم تحریر کسی اور سٹال پر ایسی سہولت کے میسر ہونے کا علم نہیں ہوا۔ لیکن منتظمین کے مطابق آئندہ دنوں میں کچھ اور سٹالز جبکہ آئندہ سال اس طرح کی سہولت کئی ڈیری فارمز والے فراہم کریں گے۔ مراد فارم کے مینیجر نے بی بی سی کو بتایا کہ کریڈٹ کارڈ پر جانور خریدنے کی سہولت فراہم کرنے سے اب لوگوں کا یہ ڈر اور خوف ختم ہو جائے گا کہ بھاری رقوم کہیں ان سے لوٹی نہ جائیں۔ان کے مطابق ماضی میں کئی لوگوں کو لوٹ لیا جاتا تھا یا پھر وہ جیب کتروں کے ہتھے چڑھ جاتے تھے۔ قربانی کے جانور خریدنے کے لیے موجود بیشتر گاہکوں کے پاس کریڈٹ کارڈ تو نہیں تھا لیکن یہ اپنی نوعیت کی انوکھی سہولت ضرور سمجھی جاتی ہے۔ پاکستان نیول ہاؤسنگ سوسائٹی کی زمین پر قائم کردہ اس عارضی منڈی مویشیاں کا تمام تر انتظام پاکستان فوج نے سنبھال رکھا ہے۔ لیفٹیننٹ مظہر نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کی شام تک یہاں ستر ہزار بیل، بچھڑے اور گائے جبکہ پچیس ہزار بھیڑ اور بکرے پہنچ چکے ہیں۔
اس موقع پر ایک درجن کے قریب ٹرک بھی پہنچے جن پر جانور لائے گئے تھے۔ لیفٹیننٹ مظہر کے مطابق آئندہ چند دنوں میں جانوروں کی تعداد دگنی سے بھی زیادہ ہو جائے گی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق منتظمین کو تقریباً پچاس لاکھ روپے آمدن کی توقع ہے۔ فوجی اہلکار کے مطابق ملک بھر سے بیوپاری اور ڈیری فارمز والے اپنے جانور اس منڈی میں لے آئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہر جانور کا اندراج ہوتا ہے اور ساڑھے تین سو روپے بیل وغیرہ جبکہ ڈیڑھ سو روپے فی بکرا عید تک فیس لی جاتی ہے۔ پنجاب سے آئے ہوئے بیوپاری محمد رفیق اور اللہ دتہ نے بتایا کہ منڈی کا ٹھیکہ فوج کے پاس ہے۔ ان کے مطابق پانی کی فراہمی، سیکیورٹی اور نظم و ضبط بھی فوج کے ذمے ہے۔ انہوں نے فوجیوں کے پہرے اور انتظام پر اطمینان ظاہر کیا اور کہا کہ انہیں جانوروں کی چوری یا لٹ جانے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ منڈی میں ملٹری پولیس کی گاڑیاں اور اہلکار باوردی گشت کرتے نظر آئے۔ فوج کی تعیناتی کے بارے میں ان کے انچارج لیفٹیننٹ مظہر سے جب پوچھا گیا کہ ٹھیکہ کس افسر کو ملا ہے تو وہ معلومات فراہم کرنے سے گریزاں نظر آئے اور کہا کہ انہیں ’ کمانڈ‘ سے حکم ملا کہ امن و امان کا انتظام کریں جو انہوں نے کر رکھا ہے۔ منڈی کے اندر گشت کرنے والے ایک اہلکار طارق محمود نے بھی ٹھیکیدار کا نام نہیں بتایا اور کہا کہ وہ ڈیوٹی کرتے ہیں اور باقی چیزوں سے انہیں کوئی غرض نہیں۔ اس عارضی منڈی مویشیاں میں جانوروں کو سجانے کا سامان، ہوٹل، گھاس کاٹنے کی موٹر مشینیں اور ضرورت زندگی کی تمام اشیاء کی دکانیں اور جانوروں کے ڈاکٹر بمع ادویاء جگہ جگہ سٹال لگائے نظر آئے۔ فوج کے انتظام سے لوگوں کو چوری چکاری کا تو خطرہ نہیں رہا لیکن ملک بھر کے مختلف سویلین اداروں میں فوجیوں کی تقرریوں کے بعد مال مویشیوں کی منڈی کا انتظام بھی فوج کے سنبھالنے سے ان پر تنقید میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||