BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 January, 2005, 17:19 GMT 22:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بگٹی کے بیٹے اور پوتے پر بھی مقدمہ

سوئی
ملزمان میں نواب اکبر خان بگٹی کا بیٹا اور پوتا بھی شامل ہیں۔
بلوچستان کے قصبے سوئی میں پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے چھتیس افراد کے خلاف گیس پلانٹ پر حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔ ملزمان میں بگٹی قبیلے کے سربراہ نواب اکبر خان بگٹی کا ایک بیٹا اور پوتا بھی شامل ہیں۔

سوئی میں پولیس کے مطابق ان افراد کے خلاف یہ مقدمہ گیس پلانٹ کی حفاظت کے لیے مامور ڈیفنس سروسز گروپ کے صوبیدار میجر محمد خان نے درج کروایا ہے۔

ان افراد پر جن میں اکثریت وڈیروں کی بتائی جاتی ہے دفعہ تین سو دو، تین سو چوبیس اور تین سو پینتالیس کے تحت مقدمہ درج کروایا گیا ہے۔

ملزمان میں نواب اکبر خان بگٹی کا بیٹا جمیل اکبر بگٹی اور ان کا پوتا براہمدغ بگٹی بھی شامل ہیں۔ البتہ آخری اطلاعات تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

اس ماہ کے اوائل میں سوئی پلانٹ میں تعینات ایک خاتون ڈا کٹر کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعے کے بعد نامعلوم افراد اور سکیورٹی فورسز کے درمیان مارٹر اور را کٹوں کا تبادلہ ہوا تھا۔ ان جھڑپوں میں آٹھ افراد جن میں تین فوجی بھی شامل تھے ہلاک ہوگئے تھے۔

ادھر حکام کا کہنا ہے کہ سوئی پلانٹ کی مرمت مکمل کر لی گئی ہے اور اس نے کام شروع کر دیا ہے۔ البتہ حکام کے مطابق گیس پریشر مناسب سطح تک پہنچنے میں دو سے تین روز لگ سکتے ہیں۔

پلانٹ کی بندش سے ملک بھر میں لاکھوں گیس صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد