بندوقوں کے سائے میں نمازِعید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں عیدالفطر کی نماز سیکیورٹی کے سخت انتظامات میں ادا کی گئی۔ملک بھر میں مختلف مساجد کے باہر مسلح پولیس اہلکار اور سیکیورٹی گارڈ کھڑے دکھائی دیئےگئے۔ پاکستان میں تشدد آمیز کارروائیوں کا زیادہ تر نشانہ شیعہ مسلمانوں اور دیوبندی مسلمانوں کی عبادت گاہیں بنتی رہی ہیں اس لیے عید پر پولیس نے دیو بندی اور شیعہ مسلمانوں کی مساجد اور امام بارگاہوں کی حفاظت کا خصوصی انتظام کیا تھا۔ مختلف مساجد میں نمازیوں کی جامہ تلاشی لی گئی اورکئی مسجدوں کے قریب کاروں اور موٹرسائیکلوں کی پارکنگ منع تھی۔ لاہور کے ایس ایس پی آپریشن آفتاب چیمہ نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے لاہور کی مساجد اور امام بارگاہوں کو سیکیورٹی کے لحاظ سے تین درجوں میں تقسیم کر دیا تھا اور اولین ترجیح میں لاہور کی تمام امام بارگاہیں، شیعہ اور دیوبندی مسلک کی مساجد اور مرکزی مقام پر بڑی عبادت گاہوں کو شامل کیا گیا تھا۔ اس سطح کی ہر مسجد اور امام بارگاہ پر کم ازکم چار اور زیادہ سے زیادہ بیس مسلح افراد کی نفری تعینات کی گئی۔ سیکورٹی کے نکتہ نظر سے دوسری درجے کی مساجد کے باہر کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ دس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا جبکہ تیسرے درجے کی مسجدوں کی انتظامیہ کو نجی سیکورٹی گارڈوں کے بندوبست کی ہدایت کر دی گئی تھی۔ لاہور میں مال روڈ پر واقع مسجد شہداء اور اس کے سامنے عید کی نماز ادا کرنے والوں کی حفاظت کے لیے بیس سے زائد مسلح اہلکار چاروں طرف بندوقیں سیدھی کیے پہرہ دے رہے تھے۔ پاکستان کے شہریوں کو اس سے ملتے جلتے مناظر ملک کی کئی مسجدوں میں نظر آۓ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||