 |  سوئی میں بڑے فوجی آپریشن کی تیاری کر لی گئی ہے: بگٹی |
بلوچستان کے قصبے سوئی میں فوج کی ایک بڑی تعداد کی تعیناتی کے بعد گھر گھر تلاشی کا کام شروع کردیا گیا ہے اور متعدد لوگوں کو حراست میں لیے جانے کی بھی اطلاع ہے۔ کوئٹہ سے صحافی ایوب ترین کے مطابق جمہوری وطن پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان میر ہمایوں خان مری نے جمعرات کو کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ فوج نے سوئی میں ایک بڑے آپریشن کی تیاری کر لی ہے اور وہاں ٹینک بھی پہنچا دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا سوئی میں فوج کی تعیناتی کے فوراً بعد گھر گھر تلاشی کا کام شروع کر دیا گیا ہے اور بہت سے لوگوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے فوجی آپریشن کے بارے میں خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ فوج کا ایک دستہ سوئی میں گیس کی تنصیبات کی حفاظت کے لیے پہنچا ہے۔ فوج کا ایک دستہ جمعرات کو علی الصبح کشمور سے سوئی پہنچا۔ جس کے بعد اطلاعات کے مطابق سوئی اور ڈیربگٹی کا ٹیلی فون ایکسچنج اور علاقہ کو بجلی کی ترسیل بند کر دی گئی ۔ شام گئے تک سوئی کا باقی ملک سے ٹیلی فون کے ذریعے رابط بحال نہیں ہو سکا تھا تاہم ڈیرہ بگٹی کا ٹیلی فون ایکسچنج شام کو کھول دیا گیا تھا۔ ایوب ترین نے بتایا کہ ایک فوجی دستہ فرنٹیئر کانسٹبلری ور فوج ہیلی کاپٹروں کی حفاظت میں سوئی پہنچا۔ بگٹی قبیلے کے سردار نواب اکبر بگٹی سے جب رابط قائم کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ فوج کے سوئی میں تعیناتی سے علاقے میں خوف ہراس پھیل گیا ہے۔ گزشتہ روز پولیس نے نواب اکبر بگٹی کے پوتے سمیت چالیس افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا تھا۔ |